نواز شریف کی داستان واردات..حصہ اول

بشکریہ ” گارڈین ” برٹش میگزین
ایک بات طے ہے کہ آپ کچھ بھی کر لیں اس ملک سے سکینڈلز ختم نہیں ہوں گے۔

ہر دفعہ کوئی مداری کرتب دکھاتا ہے تو ہم سمجھتے ہیں اب اس سے بڑا کرتب اور کیا ہوسکتا ہے اور پھر ہم ہی غلط نکلتے ہیں کہ کچھ وقفے بعد اس سے بھی بڑی واردات ہوجاتی ہے اور ہم پچھلا کرتب بھول کر نئے کرتب میں کھو جاتے ہیں۔اب تو یاد بھی نہیں رہا کہ اس ملک میں کیا کیا سکینڈلز بریک ہوئے اور ان کا کیا بنا اور پرانے کھلاڑی دوبارہ ہم پر نازل ہوگئے ۔ پورے پانچ سال لگتے ہیں ایک حکومت اور اس کے کرپٹ کارناموں کو سامنے لانے اور لوگوں میں ان کے خلاف شعور پیدا کرنے میں۔ لوگ اس کرپٹ ایلیٹ کو مسترد کرنے لگتے ہیں تو وہ سب مل کر اپنا نیا سردار منتخب کر کے پھر عوام پر نازل ہو جاتے ہیں۔ انسانی نفسیات ہے کہ اگر کسی کو نئے کپڑے پہنا کر سامنے لایا جائے تو لوگ اس کے پچھلے کپڑے بھول جاتے ہیں۔ یہی کچھ سیاست میں ہوتا ہے کہ پانچ سال یہ سب مل کر مال بناتے ہیں اور اگلے الیکشن سے پہلے کسی اور پارٹی میں مل جاتے ہیں اور ان کے ووٹرز اسی بھول پن میں رہتے ہیں کہ اب کی دفعہ ایماندار قیادت کے نیچے وہ کرپشن نہیں کریں گے لیکن وہ کب باز آتے ہیں۔

براڈ شیٹ کی جس واردات کی کہانی لندن سے آپ سن رہے ہیں اس کی بنیاد بیس برس پہلے رکھی گئی تھی۔پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو ان کے مشیروں نے مشورہ دیا کہ وہ طویل مدتی حکمرانی کے خواہش مند ہیں تو پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی کرپشن ڈھونڈ کر سامنے لائیں۔ جو ساتھ مل جائے وہ ایماندار اور جو نہ ملے اسے نیب سے لمبی جیل کرا دو۔پیپلز پارٹی اور نواز لیگ نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہوئی تھیں کہ وہ سب پیسہ پاکستان میں رکھتے۔ زرداری اگر سوئٹزر لینڈ میں ساٹھ ملین ڈالرز بینک میں ڈپازٹ کرچکے تھے تو شریفوں نے بھی پانچ براعظموں میں جائیدادیں بنا رکھی تھیں۔جبکہ اپنا اقتدار لوگوں کی آنکھوں میں جائز قرار دلوانے کیلئے پرویزمشرف کیلئے ضروری تھا کہ سیاستدانوں کی مالی کرپشن کو پکڑکر ہائی لائٹ کیا جائے ۔یوں عالمی سطح پر ایسی کمپنیوں کی تلاش شروع ہوئی جو یہ کام کریں۔یہ راستہ اس سے پہلے نواز شریف دور میں احتساب سیل کے سربراہ سیف الرحمن دکھا چکے تھے‘ جب انہوں نے نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں سیکرٹ فنڈز سے تیس کروڑ روپے نکلوا کر لندن اورجنیوا میں ایسے وکیل اور سراغ رساں ادارے ہائر کیے جنہوں نے زرداری اور بینظیر بھٹو کا کچا چٹھا کھول دیا تھا۔ اتنے ثبوت اکٹھے کر لیے گئے کہ زرداری صاحب نے 2008 ء میں صدر بنتے ہی لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کو جیمز بانڈز طرز پرجنیوا خفیہ مشن پر بھیجا کہ وہ سب صندوق خفیہ طور پر جنیوا سے اٹھا لائو۔ موصوف برستی بارش میں چھتری پکڑے‘ سگار سلگائے سر پرکائو بوائے ہیٹ پہنے وہ سب صندو ق اٹھوا کر گاڑی میں رکھوا رہے تھے اور کیمرے پر سب کارروائی ریکارڈ ہورہی تھی جو بعد میں پاکستان کے ایک چینل پر پوری دکھائی گئی۔یوں پاکستانیوں کے تیس کروڑ روپے لگا کرکرپشن کے جو ثبوت سیف الرحمن اور وسیم افضل نے اکٹھے کیے تھے وہ واجد شمس الحسن چرا کر ساتھ لے گیا۔جو کام سیف الرحمن نے کیا تھا وہی مشرف کے چیئر مین نیب جنرل امجد کو سوجھا۔انہوں نے بھی ایسی کمپنیاں تلاش کرنا شروع کیں جو اسی طرح پاکستانی سیاستدانوں کی فائلیں ڈھونڈ کر دیں۔ امجد صاحب کو اپنے تئیں بہتر ڈیل مل گئی کہ لندن کی دو فرموں نے پیش کش کی وہ دنیا بھر میں پاکستان کی چھپی ساری دولت کے ثبوت اکٹھے کر کے دیں گے لیکن اس کے بدلے اس جائیداد یا دولت کا 20 فیصدشیئر لیں گی۔ ایک پارٹی کا نام براڈ شیٹ تھا۔ ان سے جون 2000ء میں معاہدہ طے پایا۔پرویز مشرف اور امجد صاحب کی ان کمپنیوں کو ہدایت تھی کہ وہ زیادہ فوکس شریف خاندان پر رکھیں ۔پرویز مشرف کا خیال تھا کہ محض جہاز کی ہائی جیکنگ کا مقدمہ کافی نہیں ‘ وہ عوام کی نظروں میں شریفوں کو کرپٹ بھی ثابت کریں ۔

جوں جوں شریفوں کے گرد گھیرا تنگ ہورہا تھا ان کیلئے جیل بیٹھنا مشکل ہورہا تھا‘ لہٰذا شریف خاموشی سے دو تین محاذوں پر کام کررہے تھے تاکہ نہ صرف سزائیں ختم ہوں بلکہ وہ جیل سے رہا بھی ہوں‘ تاہم پرویز مشرف کو علم تھا کہ ان کے اقتدار کو عوامی قبولیت اس وقت ملے گی جب وہ نواز شریف کے خلاف بڑے سکینڈلزلا سکیں گے‘اس لیے جنرل امجد کاانتخاب کیا گیا تھا کہ وہ کوئی رعایت نہیں کریں گے‘ اور یوں پوری دنیا میں دو جاسوس کمپنیاں(براڈ شیٹ اور International Assets Recovery) پھیلا دی گئیں۔اس دوران پرویز مشرف پر دبائو ڈالنے کا یہ طریقہ شریفوں کے ذہن میں آیا کہ بینظیر بھٹو سے رابطہ کیا جائے اور جمہوریت کے نام پر جدوجہد شروع کی جائے۔ اب یہ سب سے مشکل کام تھا۔ ایک تو بینظیر بھٹو پرویز مشرف کے مارشل لاء کاخیر مقدم کر چکی تھیں کہ جو ہونا تھا وہ ہوچکا اب مشرف ان سے بات چیت کریں کہ آگے کیا کرنا ہے۔ بارہ اکتوبر کی اُس رات جب ملک میں مارشل لا لگا تھا‘ بینظیر بھٹو نے نواز شریف کے طرز حکمرانی کا ٹی وی انٹرویو میں پوسٹ مارٹم کیا کہ وہ کیسے ملک کو تباہ کررہے تھے اور ان کے دورِ حکومت میں کیسے بڑے سکینڈلز اور مخالف سیاستدانوں کا جینا حرام کر دیا گیا تھا۔ ایک طرح سے بینظیر بھٹو نے نواز شریف حکومت کے خاتمے کو endorse کر دیا تھا۔تاہم پرویز مشرف نے اپنے پر پرزے نکالنا شروع کر دیے تھے۔ ان کا پلان اب لمبی ریس کا بن گیا تھا۔ وہ اب بینظیر بھٹو اور نواز شریف دونوں کو پاکستانی سیاست سے مستقل آئوٹ کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے لہٰذا بینظیر بھٹو کو جھنڈی کرا دی گئی ‘ جس کا انہیں دکھ ہوا۔

لوہا گرم تھا ‘ اس پر صرف چوٹ لگنا باقی تھی۔ اب سوال یہ تھا کہ بینظیر بھٹو کو راضی کیسے کیا جائے کیونکہ بینظیر بھٹو تو براہ راست نواز شریف کی ڈسی ہوئی تھیں۔ سیف الرحمن نے ہی تیس کروڑ لگا کر زرداری کی کرپشن ڈھونڈی تھی‘ بلکہ نواز شریف دور میں ہی اٹارنی جنرل محمد فاروق نے سوئس حکومت کو خط لکھ کر اس میں یہ کہہ کر پارٹی بننے کی خواہش کو اظہار کیا تھا کہ یہ پاکستان سے لوٹی ہوئی دولت ہے جس پر پاکستانی عوام کا حق ہے۔ یوں زرداری کے ساٹھ ملین ڈالرز جو منی لانڈرنگ میں سامنے آئے تھے ان پر دعویٰ کیا گیا تھا ۔ نواز شریف دور میں بینظیر بھٹو کو پاکستان چھوڑ کر جانا پڑا تھا کہ کہیں انہیں گرفتار نہ کر لیا جائے۔ تاہم کہا جاتا تھا کہ انہیں باہر بھجوانے میں بھی حکومت کا اپنا ہاتھ تھا کہ ان کی گرفتاری سے مسائل ہوں گے‘ لہٰذا انہیں چپکے سے باہر جانے دیا جائے اور پیچھے پاکستان میں” امیر المومنین‘‘ بن کر حکومت کی جائے اور اگلے پیچھے سارے نقصانات پورے کیے جائیں۔

اب مخالفین کو بینظیر بھٹو کی ضرورت پڑ گئی تھی تاکہ مشرف پر دبائو ڈال کر کچھ اپنے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں‘ مگر سوال یہ تھا کہ یہ مشکل کام کیسے کیا جائے؟ جو پہلا نام ذہن میں ابھرا ‘جنہیں اس موقع پر سب استعمال کرتے تھے وہ نوابزادہ نصراللہ خان کا تھا جو اس طرح کے سیاسی الائنس بنانے کے موقع کی تلاش میں رہتے تھے۔نوابزادہ تو چلیں تیار ہی رہتے تھے لیکن بینظیر بھٹو کو کیسے راضی کیا جائے جو دبئی میں تھیں اور اپنے سب مسائل‘ مقدمات اور مشکلات کا ذمہ دار نواز شریف کو سمجھتی تھیں۔ اب بی بی کو کون راضی کرے؟
اٹک قلعہ میں کئی راتیں جاگنے اور سوچنے کے بعد نواز شریف کے ذہن میں اچانک ایک نام ابھرا‘ جو ان کے خیال میں بینظیر بھٹو تک ان کا پیغام پہنچا بھی سکتا تھا اور شاید کسی حد تک قائل بھی کرسکتا تھا
اٹک قلعے میں قید نواز شریف اور مسلم لیگ کے لیڈر ظفر علی شاہ کے درمیان ملاقات جاری تھی۔نواز شریف اس بات پر دل برداشتہ تھے کہ قوم نے ان کی قدر نہیں کی ۔ نواز شریف یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ لوگ مشرف کے خلاف مظاہرے کریں گے کیونکہ انہوں نے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے مقابلے پر دھماکے کیے تھے ‘ پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا تھا‘ جب پوری دنیا ان پر دبائو ڈال رہی تھی کہ وہ دھماکے مت کریں‘انہوں نے بل کلنٹن کی چار ارب ڈالرز کی پیش کش ٹھکرا دی تھی اور پاکستان کو دھماکوں کی مدد سے بھارت کے برابر لا کھڑا کیاتھا ۔ یہ کام ایسا تھا جو اُن کے خیال میں قوم کو نہیں بھولنا چاہیے تھا۔ اس طرح انہوں نے بھارتی وزیراعظم واجپائی کو بس پر پاکستان بلایا اور پہلی دفعہ کوئی بھارتی وزیراعظم مینار پاکستان آیا اور اس نے کہا کہ وہ قیام پاکستان کو دل سے مانتا ہے ۔ کشمیر پر بھی مذاکرات کا حوصلہ افزا اعلان ہوا۔ یوں نواز شریف کے خیال میں ان کے قوم پر وہ احسانات تھے کہ ان کے بدلے لوگ پرویز مشرف کے خلاف احتجاج کرتے۔ نواز شریف کو زیادہ گلہ عوام سے تھا جو اُن کے خیال میں سڑکوں پر نہیں نکلے اور یوں جنرل مشرف کو یہ سب کرنے کا موقع ملا۔اس پر ظفر علی شاہ سے وہ یہ پوچھنا چاہ رہے تھے کہ اب کیا کریں کہ پرویز مشرف پر کچھ دبائو ڈالا جا سکے ۔ یہ سوچا گیا کہ ظفر علی شاہ ان تمام سیاسی قوتوں کو اکٹھا کریں اور کوئی نیا سیاسی الائنس بنایا جائے جس کی مدد سے پرویز مشرف کو مجبور کیا جائے کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں۔ امید کی ایک ہی کرن نظر آتی تھی کہ کسی طرح بینظیر بھٹو کو منایا جائے اور یہ کام ظفر علی شاہ کے ذمے لگایا گیا ۔

ظفر علی شاہ اٹک قلعے سے سوچوں میں گم اسلام آباد اپنے گھر لوٹے تو انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ دبئی میں بینظیر بھٹو سے کیسے رابطہ کریں‘ ملاقات کا وقت لے کر جائیں اور انہیں نواز شریف کا پیغام پہنچا کر نئے سیاسی الائنس پر راضی کریں۔ یہ ناممکن کام لگ رہا تھا‘ مگر ظفر علی شاہ کا کام اس وقت آسان ہوگی
[1/25, 19:43] Imran Anchor: جب ان کے داماد عسکری حسن سید کا ایک دوست ریاض چوہدری نکل آیا جس کی بینظیر بھٹو بہت عزت کرتی تھیں۔ ریاض چوہدری اس وقت دبئی میں ہر وقت بینظیر بھٹو کے قریب رہتے تھے اور بینظیر بھٹو ان پر بہت بھروسا کرتی تھیں۔عسکری حسن سید نے اپنے اس پرانے دوست سے رابطہ کیا کہ وہ ظفر علی شاہ کی کسی طرح ملاقات بینظیر بھٹو سے کرادیں۔ ریاض چوہدری نے کہا کہ وہ کوشش کرتے ہیں لیکن مشکل کام ہے کیونکہ بینظیر بھٹو نواز شریف کی وجہ سے ان حالات تک پہنچی تھیں‘ لہٰذا ان کے کسی پیغام رساں اور پارٹی کے بندے سے ملنا مشکل کام تھا‘ بہرحال انہوں نے وعدہ کر لیا۔اس دوران ظفر علی شاہ نے نوابزادہ نصراللہ خان اور دیگر سیاسی رہنمائوں سے رابطے شروع کر دیے تاکہ نئے سیاسی الائنس کی کوئی شکل بنائی جاسکے اور نواز شریف کو کوئی ریلیف ملنے کی صورت نکل سکے۔

ظفر علی شاہ کو ان سیاسی لیڈروں کو قائل کرنے میں بہت مشکلات پیش آرہی تھیں کیونکہ نواز شریف نے اپنے دوسرے دورِ حکومت میں پیپلز پارٹی سمیت تمام پارٹیوں کے لوگوں کو بہت تنگ کیا تھا۔ دو تہائی اکثریت نے نواز شریف کی پارٹی کا دماغ آسمان پر پہنچا دیا تھا۔میڈیا بھی نواز شریف کے خلاف تھا کیونکہ انہوں نے اُسی دور میں ایک اخباری گروپ پر بغاوت کے مقدمے درج کرائے تھے اور صحافیوں کی ایک بڑی تعداد کو نوکریوں سے فارغ کرانا چاہتے تھے ۔مگر وہی نواز شریف جنہوں نے صحافیوں اور ایڈیٹروں پر بغاوت کے مقدمات درج کرائے تھے‘ خود دہشت گردی کے مقدمے میں بند تھے اور سڑک پر ایک بندہ بھی نہیں نکلا تھا اور آ جا کے اسی بے نظیر سے سیاسی تعاون کی ضرورت پیش آئی جن پر نواز شریف نے کئی مقدمے درج کرائے تھے۔

اس دوران حکومت کو یہ بھنک پڑ گئی کہ ظفر علی شاہ کو اٹک قلعے میں ملاقات کے دوران کوئی اہم ٹاسک دیا گیا ہے‘ کیونکہ اچانک ہی سب سیاسی طور پر ایکٹو ہوگئے تھے‘ لہٰذا پہلایہ حکم صادر کیا گیا کہ نوازشریف سے کسی کو ملاقات کی اجازت نہیں ہوگی۔ ساتھ ہی ظفر علی شاہ کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی جانے لگی۔ظفر علی شاہ کی کوششوں کے باجود سیاسی لوگ نواز شریف پر اعتبار کرنے کو تیار نہ تھے ۔اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ فوری طور پر بیگم کلثوم نواز کو سیاسی طور پر ایکٹو کیا جائے تاکہ عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے میں آسانی رہے اور سیاسی لیڈروں کو بھی یقین دلایا جا سکے کہ شریف خاندان کی ایک خاتون اس جدوجہد میں شامل ہے۔ پورا شریف خاندان جیل میں تھا اور ایک اکیلی عورت جنرل مشرف سے لڑ رہی تھی۔یوں بیگم کلثوم نواز نے سیاسی مقاصد کے لیے وہی کردار ادا کیا جو کبھی نصرت بھٹو نے کیا تھا جب ذوالفقار علی بھٹو قید خانے میں تھے اور وہ ان کی جان بچانے کے لیے اپنی بیٹی بے نظیر بھٹو کے ساتھ سڑکوں پر ماری ماری پھر رہی تھیں۔یوں سمجھا گیا کہ بیگم کلثوم نواز کو سیاست میں لانچ کرنے سے لوگوں کی بے پناہ ہمدردیاں ملیں گی کہ دیکھیں شریف خاندان کی خواتین کو بھی اب باہر نکلنا پڑ گیا ہے۔اس طرح شریف خاندان کو بھی وہی سٹیٹس اور ہمدردیاں ملیں گی جو ان سے پہلے بھٹو خاندان کو ملی تھیں اوراس طو یل جدوجہد کے بعد بے نظیربھٹو وزیراعظم بن گئی تھیں۔

بیگم کلثوم نواز کی انٹری نے نواز شریف کے لیے بازی پلٹ دی۔ سب کو ضیا دور کے یاد آنا شروع ہوگئے جہاں بیگم نصرت بھٹو موجود ہوتی تھیں اور MRDتحریک کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ نصرت بھٹو اگر اپنے شوہر وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو جنرل ضیاسے بچانے کی کوشش کر رہی تھیں تو یہاں بیگم کلثوم نواز اپنے شوہروزیراعظم نواز شریف کو مشرف کے چنگل سے نکالنے کے لیے کوشش کر رہی تھی۔ لوگوں کو کلثوم نواز اور نصرت بھٹو میں بہت سی مماثلت نظر آنا شروع ہو گئی۔ اگرچہ لوگوں کو اب بھی کوئی شک تھا تو وہ اس دن ختم ہوگیا جب لاہور میں کلثوم نواز اور تہمینہ دولتانہ کے ساتھ احتجاج کا فیصلہ کیا گیا تو انہیں روک دیا گیا اور ان کی گاڑی کو کرین سے گھنٹوں ہوا میں معلق رکھاگیا۔ اُن دنوں یہ لطیفہ مشہور ہوگیا تھا کہ نواز لیگ میں صرف دو مرد بچے ہیں کلثوم نواز اور تہمینہ دولتانہ۔

یوں نواز شریف جو چاہتے تھے بیگم کلثوم کی عملی جدوجہد سے جو وہ آسان ہوتا چلا گیا۔ نوابزادہ نصراللہ خاں کو منانا تو ویسے ہی آسان تھا کہ ایسے کاموں کے لیے وہ ہمیشہ تیار رہتے تھے ۔مسئلہ یہ تھا کہ جب تک بے نظیر بھٹو اس الائنس میں شامل نہ ہوں گی بات نہیں بنے گی چاہے باقی سب پارٹیاں الائنس کیوں نہ بنا لیں ‘ اس سے پرویز مشرف کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔بے نظیربھٹو کو راضی کرنے کے لیے اس وقت دبئی میں ظفر علی شاہ ان کے سامنے بیٹھے تھے ۔بے نظیربھٹو نے ظفر علی شاہ سے چھوٹتے ہی پوچھا :آپ بتائیں میں نواز شریف کا ساتھ کیوں دوں جس نے میرا پاکستان میں جینا حرام کر دیا تھا اور اب میں اپنے بچوں کے ساتھ یہاں دبئی میں جلاوطن ہوں اور میرا خاوند وہاں پاکستان میں قید ہے ‘اسی نواز شریف کی وجہ سے ۔ظفر علی شاہ خاموش بیٹھے سب سن رہے تھے ۔ ظفر علی شاہ کو محسوس ہوا کہ وہ آج تک بڑے بڑے مقدمات میں دلائل دیتے آئے ہیں لیکن ان کی وکالت کا اصل امتحان آج ہے۔بے نظیر بھٹو مسلسل بول رہی تھیں اور شاہ جی سوچ رہے تھے کہ وہ اس ذہین اور نواز شریف کی ڈسی خاتون لیڈر کو کیسے قائل کریں کہ وہ سب کچھ بھول کر نواز شریف کا ساتھ دیں۔بے نظیر بھٹو اور ظفرعلی شاہ کے درمیان ماحول ٹینس ہوچکا تھا۔
[1/25, 19:47] Imran Anchor: بینظیر بھٹو کافی دیر سے ظفر علی شاہ کو وہ سب کچھ سنا رہی تھیں جو ان کے ساتھ بیتی تھی۔ وہ اپنے تمام دکھوں کا ذمہ دار نواز شریف کو قرار دے رہی تھیں۔ وہ ایک ایک کرکے تمام الزامات دہرا رہی تھیں۔ اس ملاقات میں امین فہیم بھی موجود تھے۔ جب بینظیر بھٹو کا غصہ کچھ کم ہوا تو انہوں نے ظفر علی شاہ کی طرف دیکھا کہ وہ بتائیں اب اس نواز شریف کا ساتھ کیوں دیا جائے جن کی وجہ سے انہیں پاکستان چھوڑ کر دبئی جلاوطنی اختیار کرنا پڑ گئی تھی اور ان کا شوہر زرداری جیل میں تھا؟

ظفر علی شاہ ایک وکیل تھے‘ لہٰذا انہیں پتہ تھا کہ ایک ایک لفظ کی کتنی اہمیت ہوتی ہے خصوصاً جب معاملہ بہت گمبھیر ہو اور سامنے بیٹھا بندہ اس انسان کا ڈسا ہوا ہو جس کی وکالت کرنے آپ اتنی دور سے یہاں آئے تھے۔ ظفر علی شاہ کے ذہن میں نواز شریف سے اٹک قلعہ میں ہونے والی اس ملاقات کی یاد تازہ تھی‘ جب نواز شریف نے ان سے اچانک پوچھا لیا تھا آپ بینظیر بھٹو سے بات کر سکتے ہیں؟ نواز شریف کی امید ٹوٹ چکی تھی کہ شاید لوگ باہر نکل کر جنرل مشرف کا اسی طرح تختہ الٹ دیں گے جیسے جنرل پرویز مشرف نے الٹ دیا تھا۔

ظفر علی شاہ نے کہا تھا: میاں صاحب لوگ باہر نہیں نکلتے ہوتے۔ ایسے مارشل لاء اتنی جلدی اور اس طرح ختم نہیں ہوتے‘ اس کے لیے آپ کو سیاسی لوگوں کے ساتھ ہاتھ ملانا ہوگا‘ اپنے سیاسی دشمنوں سے بات کرنا ہوگی۔ نواز شریف یہی چاہتے تھے کہ ظفر علی شاہ اس پر بات کریں؛ چنانچہ اچانک ہی پوچھ لیا: تو پھر آپ بینظیر بھٹو سے بات کریں گے؟ ظفر علی شاہ نے نواز شریف کو جواب دیا کہ وہ خود ایک معمولی ورکر ہیں‘ لیکن ایک کوشش کر سکتے ہیں‘ باقی اللہ مالک ہے۔

یوں اپنے داماد عسکری حسن سید کے ذاتی دوست چوہدری ریاض کی وجہ سے وہ یہ ملاقات کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ پہلے بینظیر بھٹو نے ظفر علی شاہ کو لندن بلوایا‘ جہاں وہ چار پانچ روز ٹھہرے لیکن وہاں بینظیر سے ملاقات نہ ہو سکی۔ لندن سے بینظیر امریکہ چلی گئیں اور ظفر علی شاہ کو کہا گیا کہ یا تو وہ امریکہ آ جائیں یا پھر لندن انتظار کریں‘ وہ دبئی لندن سے ہوتی جائیں گی‘ لیکن پھر وہ امریکہ سے سیدھی دوبئی پہنچ گئیں اور ظفر علی شاہ کو چودھری ریاض کے ذریعے میسج دیا گیا کہ وہ دبئی آ جائیں۔

اب ظفر علی شاہ دبئی میں بینظیر بھٹو کے گھر میں بیٹھے نواز شریف کے خلاف چارج شیٹ سن رہے تھے۔ ظفر علی شاہ نے نپے تلے انداز میں بات شروع کی اور بولے: محترمہ میں معمولی ورکر ہوں۔ میری کیا مجال کہ آپ کی بات سے اختلاف کروں‘ لیکن جیسے آپ کو نواز شریف سے شکایتیں ہیں ایسی ہی شکایتیں نواز شریف کو بھی آپ سے ہیں۔ وہ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ان کے والد میاں شریف کو ایف آئی اے کے ذریعے گرفتار کرانا آپ کا ذاتی انتقام تھا۔ وہ بھی یہ بات نہیں بھول سکتے۔ ان کے خاندان کے کاروبار کو بھی آپ نے نقصان پہنچایا۔ اب یہ باتیں موجودہ حالات میں پرانی ہو گئی ہیں کہ نواز شریف نے آپ کے ساتھ کیا کیا یا آپ نے کیا کیا۔ دونوں کے جو بھی بس میں تھا وہ آپ دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ کھل کر کیا۔ اہم سوال یہ ہے کہ اب کیا کیا جائے؟ ایک تو یہی طریقہ ہے کہ نواز شریف اٹک قلعہ میں بیٹھے قید کاٹیں اور آپ یہاں دبئی میں جلاوطنی کاٹیں‘ اور ایک دوسرے کے لیے پیدا کی گئی مشکلات پر خوش ہوتے رہیں۔ اس طرح نہ آپ کو کچھ فائدہ ہوگا نہ ہی نواز شریف کا۔ جنرل مشرف آرام سے بیٹھ کر اس ملک پر دس سال حکومت کرے گا اور آپ ایک دوسرے کو الزام دیتے رہیں گے۔ دوسرا طریقہ وہ ہے جو میں آپ کے ساتھ شیئر کرنے آیا ہوں۔ میری اتنی اوقات تو نہیں تھی لیکن کیا کریں نواز شریف کا پورا خاندان جیل میں ہے اور میں ہی آپ تک ان کا پیغام پہنچا سکتا ہوں۔ آپ پچھلی باتوں کو اس وقت جانے دیں‘ بھول جائیں۔ آپ ایک سیاسی الائنس بنائیں جس میں دس بیس سیاسی پارٹیاں شامل ہوں اور وہ جنرل مشرف کے مارشل لا کے خلاف تحریک شروع کریں۔ اگر آپ لوگ آج مشکلات کا شکار ہیں تو ذہن میں رکھیں کہ پاکستان کے عوام بھی وہی مشکلات فیس کررہے ہیں۔ اب جب لوگوں کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے اس وقت ہی آپ اگر ذاتی دشمنی میں پڑے رہے تو ملک اور عوام کا فائدہ نہیں ہوگا۔ عوام ان موقعوں پر اپنے لیڈرز کی طرف دیکھتے ہیں۔

بینظیر بھٹو یہ سب باتیں سن کر کچھ دیر تک خاموش‘ سوچتی رہیں۔ وہ سمجھ چکی تھیں کہ انہیں جنرل مشرف سے کچھ فائدہ نہیں ملنے والا۔ اگرچہ بینظیر بھٹو نے نواز شریف حکومت کی برطرفی کی مذمت نہیں کی تھی بلکہ اس رات عالمی نشریاتی اداروں کو انٹرویوز میں نواز شریف کے ان مظالم کو ہائی لائٹ کیا تھاکہ کیسے وہ امیرالمومنین بن کر حکومت کرنا چاہ رہے تھے۔ بینظیر بھٹو نے تو اپنے تئیں جنرل مشرف کو دعوت بھی دی تھی کہ اب وہ ان سے بات کریں‘ لیکن جنرل صاحب نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہوئی تھیں کہ وہ نواز شریف کو برطرف کرکے اس کی جگہ بینظیر بھٹو کو لا کر بٹھا دیتے۔ مشرف کا یہی پلان تھاکہ وہ نواز شریف کو جیل میں اور بینظیر بھٹو کو جلاوطن میں رکھ کر حکومت کریں گے۔ بینظیر بھٹو کو بھی جنرل مشرف کے اس ایک سال میں یہ بات سمجھ آگئی تھی کہ ان تلوں سے تیل نہیں نکلے گا۔ جنرل مشرف انہیں اقتدار میں لانا تو ایک طرف چھوٹی موٹی رعایتیں دینے کو بھی تیار نہیں تھے۔

جیسے نواز شریف کو لگ رہا تھاکہ اگر بینظیر بھٹو ان کے ساتھ مل جائیں تو وہ پیپلز پارٹی کا دبائو استعمال کرکے جنرل مشرف سے کوئی ڈیل کر سکتے ہیں‘ اسی طرح بے نظیر بھٹو کو بھی محسوس ہونے لگ تھا کہ وہ نواز شریف کے ساتھ الائنس کا دبائو جنرل مشرف پر استعمال کر سکتی ہیں اور کچھ رعایتیں انہیں بھی مل سکتی ہیں اور جنرل مشرف ان سے رابطہ پر مجبور ہو جائیں گے۔ اس طرح جنرل مشرف کو پیغام جائے گا کہ اب جنگ اوپن ہوگی۔ بینظیر بھٹو سوچ رہی تھیں کہ وہ عالمی سطح پر جنرل مشرف کے خلاف رائے عامہ ہموار کرسکتی تھیں تو پاکستان کے اندر نواز شریف قید میں بیٹھا بھی پرابلم پیدا کرسکتا تھا۔ دنیا کو یہ میسج جائے گا پاکستان میں جمہوریت کا قتل عام ہورہا تھا کہ ایک وزیراعظم کو آمر نے جیل میں ڈال دیا تھا تو دوسری وزیراعظم جلاوطن تھی۔ اور پھر ایک سال گزر گیا تھا لہٰذا لوگوں کا جنرل مشرف سے جڑا رومانس اب دھیرے دھیرے کم ہونے کا وقت آرہا تھا۔

اچانک بینظیر بھٹو کی نواز شریف کی اس سیاسی الائنس کی پیشکش میں دلچسپی پیدا ہوگئی۔ انہیں لگا واقعی اب یہ وقت نواز شریف سے پرانے سکورز سیٹل کرنے کا نہیں تھا بلکہ نواز شریف کو ساتھ ملا کر جنرل مشرف کو چنے چبوانے کا تھا۔ بینظیر بھٹو اس بات پر جنرل مشرف سے ہرٹ تھیں کہ اس نے ان کے بارہ اکتوبر کی بغاوت کے رات ان کی طرف سے دیے گئے گڈ ول gesture کا وہ جواب نہیں دیا تھا جس کی توقع رکھ کر انہوں نے نواز شریف کی اقتدار سے برطرفی اور گرفتاری کا کسی حد تک جواز پیش کر کے پاکستانیوں اور عالمی برادری کو جنرل مشرف کو شاید قابل قبول بنا دیا تھا۔ گہری سوچتی آنکھوں سے ظفر علی شاہ کو دیکھتے دیکھتے بینظیر بھٹو اچانک اٹھیں اور وہ کمرے کے اندر چلی گئیں۔

وہ کچھ دیر بعد واپس آئیں تو ان کے ہاتھ میں ایک سفید کاغذ تھا جس پر ان کے اپنے ہاتھ سے لکھیں سات آٹھ سطریں تھیں۔ وہ کاغذ بینظیر بھٹو نے ظفر علی شاہ کے ہاتھ میں دیا۔ ظفر علی شاہ نے وہ کاغذ لے کر پڑھا اور اس کی آخری سطر پر نظر پڑی تو وہ ششدر رہ گئے۔ تحریر مکمل پڑھ کر ظفر علی شاہ نے بے ساختہ سر اٹھا کر بینظیر بھٹو کی طرف دیکھا جو ان پر نظریں جمائے بیٹھی ان کے ردعمل کا شدت سے انتظار کررہی تھیں۔
[1/25, 19:49] Imran Anchor: ظفر علی شاہ کو اندازہ نہ تھا کہ بینظیر بھٹو اتنی جلدی فیصلہ کر لیں گی اور ناممکن بات اتنی آسانی سے طے ہوجائے گی۔شاید یہ ذہین لوگوں کی خوبی ہوتی ہے کہ انہیں جلدی کسی بات پر قائل کیا جاسکتا ہے‘ اگر بات میں وزن ہو۔ ذہین انسان کی کمزوری دلیل ہوتی ہے ‘ جونہی کسی دلیل نے قائل کیا وہ فورا ًفیصلہ لے لیتے ہیں‘یہی بینظیر بھٹو نے کیا تھا۔ جونہی ظفر علی شاہ کی باتوں میں انہیں وزن محسوس ہوا تو انہوں نے فیصلہ کرنے میں دیر نہیں کی۔اپنا فائدہ نقصان کیلکو لیٹ کیا اور فوراً اُٹھ کر اندر گئیں اور اندر سے ہاتھ سے چند سطریں لکھ کر لے آئیں اور کاغذ ظفر علی شاہ کے ہاتھ میں تھما دیا۔اب ظفر علی شیخ اس کاغذ کو پڑھے رہے تھے۔ بینظیر بھٹو نے اس کاغذ پر ایک طرح کا مشترکہ بیان لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ نواز شریف کے ایلچی ظفر علی شاہ سے ان کی ملاقات ہوئی۔ وہ اب نواز شریف کے ساتھ مل کر پاکستان میں مشرف آمریت کے خلاف جمہوریت کی بحالی کیلئے تیار تھیں۔ تاہم اس بیان کے آخر پر بینظیر بھٹو نے نواز شریف کے حوالے سے ایک لائن لکھی تھی جو زیادہ سخت تھی۔ شاید وہ چاہ رہی تھیں کہ ان کے پاکستان میں پارٹی لیڈرز اور فالورز یہ نہ سمجھیں کہ محترمہ نے نواز شریف کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے جن کی وجہ سے خودبینظیر بھٹو جلاوطن ہوئیں‘ زرداری جیل میں گئے اور پارٹی کا برا حال ہوگیا ۔ظفر علی شاہ نے وہ سخت سطر پڑھ کر سر اوپر اٹھایا اور محترمہ کو کہا :جب آپ نے اتنا بڑا دل کر کے نواز شریف کے ماضی کو بھول کر ان کے ساتھ سیاسی طور پر چلنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو پھر اس آخری لائن سے کیا حاصل ہو گا؟ اگر آپ ساتھ دے رہی ہیں تو پھر کھل کر ساتھ دیں‘ اس لائن سے اس سیاسی تحریک اور اتحاد کا سارا مقصد ناکام ہوگا اور دونوں پارٹیوں کے حامی بھی قریب نہیں آ سکیں گے ۔بینظیر بھٹو نے کچھ سوچتی نظروں سے ظفر علی شاہ کو دیکھا اور ان کے ہاتھ سے کاغذ لے کر وہ لائن کاٹ دی جس پر ظفر علی شاہ کو اعتراض تھا۔وہ کاغذ لے کر بینظیر بھٹو نے ظفر علی شاہ کو کہا: چلیں آپ کے ساتھ فوٹو لیتے ہیں۔ بینظیر بھٹو‘ ظفر علی شاہ اور امین فہیم کھڑے ہوئے اور اسی وقت کیمرہ کلک ہوا۔بینظیر بھٹو تصویر کے بعد وہ کاغذ پکڑے اندر گئیں‘ اپنے کمپیوٹر پر بیٹھ کر کچھ لکھا اور کسی کو میل بھیج دی۔

ظفر علی شاہ ابھی وہیں بینظیر بھٹو کے ساتھ بیٹھے تھے کہ دھڑا دھڑا خبریں آنا شروع ہوگئیں کہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے مشرف کے خلاف سیاسی اتحاد بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ظفر علی شاہ کو سمجھ نہ آئی کہ یہ سب کچھ اتنی جلدی سے کیسے ہوگیا کہ وہ ابھی بینظیر بھٹو سے باتیں کررہے تھے کہ اتحاد کی خبریں پوری دنیامیں پھیل گئی تھیں۔

ظفر علی شاہ کی بینظیر سے کامیاب ملاقات نے پاکستان میں ایک ہلچل مچا دی۔ کوئی یقین نہیں کرسکتا تھا کہ نواز شریف اور بینظیر بھٹو بھی ایک دوسرے سے ہاتھ ملا سکتے ہیں۔پرویز مشرف کیمپ میں یہ خبر ایک بم شیل بن کر گری ۔ اب تک مشرف کا سارا فوکس نواز شریف پر تھا کہ کیسے انہیں دہشت گردی کی عدالت سے سزا دلوا کر اپنا مقدمہ پکا کرنا ہے‘ اس سلسلے میں انہوں نے نیب کے چیئرمین جنرل امجد کے ذمے لگا رکھا تھا کہ وہ دنیا بھر سے شریف خاندان کے خلاف ثبوت اکٹھے کریں کہ ان کی جائیدادیں اور پیسے کہاں کہاں ہیں۔ جنرل امجد کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ بیرون ملک وہ کیسے ان جائیدادوں کا سراغ لگائیں‘تاہم نیب کے کچھ افسران نے ان کا یہ مسئلہ اس وقت حل کر دیا جب انہیں بتایا گیا کہ اس سے پہلے نواز شریف دور میں احتساب سیل کے چیئرمین سیف الرحمن کامیابی سے یہ عالمی آپریشن کر چکے تھے۔ سیف الرحمن نے لندن اور جنیوا میں ایسی لیگل فرموں اور وکیلوں کو تیس کروڑ روپے کی ادائیگیاں کی تھیں جنہوں نے بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف تمام دستاویزی ثبوت ڈھونڈ نکالے تھے۔ بینظیر بھٹو اور زرداری کی جائیدادوں کے کاغذات احتساب سیل نے حاصل کر کے انہیں جینوا میں متعلقہ لیگل فرمز اور عدالتوں میں جمع بھی کرائے ہوئے تھے۔

زرداری اور بینظیر بھٹو کے خلاف دستاویزی ثبوت اکٹھے کرنے کیلئے جنیوا کی ایک فرم کو 19 لاکھ ڈالرز تو ایک برطانوی فرم کو بارہ لاکھ ڈالرز ادا کیے گئے تھے۔یوں جنرل امجد کو بھی راہ دکھائی گئی کہ وہ بھی سیف الرحمن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عالمی لیگل فرمیں اور عالمی جاسوس ہائر کریں جنہیں نیب ادائیگی کرے گا اور وہ پاکستان کو نواز شریف کی جائیدادیں اور ثبوت اکٹھے کر کے دیں گے۔ یوںجس طرح بینظیر بھٹو اور زرداری کے خلاف سیف الرحمن نے دنیا بھر سے ثبوت اکٹھے کیے اور ان ثبوتوں کی وجہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی مقدمے چلائے گئے ‘ نواز شریف کو بھی گھیرا جاسکتاتھاتاکہ پاکستانیوں کو خصوصاً اور عالمی برادری کو عموماً بتایا جاسکے کہ پاکستان کے دونوں سیاسی وزیراعظم بہت کرپٹ ہیں‘ جنہوں نے پاکستان کو لوٹا اور ساری دولت پاکستان سے باہر لے گئے اور ان کی وجہ سے ہی پاکستان کی یہ حالت ہوئی ہے ۔

بینظیر اور زرداری کی حد تک تو ثبوت موجود تھے اور انہیں نواز شریف نے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ملک قیوم کی مہربانی سے سزائیں بھی دلوا دی تھیں (بعد میں سیف الرحمن اور جسٹس قیوم کی بدنام زمانہ ٹیپس بھی سامنے آئی تھیں جن سے انکشاف ہوا تھا کہ سزائیں کس طرح دلوائیں گئی تھیں)لیکن ابھی کام ادھورا تھا۔ جب تک نواز شریف کے خلاف بھی اس طرح کے ثبوت نہیں ملتے اور انہیں بھی پاکستانی عدالتوں سے کرپشن پر سزا نہیں ملتی پرویز مشرف کے مارشل لاء کو پوری عوامی تائید حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔ طیارہ سازش کیس میں لوگوں کو شکوک تھے کہ نواز شریف کو جان بوجھ کر عدالتوں سے سزا دلوائی گئی ‘ ورنہ نواز شریف کا اس کیس میں مقدمہ نہیں بنتا‘ سب یہی سمجھ رہے تھے کہ مقدمہ عدالتی سے زیادہ ذاتی اور انتقامی تھا۔

نواز شریف نے بارہ اکتوبر1999ء کو چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کو برطرف کر کے ان کی جگہ جنرل خواجہ ضیاء الدین بٹ کو لگا دیا تھا۔ ردعمل کے طور پر فوج نے نواز شریف کو وزیراعظم ہاؤس سے گرفتار کر لیا تھا اور کراچی کی دہشت گردی کی عدالت سے سزا دلوا کر اندر کر دیا تھا لیکن یہ سب کافی نہیں تھا۔جنرل مشرف بے چین تھے کہ شریف خاندان کو سخت سزائیں دلوانی ہیں اور انہیں اس طرح کرپٹ ثابت کرنا ہے جیسے شریفوں کے فرنٹ مین سیف الرحمن نے بینظیر بھٹو اور زرداری کو کیا تھا۔

اگرچہ عدالت سے نواز شریف کو 40 کروڑ روپے جرمانہ بھی عائد ہو چکا تھا ( جو بعد میں نواز شریف کے سعودی عرب جانے کے بعد حمزہ شہباز نے قسطوں میں نیب کو جمع کرایا تھا)۔اب سوال یہ تھا کہ کون کرے گا یہ کام؟ کہاں سے آئیں گے وہ عالمی جاسوس جو نواز شریف اور دیگر کرپٹ لوگوں کی جائیدادیں جنرل مشرف اور جنرل امجد کو ڈھونڈ کر دیں گے؟اور ایک دن جنرل امجد کے پاس نیب میں ایک عالمی جاسوس لایا گیا۔ اس جاسوس کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی براڈ شیٹ انہیں دنیا بھر سے پاکستانی سیاستدانوں کی پاکستان سے لوٹی گئی دولت ڈھونڈ کر دے گی۔جنرل امجد خوشی سے اچھل پڑے کہ کام ہوگیا تھا۔ انہوں نے براڈ شیٹ کے عالمی جاسوس کو ساتھ بٹھایا اور معاہدے پر بات چیت ہونے لگی کہ کون کیا کرے گا اور کس کو کیا ملے گا۔جنرل امجد کو پتہ نہیں تھا کہ براڈ شیٹ کمپنی ان کے ساتھ کیا خوفناک کھیل کھیلنے والی تھی۔ کمپنی کے پیچھے چھپے دو پاکستانی چہرے اپنا نیا کھیل شروع کرچکے تھے اور جنرل امجد کو پوری طرح گھیرا جا چکا تھا۔
[1/25, 19:52] Imran Anchor: براڈ شیٹ کے ساتھ جون 2000 ء میں کیے گئے اس معاہدے کے سترہ برس بعد نیب کے چیئر مین جنرل امجد 29 جون 2017ء کو اسلام آباد میں چھ ممبران پر مشتمل ایک انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ ایک وقت تھا جنرل امجد، جنرل پرویز مشرف سے بھی زیادہ طاقتور سمجھے جاتے تھے‘ اب وہ اب پانامہ سکینڈل پر بنائی گئی جے آئی ٹی کے سامنے بیٹھے تھے۔

جنرل امجد کو جب نوٹس ملا کہ وہ پانامہ انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہوں تو انہیں اندازہ نہ تھا کہ انہیں اس معاملے میں کیوں طلب کیا جارہا تھا۔ جنرل امجد سے جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کے علاوہ پانچ ممبران سوالات کررہے تھے۔ انہیں سوالات سے اندازہ ہوا کہ انہیں دراصل اس لیے بلایا گیا تھا کہ وہ اسحق ڈار کے ساتھ ہونے والی اُس ڈیل کی تفصیل بتائیں جس کے تحت انہوں نے ڈار کو اٹک قلعہ سے نکلوا کر لاہور نیب کے دفتر بلا کر پندرہ منٹ ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد جنرل امجد نے اسحق ڈار کو نیب کی قید سے رہا کر دیا تھا۔

جنرل امجد سے پوچھا گیا کہ اسحق ڈار کو جو معاف کیا تھا اور اس کے بدلے انہوں نے حدیبیہ پیپر ملز اور لندن کی قاضی فیملی کے جعلی بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات نیب کو فراہم کی تھیں‘ وہ بیان زبردستی تو نہیں لیا گیا تھا؟ جنرل امجد نے انکوائری کمیٹی کے ممبران کو دیکھا اور پھر بولنا شروع ہوئے کہ ایک دن انہیں ان کے سٹاف نے بتایا کہ اسحق ڈار ایک اعترافی بیان دینا چاہتے ہیں۔ اس پرانہوں نے کہا‘ ٹھیک ہے ڈار کو میرے سامنے پیش کرو۔ ڈار جب ڈی جی نیب لاہورکے دفتر میں پیش ہوئے تو جنرل صاحب نے ان سے صرف پندرہ منٹ ملاقات کی۔

اسحق ڈار پر نیب کا دبائو تھا کہ وہ پوری تفصیل بتائیں کی شریف فیملی نے حدیبیہ پیپر ملز کیس میں کس طرح منی لانڈرنگ کی تھی اور اس میں کون کون لوگ شامل تھے۔ڈار نے ایک دن نیب افسران کو پیغام بھیجاکہ اگر وہ شریف خاندان کی منی لانڈرنگ اور اس میں ملوث افراد کی پوری تفصیل دیں تو اس کے بدلے انہیں کیا ملے گا؟ اسحق ڈار کا جو تعلق 1990ء میں شہباز شریف اور نواز شریف سے بنا تھا وہ اب بریک ہونے کے قریب تھا۔ اسحق ڈار کو نواز شریف، شہبازشریف اور نیب سے آزادی میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا۔

نواز شریف اور شہباز شریف ابھی جیل میں تھے اور ڈار کو خیال آیا کہ دونوں بھائی لمبے اندر گئے ہیں اور جنرل مشرف کا مارشل لاء جلدی نہیں جائے گا۔ قید میں بیٹھے بیٹھے ڈار نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی آزادی کے لیے اپنے پاس موجود شریف خاندان کی انفارمیشن کو بیچیں گے۔ ڈار کو سب پتہ تھا کہ منی لانڈرنگ کیسے کی گئی تھی کیونکہ یہ سب کام ڈار کی نگرانی اورسربراہی میں ہواتھا۔ انہیں ایک ایک تفصیل یاد تھی کہ کیسے لندن کی اُس قاضی فیملی کو دھوکا دے کر ان سے پاسپورٹس لے کر ان کے ذریعے لاہور میں بینک اکاؤنٹس کھلوا کر ان میں شریفوں کے ڈالرز ڈالے گئے تھے۔ 1992ء کا اکنامک ایکٹ اس لیے بنایا گیا تھا کہ پاکستان میں اکاؤنٹ میں پیسے ڈال دو اور باہر نکلوا لو کوئی اس کا سورس نہیں پوچھے گا۔یہ تھا وہ قانونی طریقہ جس کے ذریعے قانونی طور پر منی لانڈرنگ کی گئی تھی۔ جب حدیبیہ پیپر ملز منی لانڈرنگ سکینڈل سامنے آیا تو قاضی فیملی نے انکوائری میں بیان حلفی لکھ کر دیے تھے کہ ان کے ساتھ اسحق ڈار نے دھوکا کیا تھا۔ قاضی فیملی کے مطابق انہوں نے وہ پاسپورٹس کی کاپیاں اسحق ڈار کو دی تھیں کہ انہوں نے پاکستان میں شناختی کارڈز بنوانے تھے لیکن ایک دن انہیں پتہ چلا کہ ان کے مختلف بینکوں میں لاکھوں ڈالرز جمع ہوگئے ہیں؛ تاہم اسحق ڈار نے بیان دیا کہ قاضی فیملی کے سربراہ کو سیاست کا شوق تھا‘ جب وہ لاہور آئے تو انہوں نے نواز شریف اور شہباز شریف سے ملاقات کروائی تھی اس کے بعد اس فیملی کے شریفوں سے اپنے تعلقات قائم ہوگئے تھے۔ اسحق ڈار کے بقول لندن کی اس فیملی نے شہباز شریف کو اپنے پاسپورٹس کی کاپیاں دی تھیں اور انہیں شہباز شریف نے وہ دستاویزات دی تھیں کہ ان پر بینک اکاؤنٹس کھلوا لیں اور ان میں ڈالرز ڈال دیں۔اور پھر اسحق ڈار نے بینک اکاؤنٹس کھلوائے اور باقاعدہ منی لانڈرنگ کی گئی جس کے سب ثبوت موجود تھے۔اسحق ڈار نے یہ ساری سٹوری جنرل امجد کو ان کے دفتر میں ان پندرہ منٹس میں سنائی تھی۔

پانامہ جے آئی ٹی کے ایک ممبر نے جنرل امجد سے پوچھا کہ اسحق ڈار آپ کو ہی کیوں سب تفصیلات بتانے پر تیار ہوئے؟ جنرل امجد نے فوراً جواب دیا کہ ان کا خیال ہے اسحق ڈار کو پتہ تھا کہ انہوں نے شریف خاندان کیلئے منی لانڈرنگ کیلئے جعلی بینک اکاؤنٹس کھلوائے تھے اور ان کا اس میں مرکزی کردار تھالہٰذا انہیں علم تھا کہ ان کے بچنے کا کوئی امکان نہیں تھا اور انہیں سزا ہو جائے گی ؛ چنانچہ وہ ڈیل کرکے آزادی چاہتے تھے۔جنرل امجد کا کہنا تھا: انہوں نے کوئی دبائو نہیں ڈالا تھا‘ اسحق ڈار کو عدالت لے جایا گیا اور ایک مجسٹریٹ کے سامنے انہوں نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ اس بیان کو ریکارڈ کرانے سے پہلے سے مجسٹر یٹ نے اسحق ڈار سے پوچھا تھا کہ ان پر دبائو تھا ؟ تو ڈار نے جواب دیا کہ ان پر کوئی دبائو نہیں اور وہ مرضی سے بیان دینا چاہتے ہیں۔ اس پر بھی مجسٹریٹ نے اسحق ڈار کو کہا کہ آپ کچھ دیر عدالت کے کونے میں بیٹھ کر سوچ لیں کہ بیان حلفی دینا چاہتے ہیں۔ پندرہ بیس منٹ تک ڈار کو وقت دیا گیا اور پھر انہوں نے مجسٹریٹ کو بیان حلفی لکھ کر دیا۔ جنرل امجد نے انکوائری کمیٹی کو بتایا کہ وہ بیان ان کے سامنے لایا گیا تھا جو اسحق ڈار نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا۔ جنرل امجد نے وہ بیان پڑھ کر اس کے بدلے فوری طور پر اسحق ڈار کے وعدہ معاف گواہ بننے کی منظوری دے دی۔

جنرل امجد یہ سب تفصیلات پانامہ کی جے آئی ٹی کے ممبران کو سنا رہے تھے۔ جنرل امجد کا کہنا تھا کہ اب سنا ہے اسحق ڈار کا یہ کہنا ہے کہ انہیں نیب نے ڈرا دھمکا کر بیان حلفی لیا تھا ‘ یہ اس لیے بھی سمجھ میں آتا ہے کہ ان کی شریف خاندان کے ساتھ اب رشتہ داری ہے‘ اس لیے مجھے حیرانی نہیں ہوئی۔ جنرل امجد نے انکشاف کیا کہ اسحق ڈار کے اس بیان حلفی کے بعد وہ لندن گئے اور لندن کی اس قاضی فیملی سے ملے۔ قاضی فیملی نے ان تمام باتوں کی تصدیق کی جو اسحق ڈار نے انہیں وعدہ معاف گواہ بنتے وقت بتائی تھیں کہ سب جعلی اکاؤنٹس بنائے گئے تھے۔ جنرل امجد نے انکشاف کیا کہ جب وہ قاضی فیملی کے گھر لندن گئے تو انہیں یہ دیکھ کر جھٹکا لگا کہ وہاں رحمن ملک پہلے سے بیٹھے ہوئے تھے۔ جنرل امجد کے بقول انہیں پتہ نہیں تھا کہ رحمن ملک وہاں موجود تھے یا پھر لندن کی فیملی نے خود رحمن ملک کو بلوایا تھا تاکہ وہ جنرل امجد کی آمد کے وقت وہاں موجود ہوں۔ جنرل امجد اور رحمن ملک نے ایک دوسرے کو ہیلو ہائے کیا۔

اچانک جے آئی ٹی کے ایک ممبر نے جنرل امجد سے ایک چبھتا ہوا سوال پوچھ لیا کہ جنرل صاحب لندن کو چھوڑیں یہ بتائیں کوئی براڈ شیٹ نام آپ کے ذہن میں آتا ہے؟ آپ نے کبھی یہ نام سنا ہے؟ جنرل امجد نے چونک کر انکوائری کمیٹی کے ممبر کی طرف دیکھا۔ اس سوال نے جنرل امجد کو چکرا دیا کہ اسحق ڈار اور لندن کی قاضی فیملی کی باتیں ہوتے ہوتے اچانک براڈشیٹ کا ذکر کہاں سے آگیا ۔ پانامہ سکینڈل پر بنی جے آئی ٹی اب سترہ برس بعد براڈ شیٹ کا ان سے کیوں پوچھ رہی تھی جس کا بظاہر اس پانامہ سے کوئی تعلق نہیں بن رہا تھا؟جنرل صاحب سوچ میں پڑ گئے کہ اس اہم لیکن مشکل سوال کا کیا جواب دیں؟سب انکوائری افسران کی نظریں اب جنرل امجد پر جمی ہوئی تھیں کہ وہ اس اہم سوال کا کیا جواب دیں گے؟
[1/25, 19:55] Imran Anchor: جنرل امجد کچھ لمحے سوچتے رہے کہ براڈ شیٹ کے سوال پر پانامہ لیکس کی اس انکوائری کمیٹی کے ممبر کو کیا جواب دیں۔جنرل امجد کو اندازہ ہوچلا تھا کہ سترہ برس بعد اگر ان سے براڈشیٹ کا سوال کیا جارہا تھا تو یقینا کوئی بات تھی جس کا علم صرف انکوائری کمیٹی کے ممبران کو تھا۔35 برس فوج میں ملازمت اور نیب میں گزرے ایک برس کے بعد جنرل امجد کو یہ تو پتہ تھا کہ ایسے سوالات کا جواب پورا نہیں دیا جاتا مگر جنرل امجد کو بھلا کیا پتہ تھا کہ پانامہ انکوائری کمیٹی کے اس ممبر کے ذہن میں کیا چل رہا تھا کہ حدیبیہ پیپرز ملز میں شریف خاندان کی کرپشن اور لندن کی قاضی فیملی کے نام پر جعلی بینک اکائونٹس پر کی گئی منی لانڈرنگ پر گفتگو کرتے کرتے اچانک وہ براڈشیٹ پر آگئے۔ ابھی وہ گفتگو لندن کے بارے کررہے تھے اور اب سوال کا رخ امریکہ کی طرف مڑ گیا تھا جہاں براڈشیٹ کا ہیڈ آفس تھا۔ جنرل امجد نے فوراً خود کو سنبھالا اور پتہ نہیں چلنے دیا کہ وہ اس سوال پر الجھ گئے ہیں۔ جنرل امجد کے سامنے بیٹھے چھ افسران میں سے ایک ایف آئی اے‘ دوسرا نیب‘ تیسرا ایس ای سی پی سے تھا‘ایک سٹیٹ بینک سے اور دو ریٹائرڈ بریگیڈیئر تھے۔ جنرل نے چہرے پر تاثر نہیں ابھرنے دیا کہ وہ اس وقت کیا سوچ رہے تھے اور پورے اعتماد سے جواب دیا: جی براڈ شیٹ ایک کمپنی تھی جس سے ہم نے معاہدہ کیا تھا کہ وہ بیرون ملک سے پاکستانیوں کے لوٹے ہوئے پیسے واپس لائے گی اور اس دولت میں سے بیس فیصد شیئر اس کمپنی کو دیا جانا تھا۔ نیب کے پاس کوئی میکنزم نہ تھا کہ وہ بیرون ملک پاکستانیوں کی چھپی دولت کو ٹریس کر کے لاسکے ‘لہٰذا دو تین عالمی کمپنیوں کو ڈھونڈا گیا کہ وہ دولت ڈھونڈ کر لائیں اور اس میں سے اپنا بیس فیصد حصہ لے لیں۔ان کمپنیوں نے خود ہی سارے اخراجات کرنے تھے‘ پاکستانیوں کی دولت ٹریس کرنا تھی اور جب وہ پیسے ریکور ہوجاتے تو اس میں سے اپنا بیس فیصد لینا تھا۔

اس انکوائری کمیٹی کے ممبران کی آنکھوں میں ابھرتے سوالات دیکھ کر جنرل امجد کو اپریل 2000 ء کی اسلام آبا د میں نیب کے دفتر کی ایک دوپہر یاد آگئی جب ان سے لاہور کے دو بزنس مین ملنے آئے تھے۔ایک کا نام غضنفر علی سید اور دوسرے کا نام طارق فواد ملک تھا۔ غضنفر علی لاہور میں ایک چھوٹے ٹیکسائل یونٹ کے سربراہ تھے اور طارق فواد ملک وہ فیکٹری چلا رہے تھے۔ طارق فواد ملک کا بڑا تعارف یہ تھا کہ وہ ایک سابق لیفٹیننٹ جنرل نعیم اکبر کے داماد تھے۔ یہ ملاقات ہونے کی بڑی وجہ جنرل نعیم اکبر کاریفرنس بھی تھا۔ طارق فواد ملک اس سے پہلے ایئرفورس میں پائلٹ تھے لیکن چند الزامات کی وجہ سے کورٹ آف انکوائری کے بعدسروس سے نکال دیے گئے تھے۔جنرل امجد کو طارق فواد ملک کے اس بیک گرائونڈ کا علم نہ تھا‘ انہیں صرف اتنا پتہ تھا کہ وہ جنرل نعیم کے داماد ہیں۔ طارق فواد ملک نے اپنی مل کے مالک غضنفر علی سید کا تعارف جنرل امجد کو یوں کرایا کہ وہ بہت بڑے بزنس مین ہیں اور ان کے گروپ کا نام GSA ہے جو دراصل غضنفر علی سید کے نام کا مخفف تھا لیکن یوں لگتا جیسے کوئی بہت بڑی عالمی کمپنی ہے۔ جنرل امجد کو یہ بھی علم نہ تھا کہ جنرل نعیم اکبر کا داماد طارق فواد ملک اسی GSA صاحب کا ملازم تھا۔طارق ملک نے جنرل امجد کو بتایا کہ ان کے پاس ایک بزنس پرپوزل ہے۔ فواد نے بتایا کہ وہ امریکہ میں ایک کمپنی Trouvons کے نمائندے ہیں۔طارق فواد ملک نے جنرل امجد کو کہا کہ وہ انہیں دنیا بھر میں پاکستانیوں کی غیر قانونی جائیدادوں اور بینکوں میں رکھا پیسہ ریکور کرنے میں اس کمپنی کی مدد دلاسکتے ہیں۔فواد ملک کا کہنا تھا کہ نیب یہ فارن فرم ہائر کر لے تو بہت جلد پاکستانیوں کے بارے نہ صرف انہیں اطلاع ملنا شروع ہوجائے گی بلکہ ریکوری بھی شروع ہوجائے گی۔

جنرل امجد کو طارق ملک اور غضنفر علی سید کی باتیں سنتے ہوئے جنرل مشرف کا خیال آیا جو اِن سے بہت سی توقعات لگائے بیٹھے تھے۔جنرل مشرف نے جنرل امجد کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا تھا۔ اگرچہ نواز شریف جیل میں تھے لیکن جنرل مشرف کا دباؤ نیب پر تھا کہ وہ ہر صورت نواز شریف خاندان کی کرپشن پر کام کرے اور ان کے خلاف کارروائی کرے۔ جنرل امجد اب تک درجنوں سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو نیب کی جیل میں ڈال چکے تھے۔ ان کے جو ہاتھ لگا انہوں نے پکڑ کر نوے روز کیلئے جیل میں ڈال دیا اورپھر بھول گئے کوئی ان کا قیدی بھی تھا‘وہ زندہ تھا یا مر گیا۔جنرل امجد کو لگا کہ انہیں جس کمپنی کی تلاش تھی وہ مل گئی ہے۔ اب وہ اس کمپنی کے ذریعے نہ صرف شریف خاندان کے کڑاکے نکال دیں گے بلکہ سب کرپٹ سیاستدانوں اور سویلینز کی بیرون ملک پڑی جائیدادیں واپس لائیں گے۔ طارق فواد ملک نے کامیابی سے جنرل امجد کو پوری کہانی بیچ دی تھی۔ طارق فواد ملک نے وہیں بیٹھے بیٹھے ایک اور کارڈ کھیلا اور فوراً جنرل امجد کو امریکی دورے کی دعوت دی کہ وہ خود چل کر جس فرم سے ان کی ڈیل کرانا چاہتے ہیں‘ اس کا ہیڈکوارٹر دیکھیں اور وہاں لوگوں سے ملیں تو اندازہ ہوگا یہ کمپنی کس پیمانے پر کام کرتی ہے اور کیسے اسے اس کام میں مہارت رکھتی ہے کہ یہ دنیا بھر سے اثاثے تلاش کرکے پاکستان کے حوالے کرے گی۔ جنرل امجد طارق فواد ملک کی اس پیش کش پر فوراً امریکہ کے دورے پرتیار ہوگئے۔جب جنرل امجد امریکہ کے ٹرپ سے لوٹے تو وہ مکمل طور پر نہ صرف متاثر ہوچکے تھے بلکہ اس کمپنی کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ کرنے پر بھی تیار تھے۔ انہیں لگ رہا تھاکہ طارق فواد ملک نے انہیں بیٹھے بٹھائے آسمان سے تارے توڑ کر لا دیے ہیں‘ اب جنرل مشرف پوری قوم کو فخر سے بتا سکتے ہیں کہ میرے چیئرمین نیب نے کیا کمال کام کیا ہے۔

جنرل امجد امریکہ میں براڈشیٹ کے دفتر کے دورے اور وہاں ہونے والی ملاقاتوں کے نتائج سے بہت خوش تھے۔انہوں نے اسلام آباد اترتے ہی سب سے پہلے نیب کے پراسیکیوٹر جنرل فاروق آدم ملک کو بلایا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ ہرگز دیر نہ کریں اور فوری طور پر اس کمپنی سے ایک عالمی معاہدہ کریں اور ان کی سروسز ہائر کر کے دنیا بھر میں پھیلی پاکستانیوں کی دولت کا سراغ لگا کر واپسی کے انتظامات کیے جائیں۔ جنرل امجد کو پتہ نہ تھا کہ انہیں اس کمپنی کے بہت سے معاملات کی خبر نہ تھی جس کے ساتھ وہ اتنا بڑا معاہدہ کرنے پہنچ گئے تھے۔

امریکہ میں جنرل امجد کی ملاقات کمپنی کے مالک جیری جیمز اور ڈاکٹر پیپرز سے کروائی گئی۔ ان دونوں نے جنرل امجد کو یقین دلایا کہ ان کے پاس وہ صلاحیتیں ہیں کہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں چھپی دولت ڈھونڈ کر ان کے قدموں میں ڈھیر کر دیں گے۔ وہ نیب کو پوری مدد دیں گے۔جنرل امجد کو پوری طرح گھیرا جا چکا تھا۔ امریکہ کے دورے نے جنرل کو بدل دیا تھا۔ سولہ برس بعد جب جنرل امجد لندن میں جج انتھونی ایونز کو براڈشیٹ مقدمے پر گواہی ریکارڈ کرا رہے تھے تو انہیں پتہ تھا کہ ان کے ساتھ دھوکا کیا گیا تھا لیکن وہ اب کیسے یہ بات گورے جج کو سمجھاتے؟

سوال یہ تھا کہ جنرل امجد جیسا بندہ یہ دھوکا کیسے کھا گیا؟ وہ اس سوال کا جواب برسوں بعد بھی خود سے چھپا رہے تھے۔ وہ راز جس کی وجہ سے پاکستان کو بیس برس بعد لندن کی عدالت میں پانچ ارب روپے کا جرمانہ بھرنا پڑ گیا۔ کروڑوں ڈالرز کے اس کارپوریٹ دھوکے کی بنیاد امریکہ واپسی پر جنرل امجد کے دفتر میں 2000ء میں رکھی گئی تھی۔ جنرل خود پر حیران تھا کہ وہ کیسے سامنے کی ایک اہم بات کو نظرانداز کرگئے جس کا اعتراف وہ لندن کے سر انتھونی ایونز کی عدالت میں 2016ء میں کررہے تھے۔ کیا جنرل نے اپنے جن قریبی لوگوں پر بھروسا کیا تھا انہوں نے انہیں دھوکا دیا تھا؟(جاری )

اپنا تبصرہ بھیجیں