مہربان.. عرشی نور

سچاٸ پر مبنی کسی دوست کی آپ بیتی۔۔۔۔۔۔
امی میری طبیعت ٹھیک ھونے کا نام ہی نہيں لے رہی کیا کروں اب تو ادھار بھی پانچ ہزار ھو گۓ میڈیکل والے کے اور جو بکری بیچی تھی سولہ ھزار اسکے بھی ختم ھو گۓ سارے پیسے خرچ ھو کر بھی میرا مرض ٹھیک نہيں ھو رہا اوپر سے یہ اتنی لمبی لسٹ ٹیسٹ کی لکھ دی ڈاکٹر نے پتہ نہيں یہ کتنے کے ھونگے ؟؟ بیمار ماں کے سرہانے لیٹ کر وہ اپنے آنسو حلق میں اتارتے ھوۓ باتیں کر رہی تھی
ماں نے اپنے آنسو صاف کیۓ اور تسلی دی بیٹی کو کہ ٹھیک ھو جاٶگی ۔۔۔۔۔۔
وہ یک دم چارپاٸ سے اٹھی اور زور زور سے کھانسنے لگی کھانستے کھانستے اسکا سانس بند ھو گیا اور وہ تڑپنے لگی ماں نہيں دیکھ سکتی تھی اسکو اس حال میں وہ اسکی پیٹھ سہلا کر اسکا سفید ھوتا رنگ دیکھ کر کمرے سے باہر چلی گٸ ۔۔۔۔۔
اریبہ کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ ٹپکے اور اس نے سسکتے ھوۓ رکتی سانسوں سے آسمان کی طرف دیکھا اور دعا کی یارب اس سے زیادہ اذیت نا دے یا اٹھا لے اسی حال میں یا مجھے صحت سے نواز دے نہيں سہہ سکتی میں یہ سب نا ماں کو دیکھ سکتی ھوں نا گھر کے حالات نا ماں مجھے بستر پہ پڑا ھوا دیکھ سکتی ھے یارب اس سے زیادہ نا تڑپا اب بس کر دے یا ربی۔۔۔۔۔۔
ہچکیوں کے دوران اپنی رکتی چلتی سانسوں سے اپنے رب سے گلے شکوے کرتی وہ سو گٸ لیکن ماں بار بار آتی اسکا چہرہ دیکھتی اور رو پڑتی ۔۔۔۔
صبح اٹھتے ہی اریبہ نے اپنے ایک جاننے والے سے بات کی جو کسی ھسپتال کے سوپر واٸزر تھے اور اچھے خاصے کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ۔۔۔۔
سلام دعا کے بعد اریبہ نے ان سے مدد مانگی کہ فیصل سر مجھے کچھ ٹیسٹ کروانے ھیں جو لازمی ھیں میرے لیۓ طبیعت کا آپکو بتایا تھا نہيں سنبھل رہی اب ڈاکٹرز بھی چیک اپ نہيں کر رھے بغیر ٹیسٹ کے آپ کچھ مدد کر دیں گے میری میں بعد میں لوٹا دونگی آپکو پیسے ۔۔۔۔۔
وہ اسکی بات سن کر اطمینان سے بولے جی ضرور کروا دونگا مجھے خوشی ھوگی کہ آپکے کسی کام آ سکوں۔۔۔۔
اریبہ کے مایوس چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گٸ اور وہ مسکراتے ھوۓ انکا شکریہ ادا کرنے لگی ۔۔۔۔
سنو اریبہ آپ نے ایک بات غیروں والی کی جو مجھے اچھی نہيں لگی۔۔۔۔
اریبہ فوراًپریشانی سے بولی کونسی بات بری لگی آٸ ایم رٸیلی سوری سر ۔۔۔۔۔
یہی بات کہ آپ پیسے لوٹا دینگی میں نے کبھی آپ سے پیسوں کا سوال کیا ھے؟ آٸندہ ایسی بات مت کرنا آ جاٶ آپ ہفتے کو چار بجے تک میں کروا دونگا آپکے ٹیسٹ اوکے ٹیک گڈ کیٸر اللہ حافظ۔۔۔۔۔۔
اریبہ ھفتے کو چل پڑی ھسپتال اکیلے ہی جانا پڑا اسے کیونکہ ھسپتال اس کے گھر سے کوسوں دور تھا رکشے کا کرایہ وہ افورڈ نہيں کر سکتی تھی بسوں اور ٹریفک کے دھکے کھاتے کھاتے وہ دو گھنٹے کی خواری کاٹ کر ھسپتال پہنچی۔۔۔۔۔
فیصل سر کے سامنے بیٹھی وہ اپنی پرانی رپورٹس دکھانے لگی وہ اسکی رپورٹ دیکھنے لگے پھر چاۓ پی اور اِدھر اٗدھر کی چار باتیں کر کے کہا اریبہ آپ لیب سے ھو آٶ پھر میں آپکا چیک اپ کرتا ھوں اور میڈیسن بھی لے دونگا ۔۔۔۔فیصل سر نےاپنے آفس بواۓ کے ساتھ اسکو لیب میں بھیجا کہ جاٶ اختر سر سے کہو یہ سارے ٹیسٹ کروانے ھیں میڈم کا بلڈ سیمپل لے لیں ۔۔۔۔۔
اریبہ اب انکے سامنے کھڑی تھی وہ بولے چادر ہٹاٶ اس نے چادر ہٹاٸ دونوں ہاتھوں سے اسکی پسلیاں پکڑ کر کہا کھانسو اب ۔۔ وہ انکے کہنے پر کھانسی فیصل کے ہاتھ چیک اپ کے دوران پسلیوں سے اوپر اٹھے اور اسکے سینے کے قریب آ گۓ پھر بولے اب کھانسو وہ تھوڑا گھبراٸ لیکن مجبور تھی ڈاکٹر تھے وہ ۔۔۔ پھر وہ اپنا ہاتھ سینے پر جا کر لگانے لگے تو وہ انکا ہاتھ جھٹک کر بولی پلیز سر اسطرح چیک نا کریں مجھے ۔۔۔۔۔
وہ مسکراۓ ڈاکٹر سے کیسی شرم آپکا مسٸلہ ہی سارا سینے کا ھے کس طرح چیک کروں پھر مجھے دیکھنے دیں ۔۔۔۔
انکے ہاتھ اب اسکی پسلیوں پر تھے پھر وہ بولے شرٹ اوپر کرو تھوڑی سی پسلیاں آپکی بہت سوجھی ھوٸ ھیں ۔۔۔
اریبہ نے فوراً انکار کر دیا کہ نہيں میں شرٹ اوپر نہيں کر سکتی ۔۔۔
فیصل سر نے گہری سانس لے کر ھنسے اور ہاتھ اپنے sanitize کیۓ کہ کہیں کوٸ جراثيم نا لگ جاٸیں آپ کا کبھی آپریشن کرنا پڑ گیا تو کیا کروگی پھر آپ تو چیک اپ ہی نہيں کرنے دیتیں خیر ۔۔۔۔
وہ چادر ٹھیک کرتے ھوۓ بولی اللہ وہ نوبت نا لاۓ سر ۔۔۔۔
اوکے اللہ خیر کریگا پریشان مت ھو میں رپورٹس واٹس اپ بھی کر دونگا اور کہو تو TCs بھی کر دونگا ۔۔۔۔
اریبہ نے مسکراتے ھوۓ انکا شکریہ ادا کیا ۔۔۔۔۔
اریبہ آدھا راستہ میں ڈراپ کر دیتا ھوں آپکو آپ باہر جا کر سگنل پر کھڑی ھوں میں دو منٹ میں آیا ۔۔۔۔۔
اریبہ نے ٹاٸم دیکھا چھ بج رھے تھے بس میں جاتی تو رات ھو جاتی ابھی بھی شام نے اندھیرا پھیلانا شروع کر دیا تھا امی کے فون بھی آنے لگے کہ کہاں تک پہنچی ھو گھر جلدی آٶ وہ ساری پریشانیاں اٹھا کر انکے آفس سے نکلی اور سگنل پر کھڑی ھو گٸ ۔۔۔۔
فیصل کی لمبی سی چمچماتی کار اسکے سامنے رکی وہ بیٹھ گٸ۔۔ خاموشی سے کچھ سفر کٹا اور کچھ گھریلو باتیں کرتی رہی وہ ان سے ۔۔۔۔
ٹاور کے سگنل پر اریبہ اتری اور انکو اللہ حافظ کہا ۔۔۔
اسٹاپ پر کھڑے کھڑے اسکی طبیعت پھر بگڑی کھانستے کھانستے اسکا سانس بند ھونے لگا پاس کھڑی دو لیڈیز نے اسے سنبھالا کچھ دیر بعد اسکی سانس بحال ھوٸ اور اس نے پھر گاڑیاں دیکھنا شروع کر دیں ۔۔۔۔۔
رات عشا کی اذان کے قریب وہ گھر پہنچی ۔۔۔۔۔
اور جاتے ساتھ وہ کپڑے اتار پھینکے جس پر فیصل کے ہاتھ لگے تھے پھر خوب پانی بہاتی گٸ خود پر اور روتی رہی کہ کسطرح اسکے ہاتھوں کی غلاظت وہ اتارے ۔۔۔۔
رات ک وہ جاگتی رہی اور خودکو کوستی رہی کہ اس نے انکو چیک اپ کی اجازت دی ہی کیوں؟ اریبہ کا بس نہيں چل رہا تھا کہ وہ خود کو نوچ کھاتی ۔۔۔۔
اسے کسی صورت سکون نہيں آرہا تھا خود کو لعنت ملامت کرتے کرتے تھک ہار کے وہ رب کے حضور حاضر ھوٸ اور تڑپ تڑپ کے روٸ یا رب میں گندی ھو گٸ آج بہت گندی کسی غیر کے ہاتھوں نے کیسے چھو لیا مجھے وہ پھوٹ پھوٹ کر معافیاں مانگنے لگی پوری رات اسکی سجدے میں آنسو بہاتے گزر گٸ۔۔۔۔۔۔۔۔
دو دن فیصل صاحب کی طرف سے کوٸ جواب موصول نہيں ھوا ۔۔۔ اریبہ کو اک دھڑکہ سا لگا کہ اسکے ٹیسٹ نہيں ھوۓ ھونگے ۔۔۔ لیکن وہ پھر بھی خود کو تسلی دینے لگی کہ فیصل سر ایسا نہيں کر سکتے لیکن دل بجھ سا گیاتھا پہلے ہی اسکا اور وہ مذید پریشان ھ گٸ کہ ماں کو کیا جواب دے گی ؟۔۔۔۔
ہفتے سے منگل آیا اس نے رابطہ کیا تو یہ جواب موصول ھوا۔۔۔۔
ارے ریٸلی سوری اریبہ لیب والے کو کورونا ھو گیا وہ آیا ہی نہيں اور آپکا بلڈ سیمپل اسی کے پاس تھا آپ کے ٹیسٹ نہيں ھو سکے ۔۔۔۔۔۔۔
آنسو قطرہ قطرہ کر کے اسکی آنکھوں سے ٹپکے اسطرح جیسے زخموں سے خون رس رہا ھو۔۔۔۔۔۔
اس نے موبائل دوبارہ اٹھایا اور میسج ٹاٸپ کیا ۔۔
سر مجھے کچھ کہنا تھا آپ سے
میرے لیۓ آپ بہت قابل احترام تھے چار سال سے ایک باعزت سلام دعا کا تعلق تھا آپ سے کم از کم جو عزت میں نے آپکو بخشی تھی اسی کا احترام کر لیتے مجھے پتہ تھا آپ جھوٹ سے کام لیں گے آپ کوٸ نا کوٸ بہانا ضرور کریں گے ۔۔۔۔
میرے ٹیسٹ نا ھونے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ آپکے کہنے پر میں اپنی قمیض تھوڑی اوپر کرتی اور چیک اپ کے دوران آپکا ہاتھ میرے سینے سے نیچے جاتا تو یقيناً لیبارٹری والے کو کرونا نا ھوتا اور میرے ٹیسٹ ھو جاتےلیکن افسوس آپکی خواہش پوری نہيں ھو سکی ۔۔۔۔
اور رہی بات میری مدد کی تو ربِ عظیم نے آپکو اس قابل ہی نہيں سمجھا کہ آپ کسی ضررتمند کی مدد کر سکیں مجھے لگتا ھے مجھ سے زیادہ آپ مجبور ھیں اپنے روپے پیسے کے ہاتھوں اتنے مجبور کہ گناہ ثواب کی تمیز ہی بھول گۓ ۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں