ہمارے رویے… عامر انور

عامر انور
ہمارے روئیے
نومبر کا مہینہ موسمی تبدیلیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ کراچی بھی ٹھنڈی ہواؤں کی زد میں ہے جس سے اہل کراچی کو گرم کپڑے پہننے کا موقع مل گیا۔ موسم کی شدت میں سردی بڑھ رہی ہے جب کہ سیاسی درجہ حرارت بڑھتا جارہا ہے۔ گذشتہ دس دنوں میں تین اہم واقعات وقوع پذیر ہوئے۔
* تحریک لبیک کے امیر خادم حسین رضوی کی موت۔
* بیگم شمیم (والدہ نواز شریف ) صاحبہ کا انتقال۔
* بختاور بھٹو زرداری صاحبہ کی منگنی۔
ان تینوں واقعات پر ہونے والا ردعمل ہماری مجموعی نفسیاتی حالت کی قلعی کھول گیا۔ اور اس ردعمل کے بعد ہم متوازن حالت کو کھو چکے ہیں اور من حیث القوم ہمیں اپنے روئیوں کا ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
آئیے سب سے پہلے خادم حسین رضوی صاحب کی رحلت پر ہونے والے ردعمل کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔
رضوی صاحب کے طرز تخاطب، ان کے افکار اور سوچ سے ہر طور پر اختلاف ممکن ہے اور میں ذاتی طور پر اس پلیٹ فارم سے تیار ہونے والی فوج سے خوفزدہ اور متفکر ہوں۔ اور ان کی سوچ سے کلیتاً اختلاف رکھتا ہوں۔
لیکن جب کسی انسان کا وقت پورا ہوجائے تو اس کی اچھائی برائی اس کے ساتھ دفن ہوجاتی ہیں۔ اس کے بعد رخصت ہوجانے والے کی ذات پر میمز، طنز کے نشتر اور غیر اخلاقی پوسٹ کا کیا جواز رہ جاتا ہے۔ دکھ اس بات کا ہے کہ اس عمل میں وہ طبقہ ملوث رہا جسے میں ہمیشہ امید کے ابھرتے سورج کے طور پر دیکھتا ہوں یعنی لبرل اور سیکیولر طبقہ ۔
یہ طبقہ پڑھا لکھا ہونے کے ساتھ ہوشمند اور مکالمہ کا ہامی ہوتا ہے۔ لیکن اس طبقہ کی جانب سے غیر متوقع طرزعمل نے شدت پسندوں کو موقع فراہم کیا کہ وہ اس معاشرے میں اپنے منفی اثرات کو پھیلانے کے لئے جواز تراش سکیں۔
بعض دوست اپنی بات کے حق میں یہ دلیل دیتے نظر آئے کہ ان کے نظریات نے ایک ایسے ہجوم کو تشکیل دیا جو مکالمہ اور برداشت سے خالی اور اپنے نظریات سے اختلاف کرنے والوں کو قابل گردن زنی گردانتے ہیں۔
ایسے تمام دوستوں سے گذارش ہے کہ افکار اور سوچ پر سوال اٹھانا اور مرنے کے بعد ذات کو ہدف تنقید بنانے میں اگرچہ باریک فرق ہے لیکن اس کی پاٹ اور خلیج اس قدر وسیع ہے کہ اگر ہم اس کو نا جان سکے تو پھر ایک سیکولر شدت پسندوں کا گروہ وجود میں آسکتا ہے۔

اب ہم بیگم شمیم اختر صاحبہ کے انتقال پرملال کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کی وفات پر پاکستان تحریک انصاف اور اس کے مخصوص نظرئیے سے جڑے طبقہ کی جانب سے جو ردعمل دیکھنے، سننے اور پڑھنے کو مل رہا ہے اس کے بعد یہ حوصلہ بجھتے ہوئے دئیے کی طرح پھڑ پھڑا رہا ہے کہ نوجوان کسی سیاسی تربیت سے گذر کر کندن ہورہے ہیں جہاں میت، قبر اور یوم حساب تک آپ سے نا بچ سکا۔ میت کی منتقلی پر افواہ ساز فیکٹری نے جس طرح اس عمل کو تضحیک کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد مرحومہ کی بچوں کی تربیت پر انتہائی افسوسناک اور غیر اخلاقی پوسٹ اور تبصروں نے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ اب زندہ تو درکنار مرکر بھی آپ انصافی قوم کے غضب سے بچ نہیں سکتے ۔
اس سے پہلے بیگم کلثوم نواز صاحبہ کو لے کر جو طوفان بدتمیزی مچایا گیا وہ ابھی کل کی ہی بات ہے ۔ اورآخر کار کلثوم نواز صاحبہ کو مرکر یقین دلانا پڑا کہ وہ واقعی بیماری سے لڑ رہی تھی۔

مضمون کے اختتامی حصے میں بختاور بھٹو زرداری صاحبہ کی منگنی ہر ہونے والے تبصروں اور میمز نے ایک دفعہ پھر مہر ثبت کی کہ تبدیلی کے نام پر قائم ہونے والی جماعت کی بنیادی تربیت محض ذات اور کردار کو بےلگام لفظوں اور تبصروں سے ننگا کرکے خودساختہ مزاح پیدا کرنا ہے ۔ بیچ چوراہے میں خواتین کے حقوق پر خود کو معتبر پیش کرنے والی پی ٹی آئی کے میڈیا ونگ کے مجاہدوں نے ننگ انسانیت کا جو ناچ پیش کیا اس سے بختاور صاحبہ اور ان کے ہونے والے شوہر نامدار کو تو کوئی فرق پڑھنے سے رہا لیکن میرے جیسے لاکھوں لوگوں کے آگے قوم یوتھ کا چہرہ عیاں سے عیاں تر ہوتا جارہا ہے۔

آخر میں عرض ہے کہ اختلاف نظریات کا ہوتا ہے نا کہ شخصیات کا۔ ہمیشہ اپنی اچھائیوں پر خود کو نمایاں کریں ناکہ خود ناٹے ہوکر چھوٹوں کی طرف اشارہ کیا جائے کہ یہ تو ہم سے بھی چھوٹے ہیں۔
ہم سب کو اپنے اندر وسعت، حوصلہ اور برداشت پیدا کرنی چاہئے ہے اور بحث فکری اور تعمیری ہو ناکہ ذات اور شخصیت موضوع بحث ہو۔
✍🏻 عامر انور ۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں