فن کار، شاہ نور اسٹوڈیو اور سیلفی..محمد اکرم مپال

چند ماہ پہلے لاہور میں، جہاں دیدہ و متاثر کن شخصیت کاشف صاحب (کنسلٹنٹ) کے ہاں ڈیٹا انٹری، رسپشنسٹ وغیرہ کی نوکری کر رہا تھا۔ کاشف صاحب کو اپنے لکھے چند شارٹ فلموں کے اسکرپٹ پڑھواٸے تو متاثر ہوٸے۔ مشورہ دیا، چھٹی والے دن شاہ نور اسٹوڈیو چلے جاٶ۔ چوں کہ اسٹوڈیو ان کے گھر کے پاس پڑتا، اس لیے وہاں تک ڈراپ کر دیں گے۔ چھٹی کا سارا دن وہاں گزارنا، ایکٹرز ، ڈاٸریکٹرز، راٸٹرز سب کچھ ایک چھت کے نیچے مل جاٸیں گے، اپنے اسکرپٹس ان کو پیش کرنا وغیرہ۔ میں خوش ہو گیا، شاہ نور اسٹوڈیو جسے غالبا ایور گرین اسٹوڈیو بھی کہا جاتا ہے کے بارے میں بہت کچھ سنا اور کلاسک فلموں میں دیکھ رکھا تھا۔ کاشف صاحب سے درخواست کی کہ وہ بھی اندر تک میرے ساتھ چلیں مگر انھوں نے معذرت کر لی کہ وہ جگہ بدنام ہے، شریفوں کا علاقہ نہیں کہلاتی اس لیے ساتھ نہیں جاٸیں گے۔ کسی جاننے والے، ہمساٸے نے دیکھ لیا تو باتیں بنیں گی۔
خیر ایک دن سہ پہر کو لاہور ایور گرین (شاہ نور ) اسٹوڈیو جانے کا اتفاق ہوا۔۔۔ گھومتے گھومتے اسٹوڈیوز کی پچھلی جانب جا نکلا۔ کبھی یہاں جو اک شہر آباد تھا وہ رونقیں اب کہاں؟ (اسٹوڈیو سکڑ سمٹ گیا ہے، عمارات کے بڑے حصے میں، کاروباری حضرات نے گودام وغیرہ بنا رکھے ہیں۔ پچھلے حصے میں چند حضرات کے دفاتر بھی ہیں اور کچھ بے آسرا فنکاروں کو ہاسٹل وغیرہ بھی مہیا کیے گٸے ہیں۔)

عمارتوں کی خستہ حالی اور مہیب سناٹا داستان الم سنا رہا تھا۔ آگے بڑھتے مجھے لیڈیز ہاسٹل(گراٶنڈ فلور کےکمرے) میں ڈیک پر مجرا چلنے کی آواز سناٸی دی۔ ہاسٹل کے دروازے کا ایک پٹ وا تھا۔ اندر دو مشٹنڈیوں (فن کاروں) کے رنگین و بھڑکیلے لباسوں کی جھلک دکھاٸی دی جو نصیبو کے واہیات گانے پر مجرا( پریکٹس) کرنے میں مصروف تھیں۔ سرسری انداز میں گھومنے کے بعد دوسرے راستے سے واپس جاتے ہوٸے، پشاور سنٹرل جیل میں ہجوم کو دیکھ کر اس طرف بڑھ گیا۔ وہاں روایتی انداز میں کسی پنجابی فلم کی شوٹنگ جاری تھی۔ ری ٹیک شارٹ لیے جا رہے تھے۔۔۔ لیڈ رول، ایکسٹراز کے لیے کہیں سے دیہاڑی دار مزدوروں کو شامل کر کے، میلی کچیلی و سکڑی سمٹی وردی پہنا دی گٸی تھی۔ گنڈاسا طرز۔۔۔ ستر، اسی کی دہاٸی کی روایتی ایکٹنگ دیکھ کر، مجھے ہنسی چھوٹنے لگی۔ ڈاٸریکشن میں پروفیشنل ازم کی جھلک تھی مگر اداکاری میں روایتی پن کی وجہ سے ڈاٸریکٹر کو بار بار ری ٹیک لینے پڑ رہے تھے۔ چند کرسیوں پر ٹی وی و فلم کے مشہور مگر ریٹاٸرڈ فن کار بیٹھے ماضی کو یاد کرتے سرد آہیں بھر رہے تھے۔ میرے ذہن میں انڈسٹری کی تباہی کو لے کر بہت سے سوالات و آٸیڈیاز کلبلا رہے تھے۔ میں کسی جانی پہچانی اور فعال ہستی کی تلاش میں نظریں دوڑانے لگا کہ ان سے سیر حاصل گفتگو کروں۔۔۔ چند پرانے فنکار کرسیوں پر یٹھے شوٹنگ و انڈسٹری کی موجودہ صورت حال پر نکتہ چینی کر رہے تھے۔ اچانک قریب ہی کسی کے کھلکھلا کر ہنسنے کی آواز آٸی تو میں نے چونکتے، مڑ کر دیکھا۔ زہے نصیب۔۔۔ میرے پیچھے فقط دو فٹ کے فاصلے پر ، سفید کاٹن کی کلف لگی شلوار قمیض میں شفقت چیمہ صاحب ٹانگ پر ٹانگ دھرے کرسی پر تشریف فرما تھے۔۔۔ ان کے ساتھ ایک بکھرے، لمبے بالوں والے ادھیڑ عمر ایکٹر بیٹھے تھے۔ چیمہ صاحب کو پہچانتے حیرانی ہوٸی، دیر سے ان کے قریب موجود تھا مگر خبر نہ تھی۔۔۔ میں فورا اردگرد کے مناظر سے بے خبر ہو کر ان کی طرف متوجہ ہو گیا۔۔۔ چیمہ صاحب کراچی سے تازہ لوٹے تھے اس لیے وہاں کے لڑکے لڑکیوں کے قصے چٹخارے لے کر سنا رہے تھے کہ کراچی کے لڑکے اتنا تیز اور ایڈوانس ہیں کہ پوچھو ناں! چیمہ صاحب نے باتیں کرتے کرتے مجھ پر سرسری نظر ڈالی اور پھر سے کراچی انڈسٹری کی باتوں کو لے کر شروع ہو گٸے کہ انڈسٹری ہے کہاں؟ مستقبل ان بچوں کا ہے۔۔۔ چند لمحے ان کی باتیں سنتے، ساتھ ساتھ مسکراتا رہا، پھر میں نے کسی بات کے جواب میں لقمہ دیا۔” آج کل اس اسٹوڈیو، لاہور میں اردو فلمیں کیوں نہیں بنتیں؟”
چیمہ صاحب جو اپنے ساتھی کی بات کا جواب دینے کے لیے منہ کھولنے ہی لگے تھے، رک گٸے۔ طاٸرانہ نظروں سے میرا جاٸزہ لیا، پھر طنزیہ انداز میں سامنے کی طرف اشارہ کیا۔ ”ڈاٸریکٹر سے جا کے پوچھو۔“
میں جو بات کی شروعات کرنا چاہ رہا تھا، ان کے لہجے اور بات سے شرمندہ ہوگیا۔ وہ مجھے نظر انداز کیے آپس میں دوبارہ ہنس ہنس کے باتیں کرنے لگے تو میں وہیں رکے شوٹنگ کی طرف متوجہ ہو گیا۔ چند لمحوں بعد، جب شوٹنگ کا اختتام قریب آیا اور چیمہ صاحب کرسی پر سے جانے کے لیے کھڑے ہو گٸے تو میں نے اپنا اسمارٹ فون نکالا، تعارف کے لیے ایک اور کوشش کی۔” سر کیا ایک سیلفی لے سکتا؟“
چیمہ صاحب مسکراٸے اور تھوڑا آگے ہوتے ہوٸے میرے کندھے پر دوستانہ دھپ جھاڑی۔” برخوردار، میں کسی اجنبی کے ساتھ سیلفی نہیں بناتا۔۔۔“
چیمہ صاحب پروقار انداز میں آگے بڑھ گٸے اور میں اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ سارا اعتماد ڈانوں ڈول ہو گیا، جوابا بنا کسی ڈاٸریکٹر، پروڈیوسر، راٸٹر سے ملے میں واپس چلا گیا۔۔۔۔ بعد ازاں کچھ دنوں بعد اخبار میں اشتہار دیکھ کر ایکسپریس نیوز کے رپورٹر و نوآموز ڈاٸریکٹر جاوید یوسف صاحب سے رابطہ ہوا اور انھوں نے میرے دو اسکرپٹ پسند کرنے کے بعد فلماٸے۔۔۔

محمد اکرم مپال
21 مارچ، 2021 ٕ

اپنا تبصرہ بھیجیں