سورج کیسے تباہ ہو گا اور پھر زمین کے ساتھ کیا ہو گ

< سورج کیسے تباہ ہو گا اور پھر زمین کے ساتھ کیا ہو گا >

(قیامت کی نشانی)

سورج کی تشکیل آج سے تقریباً پانچ ارب سال پہلے ہوئی- اس وقت سے سورج مسلسل ہائیڈروجن کو ہیلیئم میں تبدیل کر رہا ہے اور اس عمل کے دوران Energy پیدا کر رہا ہے- لیکن سورج ہمیشہ کے لیے نہیں رہے گا- سورج کا خاتمہ کس طرح سے ہو گا؟ آئیے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں

کسی بھی ستارے کے مستقبل اور ماضی کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کی موجودہ حالت کو دیکھنا ہوتا ہے- ہم کسی سورج کا ٹمپریچر کیسے معلوم کرتے ہیں اور ہمیں کیسے پتا چلتا ہے کہ فلاں ستارہ کتنے ارب سال پہلے بنا تھا اور تقریباً کتنے سال بعد ختم ہو گا یہ میں تفصیل سے بتا چکا ہوں میری اس پوسٹ میں پڑھ لیں
👇
https://www.facebook.com/100011381143566/posts/1615569655499057/?app=fbl
👆

سورج کا تمام تر ماس ہر وقت سورج کے مرکز کی طرف گرنے کی کوشش کر رہا ہے- لیکن سورج کی کور میں Nuclear Reactions سے پیدا ہونے والی انرجی کا باہر کی طرف دباؤ اس قدر زیادہ ہے کہ وہ سورج کے ماس کو مرکز کی طرف گرنے سے روکے ہوئے ہے- سورج کی کور میں ہائیڈروجن کے ایٹم Fusion کی وجہ سے ہیلیئم کے ایٹموں میں تبدیل ہو رہے ہیں- سورج کی کور کا درجہ حرارت ڈیڑھ کروڑ سینٹی گریڈ ہے- اس پراسیس سے پیدا ہونے والا دباؤ سورج کے ماس کو باہر کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے-

جب سورج کی کور میں ہائیڈروجن ختم ہو جائے گی اور کور میں صرف ہیلیئم ہی رہ جائے گی- ہائیڈروجن کی عدم موجودگی کی وجہ سے کور میں Fusion کا عمل بند ہو جائے گا اور سورج کی کور میں کوئی Energy پیدا نہیں ہو گی- کور میں اُس وقت جو درجہ حرارت اور دباؤ ہو گا وہ ہیلیئم کے Fusion کے لیے ناکافی ہو گا- ہیلیئم کے فیوژن کے لیے دس کروڑ سینٹی گریڈ درجہ حرارت درکار ہوتا ہے لیکن اُس وقت سورج کی کور میں درجہ حرارت گر رہا ہو گا
اب سورج کی گریویٹی سورج کے ماس کو مرکز کی طرف دھکیلنے میں کامیاب ہونے لگے گی- سورج کے اندر کور کی طرف Demolition شروع ہو جائے گا لیکن اس Demolition کی وجہ سے سورج کی کور کا درجہ حرارت بڑھنے لگے گا- پھر کئی سالوں میں کور کا درجہ حرارت دس کروڑ سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے گا اور ہیلیئم کی Fusion کا پروسیس شروع ہو جائے گا جس کے نتیجے میں کور ایک زبردست دھماکے سے پھیلنے لگے گی-

اس وقت سورج ایک Red Giant Star بن چکا ہو گا جس کا Diameter اس قدر زیادہ ہو چکا ہو گا کہ نظام شمسی کے پہلے دو سیاروں عطارد (Mercury) اور زہرہ (Venus) تک سورج پھیل جاۓ گا اور ان دونوں سیاروں کو اپنے اندر سما لے گا اور سورج کی سطح زمین کے پاس پہنچ چکی ہو گی-
اس وقت تک زمین پر بسنے والے انسان اس قدر ترقی یافتہ ہو چکے ہوں گے کہ سورج کے قریب آنے کی وجہ سے جو گرمی بڑھ چکی ہے اس سے بچنے کیلئے وہ سمندروں کے اندر پورے کے پورے شہر آباد کر لیں گے اور پہاڑوں کو اندر سے کاٹ کر اس میں شہر آباد کر لیں گے جیسے موجودہ زمانے میں پہاڑوں کو اندر سے کاٹ کر سرنگ بناتے ہیں

سورج کے اتنا پھیل جانے کے بعد اب سورج کی کور میں ہیلیم کے ایٹم فیوژن کے عمل سے کاربن کے ایٹموں میں تبدیل ہونے لگیں گے- سورج اس حالت میں کئی سالوں تک رہے گا- اس اضافی توانائی کے اخراج سے سورج کی بیرونی پرتیں مزید پھیلنے لگیں گی اور سورج زمین کے اتنا قریب آ جاۓ گا کہ چاند کو بھی اپنے اندر سما لے گا اور انسان جب اتنی قریب سے سورج کو دیکھے گا تو اسے اتنی روشنی نظر آۓ گی کہ اس کی آنکھیں چندیا جائیں گی (Eyes Widened)، جیسے آپ دوپہر کے وقت سورج کی طرف ایک سیکنڈ کیلئے بھی نہیں دیکھ سکتے اگر دیکھیں گے تو آنکھیں چندیا جائیں گی اور سورج کے اتنا قریب ہونے کی وجہ سے جو حرارت نکلے گی وہ اتنی زیادہ ہو گی کہ سمندروں کا اربوں ٹن پانی بھی ایسے ابلنے لگے گا جیسے ہم گھر میں آگ پر پانی ابالتے ہیں

اس کے بعد سورج مزید بڑا ہو کر زمین کو بھی اپنے اندر سما لے گا اور پھر مختلف مراحل سے گزرتے ہوۓ سورج بھی تباہ ہو جاۓ گا اس کی تفصیل پھر کبھی بتاؤں گا فلحال جتنا بتایا ہے اس کو ذہن میں رکھیں۔

پہلے تو ملحدین کو بتا دوں کہ یہ اوپر لکھی ہوئی ساری انفارمیشن میں نے مدرسے میں کسی مولوی کے پاس بیٹھ کر نہیں بنائی بلکہ یہ ایک ویب سائٹ سے لی ہے اور یہ کوئی لوکل ویب سائٹ نہیں بلکہ Space کے متعلق دنیا کی سب سے بڑی ویب سائٹ ہے جی ہاں دنیا کی سب سے بڑی ویب سائٹ، جس کا ہیڈ ڈائریکٹر نیل آرم سٹرانگ (چاند پر جانے والا پہلا شخص) رہ چکا ہے اور ابھی بھی ناسا کے فلکیات دان اس کو چلا رہے ہیں
آپ یہ ساری انفارمیشن اس ویب سائٹ میں پڑھ سکتے ہیں لنک میں دے رہا ہوں
👇
https://www.space.com/14732-sun-burns-star-death.html
👆
اس بارے میں مزید تفصیل ناسا کی آفیشل ویب سائٹ سے بھی مل جاۓ گی

اب آ جائیں قرآن کی طرف

قرآن قیامت کا حال کچھ اس طرح بیان کرتا ہے 👇

” یہ (انسان) پوچھتا ہے کب آۓ گا قیامت کا دن ؟
پس جب آنکھیں چندھیا جائیں گی۔
اور چاند بےنور ہوجائے گا۔
اور چاند اور سورج ملا دیے جائیں گے۔
اس وقت انسان کہے گا کہاں بھاگ کر جاؤں ؟
نہیں نہیں ! (آج) پناہ کی کوئی جگہ نہیں ۔
آج کے دن تیرے رب کی طرف تیرا ٹھکانا ہے۔

اور (اس دن) سمندروں کو ابال دیا جاۓ گا۔ ”

سورۃ 75 القيامة – آیت 6 – 12
سورۃ 82 الإنفطار – آیت 3

مزید بس اتنا ہی کہوں گا اس قرآن میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو غور وفکر کرتے ہیں اور عقل سے کام لیتے ہیں

” عنقریب ہم اِن کو اپنی نشانیاں اطراف عالم میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی یہاں تک کہ اِن پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا رب ہر چیز کا شاہد ہے؟ ”

(القرآن – سورۃ 41 فصلت – آیت 53)

اپنا تبصرہ بھیجیں