دہلیز مسافر اور میں ۔۔شبانہ نوید

دہلیز ، مسافر اور میں

اے میرے دہلیز پہ بیٹھے مسافر
کچھ دیر تو ٹہرو
نہ تم سے پتہ پوچھوں نہ نشاں پوچھوں
تم مسافر ہو چلے جاو گے
بستی بستی ، قریہ قریہ گھوموگے
کچھ میں بھی تمہیں دے دوں
کیوں تہی داماں جاو
وہ لازوال خواب جو میں نے دیکھے
ان کی دمک آج بھی خیرہ کن ہے
لے لو اسے رکھ لو
کچھ خواہشوں کے جگنو ہیں
جو ٹمٹماتے رہتے ہیں ایک آس کی طرح
محبتوں کے کچھ مرجھائے گلاب ہیں
جن کے رنگ ، روپ ، خوشبو ماند پر گئے
مقام آج بھی وہی ہے
مہر بہ لب بیٹھے ہو
کچھ تو کہو
آنکھوں میں نمی ہے
میرے درد میں ضم ہو گئے؟
چھوڑو ان باتوں کو
لمحوں کے رشتوں میں
صدیوں کا ناطہ مت جوڑو
کچھ اور دوں؟
صحرا کی تنہائ اداسی جو روح میں بسی یے
بتاوں تمہیں؟
اسے لینا چاہو گے؟
نہی مسافر اب تم جاو
خوش گوار یادوں کے ساتھ
تم نے آنکھوں کے نمکین پانی کو
بہنے کا راستہ دیکھایا
جو منجمد ہو چکا تھا
تمہاری نرم دلی کی حدتوں سے
پگھل پگھل گیا
تم نے کچھ پل ہی سہی دلنواز دوستی نبھائ

تمہیں کہانیاں لکھنا پسند ہیں
میں نے تمہیں اپنی کہانی دی
تم اور کہانیاں چنو
کہانیوں کی فصل جب پک کر تیار ہو جائے
انہی صفحہ قرطاس پر مانند ستارے بکھیرو
ہر ایک کہانی کو جزبہ دل خون جگر سے لکھنا
یہ امانتیں ہیں ہم جیسوں کی
تمہیں سونپی ہیں معتبر جان کر
جاو اب دروازے مقفل کر دوں
ایسی نظروں سے مت دیکھو
تم جانے کے لئے آئے تھے
کوئ شہر دل بسانے نہی
محبت، مہربانی کے خانوں میں
تمہارا نام لکھ چھوڑوں گی
وہی شب و روز ہوں گے
وہی یادوں کے جلتے بجھتے رنگین قمقمے
ایک رنگین قمقمہ تمہارے نام کا بھی ہوگا۔

شبانہ نوید۔

اپنا تبصرہ بھیجیں