جھوٹ, مکاری اور فریب کا سرکس.. اسلم خان

تحریر : محمد اسلم خان کھچی ایڈووکیٹ
آج ملتان میں جھوٹ, فریب, مکاری, عیاری, دغابازی, دینی دغابازی کا سرکس سجا. جس میں جنوبی کے 15 اضلاع کے لوگ شریک ہوئے. کئی دن سے تیاریاں جاری تھیں. لوگوں سے دیہاڑیاں طے کی جا رھی تھیں. کھیل تماشہ کے ساتھ ساتھ کھلانے پلانے کے وعدے بھی کیئے جا رھے تھے.
بڑے بڑے سیاسی خاندان رات دن ایک کیئے ہوئے تھے. مخدوم احمد محمود صاحب ایک ہفتے سے ملتان میں جلسے کی تیاریوں میں مشغول تھے. ایک محتاط اندازے کے مطابق 60 سے 70 ہزار لوگوں کی بھرپور شرکت کی توقع کی جا رھی تھی . جنوبی پنجاب کا جلسہ پی ڈی ایم کی امیدوں کا مرکز تھا. کیونکہ پاکستان کی سیاست کے تمام بڑے نام جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں.آصفہ بھٹو زرداری صاحبہ آج کے جلسے کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے شرکت کیلئے خصوصی طیارے سے تشریف لائیں لیکن وہ مایوس واپس گئیں.
جنوبی پنجاب کو پاکستان کی سیاست میں کنگ میکر کا درجہ حاصل ھے لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود آج کا جلسہ ملتان کی تاریخ کا فلاپ ترین شو تھا. 7 یا 8 ہزار لوگوں کی شرکت سے میزبانوں کے چہرے مرجھا گئے. انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کیلئے سٹیڈیم میں جلسہ کرنے کی اجازت دے دی لیکن سیاسی پارٹیوں نے کم تعداد کی خفت مٹانے کیلیے گھنٹہ گھر چوک میں جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا .
اگر کسی نے ملتان گھنٹہ گھر چوک کا وزٹ کیا ہو تو انہیں اندازہ ہو گا کہ گھنٹہ گھر چوک ایک چھوٹی سی جگہ ھے جو ایک ہزار لوگوں کا بوجھ بھی برداشت نہیں کر سکتی. ملتان سمیت جنوبی پنجاب کی عوام نے انہیں مسترد کر دیا ھے .یہ جلسہ صرف ملتان کا نہیں تھا. اس میں مظفر گڑھ, ڈیرہ غازی خان, لیہ, کوٹ اڈو, تونسہ,ڈیرہ اسماعیل خان , چشتیاں, بہاولنگر, رحیم یار خان, بہاولپور, لودھراں, خانیوال, وہاڑی, پاکپتن ,بوریوالہ ,ٹبہ سلطان پور جیسے کئی علاقوں کے لوگ شامل تھے. لیکن تمام ڈسٹرکٹ کے معروف سیاستدان دس ہزار لوگ بھی اکٹھا کرنے میں ناکام رھے. پی ڈی ایم کا یہ الزام بھی خفت مٹانے کی کوشش ھے کہ گورنمنٹ نے دوسرے علاقوں سے آنے والے لوگوں کو روکنے کیلئے کنٹینر لگائے. میں خود اس بات کا عینی شاہد ہوں کہ کسی بھی داخلی راستے پہ کوئی کنٹینر نہیں تھا.
کل مجھے وہاڑی جانے کا اتفاق ہوا.آج واپسی پہ مجھے کسی سڑک پہ کوئی کنٹینر نظر نہیں آیا. بلکہ میں یہ سب دیکھنے کیلئے گھنٹہ گھر چوک تک گیا ,جہاں جلسہ ہونا تھا لیکن کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی گئی تھی .پچھلے تین دن سے گیلانی صاحب کے بیٹوں نے قاسم باغ سٹیڈیم پہ قبضہ کیا ہوا تھا . گورنمنٹ کورونا کی وجہ سے عدالتی احکامات پہ عمل کرتے ہوئے سٹیڈیم میں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دے رھی تھی لیکن گیلانی برادران بضد تھے. بالآخر ریاست نے طاقت استعمال کرتے ہوئے گیلانی برادران کو گرفتار کرتے ہوئے سٹیڈیم خالی کرا لیا. شاید انہیں ریاستی طاقت کا پہلی بار اندازہ ہوا ھے کیونکہ ہمیشہ انہوں نے نورا کشتی والی حکومتیں پیپلزپارٹی یا نون لیگی حکومتیں دیکھی ہیں. پہلی بار ریاستی طاقت سے واسطہ پڑا تو انہیں یقین ہو گیا کہ ریاست بہت طاقتور ہوتی ھے .
محترم جناب یوسف رضا گیلانی صاحب پاکستان کے ایک مایہ ناز اور محترم سیاستدان ہیں. ان کے سخت مخالفین بھی انکا نام بڑے احترام سے لیتے ہیں.میں خود انکا بڑا احترام کرتا ہوں. شریف النفس اور وضعدار انسان ہیں. انکی ساری زندگی شرافت اور سادگی سے مزین ھے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ھے کہ انکے بیٹوں نے کئی بار انکی عزت خاک میں ملانے کی کوشش کی ھے.
ریاست کی رٹ چیلنج کرنا آسان نہیں ہوتا. جب ریاست اپنی رٹ قائم کرنے پہ آ جائے تو بگٹی جیسے سردار بے موت مارے جاتے ہیں. بھٹو جیسے ناقابل تسخیر کا دعویٰ کرنے والوں کا جنازہ تک نہیں پڑھا جاتا. جو کہا کرتے تھے کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو ہمالیہ روئے گا . لیکن جب مرے تو جنازہ پڑھنے والا کوئی نہ تھا. ریاست کو للکارنے والے مولانا فضل الرحمان سے زیادہ طاقتور مولانا عبدالرشید ساتھیوں سمیت فاسفورس کی آگ میں جل کے راکھ ہو گئے.
جلسے کی بات کر لیں تو مایوس کن جلسہ تھا .جتنے لوگ آج جلسے میں موجود تھے .گھنٹہ گھر پہ اس سے زیادہ تو محرم کی عزاداری میں جمع ہو جاتے ہیں .گھنٹہ گھر چوک میں اگر ایک گاڑی بھی خراب ہو جائے تو ٹریفک بلاک ہو جاتا ھے. آج کے جلسے سے ثابت ہوتا ھے کہ جنوبی پنجاب نے پی ڈی ایم کو مکمل طور پہ مسترد کر دیا ھے. گیارہ جماعتیں مل کے بھی 11000 لوگ اکٹھے نہیں کر سکیں.
مریم صفدر صاحبہ کی وھی گھسی پٹی تقریر کہ
” کہ دنیا میں کتنا غم ھے…. میرا غم کتنا کم ھے ” .
انہوں نے بڑا احسان کیا کہ لندن سے پارسل شدہ دادی کو ڈبے سمیت دفنا کے چارٹر پلین کے ذریعے ملتان کے دکھی عوام کی خدمت کرنے کیلئے آئیں. ملتان کے مایوس عوام ان کے اس احسان کو زندگی بھر نہیں بھلائیں گے.
محترمہ آصفہ بھٹو زرداری صاحبہ بھی سپیشل چارٹر پلین سے 7 ..8 ہزار لوگوں سے خطاب کرنے کیلئے لاکھوں روپے خرچ کر کے کراچی سے ملتان آئیں.
آج کل کے جلسوں کی بڑی دلچسپ بات یہ ھے کہ گیارہ جماعتوں کے لیڈر ایک ہی کنٹینر پہ کھڑے ہو کے ایک دوسرے کے خلاف تقریریں کرتے ہیں . الزام لگاتے ہیں. پیپلزپارٹی, ن لیگ پہ الزام لگاتی ھے. ن لیگ, پیپلزپارٹی پہ الزام لگاتی ھے لیکن دونوں پارٹیوں کے لیڈران سر جھکائے شرمندہ شرمندہ سے ایک دوسرے کو تکتے رھتے ہیں.
عمران خان نے انکو کہاں پہنچا دیا کہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ایک ھی کنٹینر پہ ایک دوسرے کا دکھ بانٹنے میں لگے ہیں. آج مجھے اس وقت ہنسی کا شدید دورہ پڑا جب محترمہ مریم صفدر صاحبہ نے جناب پرویز مشرف صاحب کی بات کی کہ
” کسی کے باپ کی جرات نہیں تھی کہ مشرف صاحب کو ایک دن بھی جیل رکھ سکے ”
اصل میں انہوں نے پیپلزپارٹی کو چارج شیٹ کیا کیونکہ زرداری اور گیلانی صاحب نے ھی مشرف صاحب کو گارڈ آف آنر دے کے رخصت کیا تھا اور وہ یہ بھی بھول گئیں کہ نواز شریف کی حکومت نے ھی مشرف صاحب کو باہر بھیجا تھا. حیرانی ھے کہ ن لیگ نے کیسے کیسے ” چول ” سپیچ رائٹر رکھے ہوئے ہیں. حیرت اس بات پہ ھے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے بڑے لیڈران مریم صفدر صاحبہ کی طعنہ زنی پہ تالیاں بجاتے رھے اور عوام سر دھنتی رھی, ناچتی رھی, نعرے لگاتی رھی.
افسوسناک بات تو یہ ھے کہ ہماری قوم اخلاقی طور پہ دیوالیہ پن کا شکار ہو چکی ھے. سچ جھوٹ کی تمیز سے عاری ہوگئی ھے. اب اس میں پڑھے لکھے حضرات بھی شامل ہو گئے ہیں. جتنا مرضی سمجھا لیں تو انکا یہی جواب ہوتا ھے کہ نواز شریف نے کرپشن کی ھے. کوئی جرم تو نہیں کیا, مطلب اربوں ڈالر لوٹنا, لوگوں کے مستقبل تباہ کرنا کوئی جرم ھی نہیں بنتا.
فراڈ اور کرپشن میں سزا یافتہ مجرمہ ملک میں کرپشن کے خاتمے کی بات کرتی ھے.65000 ہزار کنال کے محل میں رہنے والی جھونپڑی والے کے مسائل پہ بات کرتی ھے تو یقین کریں یہ بھاشن سن سن کے کان عاجز آگئے ہیں. دیدہ دلیری سے بولے گئے جھوٹوں پہ خون کھولنے لگتا ھے. انکے چہرے بھیانک لگتے ہیں لیکن ہمارے عوام ان باتوں پہ بھی خوش ہو کے ناچتے ہیں.چونکہ من حیث القوم ہم خود کرپٹ ہو چکے ہیں اس لیئے کرپشن اور کرپٹ لوگ ہمیں اچھی لگتے ھیں .جس طرح حلوے کا نام سن کے مولوی کے منہ میں پانی جاتا ھے. اسی طرح کرپشن کا نام سن کے ہمارے منہ میں پانی آ جاتا ھے.
عمران خان نے گیارہ جماعتوں کا وہ حال کر دیا ھے کہ گیارہ جماعتوں کے لوگ ملتان کے عوام کے دیوانے ہو گئے ہیں. محمود اچکزئی جیسے افغانی بھی ملتانیوں کا درد محسوس کرنے لگے ہیں. مطلب ہمارا دکھ درد اب افغانستان کا دکھ درد بن گیا ھے.
محترمہ آصفہ زرداری صاحبہ نے نپی تلی تقریر کی. انکی تقریر سن کے لگا کہ اگر مستقبل میں انہیں موقع دیا گیا تو اچھی لیڈر ثابت ہو سکتی ہیں لیکن وہ بہت نفیس اور ڈیسنٹ قسم کی خاتون ہیں. وہ مریم صفدر صاحبہ کی مکاریوں کا مقابلہ نہیں کر سکیں گیں.مریم صفدر کے مقابلے میں بلاول بھٹو زرداری صاحب کو لانچ کرنا پڑے گا کیونکہ وہ جس طرح کے القابات سے نوازتے ہیں. وہ کسی اور کے بس کی بات نہیں اور نہ ھی عمران خان کے بس کی بات ھے. بلاول بھٹو زرداری صاحب سیکنڈ رانا ثناءاللہ صاحب ہیں. آنے والے دنوں میں شاید وہ رانا صاحب کو بھی مات دے جائیں.
مریم صفدر صاحبہ کی کسی تقریر میں کوئی جان نہیں رھی . انکے ہر لفظ سے این آر او کی بھیک نظر آتی ھے.ہر لفظ جھوٹ ,فریب اور مکاری پہ مبنی ھے.ن لیگ کا مریم صفدر نے وہ حال کیا ھے جو زرداری صاحب نے پیپلزپارٹی کا کیا تھا. آہستہ آہستہ ن لیگ کا مکمل طور پہ صفایا ہو رھا ھے.
ن لیگ کا جنوبی پنجاب میں کوئی مستقبل نہیں جبکہ گیارہ جماعتوں کے تعاون سے پیپلزپارٹی کم بیک کرتی نظر آرھی ھے .پی ڈی ایم کے آج تک ہونے جلسوں پہ نظر ڈالی جائے تو سب سے بڑی بینیفشری پیپلزپارٹی نظر آتی ھے. کیونکہ اسکا ووٹ بینک بڑھ رھا ھے ورنہ 2018 کے الیکشن میں تو ان کے پاس پولنگ ایجنٹس تک نہیں تھے.
مولانا فضل الرحمن صاحب بہت محتاط ہو گئے ہیں. نواز شریف کے بیانیے نے انکی سیاسی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ھے اس لئے وہ بڑی احتیاط سے آگے بڑھ رھے ہیں مولانا صاحب ن لیگ کو کوئی خاص لفٹ نہیں کرا رھے .گھاگ اور جہاندیدہ سیاستدان ہیں لیکن مریم صفدر کی مکاریوں سے مات کھا گئے اور دو تین جلسوں میں ھی اپنی عمر بھر کی سیاسی کمائی لٹا بیٹھے. انہیں یقین ہو گیا ھے کہ مریم صفدر صرف لوٹی دولت بچانے کیلئے صرف این آر او کے چکر میں ہیں .وہ یہ بھی جان چکے ہیں کہ مریم صفدر صاحبہ کا سیاست میں کوئی مستقبل نہیں اس لیئے اگلے جلسے میں وہ مزید محتاط ہو جائیں گے.

پی ڈی ایم کی تحریک منزل کی جانب رواں دواں ھے لیکن دم توڑتی نظر آرھی ھے. گوجرانوالہ کا جلسہ متاثر کن تھا لیکن اس کے بعد یہ مکمل طور پہ ناکام رھے. مریم صفدر کی سولو فلائیٹ نے ن لیگ کا ستیاناس کر دیا ھے. گلگت میں عبرت ناک شکست سے دوچار ہوئی ہیں. اگر وہ شہباز شریف یا حمزہ شہباز کو ساتھ ملا لیتیں تو شاید کچھ متاثر کن کارکردگی دکھا لیتیں لیکن تکبر, غرور , شاہانہ طرز زندگی اور ارد گرد سے ” میڈم پرائم منسٹر ” کی آنے والی آوازوں نے انکے آنکھ کان مکمل طور پہ بند کر دیئے ہیں. وہ حقیقت دیکھنے سے عاری نظر آتی ہیں.
دوسری طرف گورنمنٹ اپنا کام بہترین انداز سے کر رھی ھے. معیشت دن بدن بہتری کی جانب گامزن ھے لیکن عوام پریشان ھے. عوام مطلب سرکاری ملازم بہت پریشان ہیں کیونکہ کرپشن سے لوٹی دولت کا بیدردی سے حساب لیا جا رھا ھے جو کہ لوگوں کیلئے بہت پریشان کن ھے.
اب کورونا کی بات کر لیتے ہیں. اگلے تین ہفتوں میں جنوبی پنجاب کے دیہاتوں میں شرح اموات بہت بڑھ جائیں گیں کیونکہ آج جلسے میں جتنے لوگ آئے وہ دور دراز کے دیہاتوں سے لائے گئے اور دیہاتوں والے ہسپتالوں میں نہیں آتے اور نہ ہسپتالوں میں گنجائش ھے. سیاستدانوں کو نئی مصروفیت ملے گی. کسی کے جنازے میں شرکت تو کسی کی قل خوانی تو کسی کی فاتحہ خوانی . سیاستدان تیاریاں کرلیں کیونکہ دیہاتوں میں اگر کوئی ایم پی اے یا ایم این اے کسی جنازے میں شرکت کر لے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ ہماری میت کی بخشش ہو گئی ھے اور اچھا سیاستدان وھی سمجھا جاتا ھے جو کسی کے گھر فاتحہ خوانی کیلئے جائے. یہ رواج بھی ھے اور کسی بھی پارٹی کے ” کن ٹْٹے ” پراڈو میں بیٹھنے کے چکر میں لیڈر کو مجبور کر دیتے ہیں کہ اگر فاتحہ خوانی پہ نہ گئے تو گاؤں والے ناراض ہو کے اگلی بار ووٹ نہیں دیں گے.
کن ٹْٹے کو دو فائدے ہوتے ہیں. ایک تو وہ ڈھائی کروڑ کی گاڑی میں بیٹھنے کی سعادت حاصل کر لیتا ھے اور دوسرا غریب غربا پہ “رعب, شْعب ” پڑ جاتا ھے.
آج کے جلسے میں جو لوگ شریک ہوئے ہیں. ان سے درخواست ہیں کہ اپنے بڑھے بوڑھوں کی جان بچانے کیلئے خود کو کورنٹائن کر لیں کیونکہ اس بار چائنہ والا دو نمبر کورونا نہیں. ایک نمبر یورپین میٹیریل آیا ھے جو چند دن میں ہی فیصلہ کر دیتا ھے.
اللہ رب العالمین آپ سب کو محفوظ رکھے …آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں