سچا خواب ..محمد بلال رشید

سچا خواب…..!
وہ ہڑبڑا کر اٹھا تھا، اس کی آنکھوں سے آنسو نکل کر اس کے باریش چہرے پر بہہ رہے تھے… ایک خواب بھی اس قدر تڑپا سکتا ہے،۔ اسے اندازہ نہیں تھا… دسمبر کی ٹھٹھرتی رات تھی اور گھڑی پر بارہ بجنے میں صرف چند منٹ باقی تھے۔ اس کے کانوں میں ایک معصوم بچے کے الفاظ اب بھی گونج رہے تھے کہ:
استاد جی مہربانی کریں، آپ نا جائیں……
خواب سے بیدار ہونے کے بعد بھی وہ دیر تک روتا رہا تھا گزشتہ دو تین سال سے وہ پرائیویٹ سکول میں پڑھا رہا تھا۔ تنخواہ اگرچہ معمولی تھی مگر وہ محنت اور لگن سے اپنا کام کرتا، وہ خود غربت کی چکی میں پس کے بڑا ہوا تھا اس لیے اسے احساس تھا کہ ایک بچے کو سکول بھیجنے والا باپ اپنے اوپر کتنی مشقتیں جھیل کر اپنی اولاد کو یہ موقعہ فراہم کرتا ہے، لہذٰا وہ سکول کے لیے نہیں بلکہ سکول کے بچوں کے لیے سوچتا تھا۔ اسے ہر بچے میں اپنا آپ دکھائی دیتا تھا۔
بچے ، جو من کے بہت سچے ہوتے ہیں، بھی اس سے بہت مانوس تھے، یوں سمجھیے کہ بچے سکول آتے ہی اس کی وجہ سے تھے، اگر کبھی کسی کلاس سے کوئی استاد چھٹی پر ہوتا تو بچے اسے بلانے فوراً آ پہنچتے کہ سر ہمارا پیریڈ خالی ہے پلیز آپ ہماری کلاس میں آجائیں۔ مگر وہ دن اس کے لیے بہت اذیت ناک تھا جب وہ یہ سکول چھوڑ کر جا رہا تھا… یا یوں سمجھیے کہ اسے نکال دیا گیا تھا۔
ہوا کچھ یوں کہ وہ گرمیوں کی چھٹیاں گزار کر سکول حاضر ہوا، سکول کے پرنسپل نے اسے دفتر بلا کر کہا کہ بچے ہماری بات نہیں مانتے ، آپ سے چونکہ بچے زیادہ مانوس ہیں اس لیے آپ انہیں بتائیں کہ یہ چھٹیوں کی فیس لا کر جمع کروائیں تاکہ ہم سٹاف کو تنخواہیں دے سکیں۔ اس نے پرنسپل کی بات سن کر اثبات میں سر ہلا دیا۔ ستمبر شروع ہونے میں ابھی کچھ دن باقی تھے اس نے بچوں کو سمجھانا شروع کر دیا کہ ان کے سکول فیس ادا نہ کرنے کی وجہ سے سٹاف کی تین ماہ کی تنخواہیں رکی ہوئی ہیں، اگر وہ مزید دیر کریں گے تو اساتذہ کے لیے بہت سی مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ اس کے کہنے پر بچوں نے والدین سے ضد کر کے بقایا جات ادا کر دیے۔
پرنسپل اس سے بہت خوش تھا۔ یکم قریب آتے ہی وہ بھی پر امید تھا کہ اسے گزشتہ تین ماہ کی تنخواہ ایک ساتھ ملے گی جس سے وہ چھٹیوں کے دوران لیا گیا قرض اتار سکے گا۔ یکم سے دس تک کا عرصہ اس نے دن گن گن کر گزارہ، دس پر بھی جب اسے تنخواہ نہ ملی تو مجبوراً اسے پرنسپل کو کہنا پڑا کہ اسے پیسوں کی اشد ضرورت ہے، مگر پرنسپل کی طرف سے جو جواب ملا، اسے اِس کی بالکل بھی توقع نہیں تھی
” چھٹیوں کے صرف ایک ماہ کی تنخواہ ملے گی( جس ماہ کے درمیان کچھ دن کلاسز ہوئی تھیں) باقی دو مہینوں کی تنخواہ آپ کو نہیں مل سکتی”
یہ الفاظ نہیں، نشتر تھے جو کسی نے بڑی بے رحمی سے اس کے سینے میں پیوست کر دیے تھے، اس دن کا باقی حصہ اُس نے بڑی بے چینی سے گزارہ تھا، اس نے طے کر لیا تھا کہ وہ آج کے بعد اس سکول میں نہیں آئے گا، بچے آج بھی اس کے اردگرد گھوم رہے تھے،۔ مگر وہ دھندلی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہا تھا۔
آج جب تین ماہ بعد اسے جواب میں وہی منظر دکھائی دیا تو اس کی آنکھوں کی دھندلاہٹ چھٹ گئی تھی، اس لیے کہ بچے منمنا کر اسے روک رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ
” سر پلیز آپ نہ جائیں”
وہ چاہتا تھا کہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہیں رک جائے مگر پیٹ کی آگ اور غربت کی سختی نے اسے بے بس کردیا تھا۔

#حادثات

اپنا تبصرہ بھیجیں