کپتان ، اسٹیبلشمنٹ اور موجودہ فساد .. محمد ناصر صدیقی

اسٹبلشمنٹ کا طریقہ کار یہ ہے کہ اپنی مخالف جماعت یا تنظیم کو کمزور کرنے کے لئے اس کے مقابلے میں کسی جماعت یا تنظیم کو لانچ کیا جاتا ہے۔ کئی مضبوط شدت پسند تنظیموں کو کمزور کرنے کے لئے بھی یہی حربہ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ایسا پاکستان میں ہی نہیں بلکہ اکثر ممالک میں ہوتا ہے۔ بھارت میں بھی نکسل تحریک کو کمزور کرنے کےلیے ان کے اندر سے ایک مخالف گروپ تشکیل دیا گیا ۔ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ اس حربے کا کامیاب استعمال کیا ۔ مثلا سندھ میں پیپلز پارٹی کو لگام دینے کےلیے ایم کیو ایم کو سپورٹ کیا جاتا رہا۔ اس سے ہماری بد قسمتی سمجھیے یا اسٹیبلشمنٹ کی خوش قسمتی کہ ہمیشہ ان کو ایسے سیاستدان میسر آتے رہے جو ان کی خواہشات کے مطابق مخالف سیاسی جماعت کو پریشرائز کرتے رہے اور یوں اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ ہماری سیاست میں اپنا ہولڈ بنائے رکھا۔ جنرل ایوب نے ذولفقار علی بھٹو کو اپنج ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ آگے چل کر بھٹو اور فوجی قیادت کے درمیان اختلافات شروع ہوئے اور وہ مارشال لا کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تو اسٹیبلشمنٹ نے اپنے اس مہرے کو کمزور کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اس وقت باقی کسی خاص سیاسی جماعت کی موجودگی نہ ہونے کی وجہ سے بھٹو عوامی سیاست پر چھائے رہے ۔ اگر چہ یحییٰ دور میں مجییب الرحمن کے مقابلے میں بھٹو کو سپورٹ کیا گیا کیونکہ مرکزی قوت کو راولپنڈی میں ہی رکھنا تھا جو بنگال شفٹ ہو جانے پہ ممکن نہ رہتی ۔ لیکن آگے چل کر پیپلز پارٹی کے مقابلے میں پنجاب سے ہی ایک کاروباری سیاستدان ، نواز شریف کو کھڑا گیا ۔

بھٹو اور ضیاء کی وفات کے بعد ان کے مقابلے میں بینظیر صاحبہ آئیں ۔ کیونکہ بینظیر صاحبہ کے والد کو فوج نے مارا تھا لہذا بقول جنرل حمید گل فوج کو اندیشہ ہوا کہ بینظیر کے اقتدار میں آ جانے پہ فوج کی سیاسی قوت کو ختم کیا جائے گا لہذا مذہب کا سہارا لیا گیا اور نواز شریف کی سربراہی میں اسلامی جمہوری اتحاد بنایا گیا ۔ ختم نبوت کے مسئلے پہ بے نظیر پر الزامات لگے ۔ اس کے علاؤہ انھیں مغرب زدہ قرار دیا گیا اور شریعت کے نفاذ کا نعرہ لگایا گیا لیکن اس سب کے باوجود بینظیر نے اتحاد کو شکست دے دی۔ اب اسٹیبلشمنٹ نے بینظیر کو جھکانے کیلئے مختلف حربے استعمال کئے یہاں تک کہ وہ مصلحت کی جانب آئیں ۔ اینٹی اسٹیبلشمنٹ بینظیر نواز شریف کی حرکتوں سے اس قدر تنگ تھیں کہ پرویز مشرف کا مارشل لاء لگنے پر بےنظیر نے اس عمل کی حمایت کی ۔ نواز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ جس وقت تک انھیں کچھ نہ کچھ ملتا رہے وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رہتے ہیں لیکن جیسے ہی ہاتھ کھینچا جائے۔ وہ آنکھ دکھانے میں دیر نہیں لگاتے۔

اسٹبلشمنٹ نوازشریف کو جتنا بیوقوف سمجھتی تھی ، وہ اتنے بے وقوف تھے نہیں ۔ انھوں نے بھی ساتھ ساتھ ہوم ورک کیا ۔ جرنیلوں کو بھی پلاٹ ملتے رہے اور ان کا کام بھی چلتا رہا ۔ جس طرح اسٹبلشمنٹ کو کرپٹ سیاست دان چاہیے ہوتے ہیں تاکہ وقت آنے پر ان کو بلیک میل کرکے پریشرائز کیا جا سکے ۔ اس طرح سیاستدانوں کو بھی ایسے ہی لالچی جرنیل بھاتے ہیں۔ نواز شریف نے بھی ان کی کمزوریوں سے فایدہ اٹھایا ۔ یہاں تک کہ ایک ایسا وقت بھی آیا کہ نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ سے بلکل نکل گئے۔ اپنا ہی پالا ہوا سانپ ڈسنے لگا ۔ نواز شریف چونکہ کاروباری شخص ہیں لہذا انھوں نے بھارت میں اپنے کاروبار پہ کوئی کمپرومائز نہیں کیا ۔ کلبھوشن کے پکڑنے جانے پہ ان کی جندال سے ملاقات اور دیگر سرگرمیوں سے واضح ہو گیا کہ وہ بطور سربراہ پاکستان کمپرومائز ہو چکے ہیں۔ یہاں تک کہ خارجہ پالیسی کے محاذ پہ بھی فوج کو لڑنا پڑا ۔ یہ قوم کےلیے ایک کنفیوژن سے پر اور مشکل وقت تھا ۔ فوج نے اس سے بہت پہلے تحریک لبیک پہ کام شروع کر دیا تھا ۔ اور پھر وقت آنے پہ اس جماعت کا نواز شریف کے خلاف بھرپور استعمال ہوا ۔ ختم نبوت کا وہی مسئلہ جس کا نواز شریف نے بینظیر کے خلاف استعمال کیا تھا ، عوامی جذبات سے جڑے اسی احساس ایشو کا نواز شریف پہ استعمال ہوا ۔ دھرنے میں سرعام فوج کی جانب سے ہزار ہزار کے نوٹ بانٹے گئے ۔ اس جماعت نے نواز شریف کا ووٹ بینک بری طرح متاثر کیا۔ 2018 میں اس جماعت نے پنجاب میں مسلم لیگ نون کا سخت نقصان کیا اور پنجاب کی تیسری بڑی سیاسی جماعت بن کے ابھری۔

بات یہاں تک رہتی تو ٹھیک تھا لیکن ہمیشہ کی طرح اسٹیبلشمنٹ نے اپنی غلطیوں کو سدھارنے کی بجائے وہی غلطیاں دہرائیں ۔ تحریک لبیک کو مضبوط کیا ۔ 2018 الیکشن میں عمران خان کی پچاس کے قریب جیتی ہوئی نشستیں کم ووٹوں سے ہار میں بدل دیں تا کہ وہ دو تہائی اکثریت نہ لے پائیں اور ان کی مرضی سے چلیں ۔ لیکن اس بار ان سے سمجھنے میں غلطی ہو گئی۔ عمران خان نہ تو کرپٹ ہیں اور نہ ہی ڈرپوک لہذا انھیں دبانے کی بچگانہ سوچ آگے چل کر ہر جگہ ناکام ہوئی ۔ قیادت چننے کا حق عوام کو دینے کے بجائے سیاست کو اپنے ہاتھ میں رکھ کر ذاتی مفادات کےلیے استعمال کرنے کی خواہش یہاں پوری نہیں ہو سکی ۔ عدلیہ کے ذریعے نواز شریف کو باہر بھیج کر عمران خان کو عوام میں دفاعی پوزیشن پہ لانے کی کوشش کی گئی لیکن اس سٹیپ نے الٹا اسٹیبلشمنٹ کو دفاعی پوزیشن پہ لا کھڑا کیا ۔ عمران خان جس طریقے سے احتساب کا نعرہ لے کر آگے بڑھ رہے ہیں اور تمام طبقات کے خلاف بلا امتیاز احتسابی عمل شروع کیا ہے ۔اس سے یہ واضح ہے کہ آگے چل کر فوج کے کرپٹ جرنیل بھی اس کی زد میں آئیں گے ۔ لہذا ایسے موقع پہ تمام اداروں میں بیٹھے کرپٹ لوگ عمران خان پہ چاروں طرف سے حملہ آور ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے مریم نواز سے ڈیل کر کے اسے باہر بھیجنے کا پروگرام بنایا تاکہ عمران خان کے احتساب کے نعرے کو مذاق بنایا جا سکے لیکن عمران خان ڈٹ گئے اور ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ عمران خان نے گلگت بلتستان الیکشن میں فوج کو تعینات نہیں کیا ۔ ڈسکہ کا الیکشن ہوا تو ایک بار پھر فوج کو تعینات نہیں کیا گیا ۔ اس لیے عمران خان کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ عدلیہ اور الیکشن کمیشن کے ذریعے پورے حلقے کا الیکشن کالعدم قرار دے دیا گیا اور پھر سیکورٹی ایشو کا فایدہ اٹھا کر وہاں فوج تعینات ہو گئی اور ن لیگ کو یہ الیکشن دے دیا گیا ۔ یہاں یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ یہ الیکشن ن لیگ کو اسی تحریک لبیک کے ذریعے جتوایا گیا جس کو کسی زمانے میں ن لیگ کا مکو ٹھپنے کےلیے استعمال کیا گیا۔ فروری میں جب ڈسکہ الیکشن ہوا تو ٹی ایل پی نے بیس ہزار ووٹ لیے لیکن اپریل میں دوبارہ ہونے والے الیکشن میں میں تحریک لبیک کو 8 ہزار ووٹ ملے اور ن لیگ کو فالتو بارہ ہزار ووٹ پڑے جو یقیناً لبیک کے تھے۔ لبیک کا ووٹر مستقل مزاج ہے لہذا اتنی بڑی تبدیلی ممکن ہی نہیں تھی۔ اس پہ مستزاد ٹی ایل پی نے اس دھاندلی پہ مکمل خاموشی اختیار کی اور ن لیگ کی حمایت کی۔
اسی طرح سینٹ الیکشن میں عمران خان کو سرپرائز دیا گیا لیکن وہ جھکے نہیں بلکہ اعتماد کا ووٹ لیکر پھر سے آ گئے ۔

اسٹبلشمنٹ عمران خان کی حکومت کو گرانا نہیں چاہتی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر ایسا کیا گیا تو عمران خان دوبارہ سے مزید پاور کے ساتھ کم بیک کریں گے ۔ لہذا اس بار اسٹیبلشمنٹ نے اپنا آخری پتہ استعمال کیا ۔ تحریک لبیک نے بیس اپریل کو دھرنا دینے کا اعلان کر کے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ اب یہ تو سب جانتے ہیں کہ یہ جماعت ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی مرضی سے چلتی ہے ۔ اگر اسٹیبلشمنٹ نہ چاہے تو خادم رضوی کی گرفتاری اور آسیہ مسیح کے باہر جانے پہ بھی خاص ردعمل نہیں دے پاتے اور جب اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے ایک نو عمر لڑکے کی گرفتاری پہ انتہائی سرعت سے پورا ملک جام کر کے دنگا و فساد شروع کر دے۔ یہ اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم ہے جو حکمرانوں پہ پریشر بنا کر اپنے فیصلے منوانے کےلیے استعمال ہوتی ہے۔ اس بار چونکہ مرہم نواز کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کی ڈیل ہو چکی ہے لہذا اسے اب ہر صورت باہر بھیجنے کےلیے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے اس کے علاوہ وہ خان کو آنے والے بجٹ میں دفاعی بجٹ بڑھانے پہ بھی پریشرائز کرنا چاہتے تھے لہذا انھوں نے سینٹ اور ڈسکہ کے بعد اب یہ آخری پتہ پھینکا لیکن عمران خان نے ان کے پلان سے قبل ہی سعد رضوی کو گرفتار کر لیا ورنہ یہ لوگ کچھ دن بعد خود اسے اٹھا کر محفوظ مقام پہ منقتل کر دیتے اور حکومت کے ہاتھ کچھ نہیں آتا ۔ عمران خان نے کمال مہارت سے وقت سے پہلے گرفتار کیا اور پھر دنگا فسادات کے جرم میں قتل سمیت گیارہ مقدمات بنائے تا کہ یہ جلدی باہر نہ آ سکے ۔ پھر جب فسادات آخری حد کو چھو گئے اور عوام نے خود سخت کاروائی کا مطالبہ شروع کر دیا تو جماعت کو ہی کالعدم قرار دیکر اسٹیبلشمنٹ کے اس سانپ کا سر ہمیشہ کےلیے کچل دیا۔ عمران خان کو دبانے کی ہر کوشش ناکام ہو گی کیونکہ عمران خان پریشر میں بہت اچھا کھیلتا ہے ۔

عمران خان پہلے پاکستانی حکمران ہیں جنھوں نے جتھوں کے مقابلے میں ریاستی رٹ قائم کی ۔ آج عمران خان نے پاکستانی تاریخ میں ایک قابل فخر باب کا اضافہ کر دیا ہے ۔

آج پاکستان کی تاریخ کا شاندار دن ہے۔ آج آفیشلی انسدادِ دہشتگردی ایکٹ 1997 کے تحت ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔ آج سے اس جماعت کو کسی بھی قسم کا چندہ دینا، اسکے کسی پروگرام میں شرکت کرنا اور سوشل میڈیا یا کسی بھی فورم پر اسکی حمایت کرنا قانوناً جرم ہے ۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو سکرین شاٹ بھیج کر اسے فوراً گرفتار کروایا جا سکتا ہے۔

بلوائیوں کی یہ شدت پسند جماعت ایک عرصہ سے ملک میں توڑ پھوڑ اور خوف و حراس کا باعث بنی ہوئی تھی جو معمولی بات کرنے پہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے گلے اڑا دینے کی قائل تھی۔ ریاستی رٹ کو ان لوگوں نے مذاق بنا لیا تھا۔ پچھلے سال آسیہ مسیح کیس کا فیصلہ آنے کے بعد جب انھوں نے احتجاج کیا تو عمران خان نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ
” ریاست سے ٹکراؤ گے تو پاش پاش ہو جاؤ گے ”

اتنی ہمت آج سے پہلے کسی لیڈر نے نہیں کی تھی ۔ آج عمران خان کا نام اس لحاظ سے تاریخ کےلیے ہمیشہ امر ہو گیا کہ انھوں نے ریاست کو گروہوں کے سامنے جھکنے کی روایت توڑی ۔ ہزارہ احتجاج کے دوران بھی انھوں نے وزیراعظم کو بلیک میل کرنے والے طرز عمل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنوں اور پرائیوں کی تمام طعن و تشنیع برادشت کر کے اس قبیح رسم کا بھی خاتمہ کیا ۔ آج سے ریاست کو ڈکٹیٹ کرنے والی رسم اپنے اختتام کو پہنچی۔

عمران خان نے اپنے اڑھائی تین سالہ دور حکومت میں ہر پریشر کو برداشت کیا لیکن کسی گروہ کے آگے نہیں جھکے ۔ اپوزیشن کی گیارہ پارٹیوں ہوں ، مذہبی جتھے ہوں ، عدلیہ و الیکشن کمیشن کے تیور ہوں یا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معمالات ۔۔۔۔۔ وہ ہمیشہ آزادانہ فیصلے کرتا رہا اور ایک تاریخ رقم کرتا گیا ۔ قوم عمران خان کے اس احسان کو ہمیشہ یاد رکھے گی کہ انھوں نے عملی طور پہ ریاست کی رٹ قائم کر کے شاندار روایت شروع کی ۔

اسٹیبلشمنٹ کو اپنے رویوں پہ نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔ ان کے اس عمل کی وجہ سے ملک میں افراتفری اور قتل و غارے کے علاؤہ معاشی طور بھی سخت نقصان ہوا ہے جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا ۔ یہ پاکستان کےلیے بڑا معاشی جھٹکا ہے کہ فرانس نے اپنی تمام کمپنیوں اور شہریوں کو پاکستان چھوڑنے کی ہدایت کر دی ہے۔ پاکستان میں فرانس کی تقریبا 32 بڑی کمپنیاں کاروبار کرتی ہیں۔ یہ کمپنیاں پاکستان میں زیادہ تر توانائی، ادویات، ٹرانسپورٹ، ماحولیات، پبلک ورکس اور سول انجینئرنگ جیسے شعبوں میں سرگرم عمل ہیں۔ فرانس کی 185 کمپنیاں پاکستان فرانس بزنس الائنس کی رکن ہیں۔

پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد فرانس کو پاکستان سے ترجیحی بنیادوں پہ درآمدات کرنا پڑتی ہیں کیونکہ وہ یورپی یونین کا ممبر ہے ۔ اس لیے فرانس پاکستان کے ساتھ تجارتی خسارے میں ٹریڈ کر رہا ہے ۔ اس وقت اس کی پاکستان سے درآمدات زیادہ اور برآمدات کم ہیں ۔ دوسری جانب پاکستان کےلیے یہ تجارت سود مند ہے کیونکہ پاکستان کی برآمدات زیادہ ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان 1.4 بلین یورو کی بڑی تجارت ہوتی ہے ۔

مسلم ممالک میں پاکستان فرانس کا پانچواں بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ فرانس پاکستان میں متعدد منصوبوں کےلیے قرض فراہم کرتا ہے۔ مثلآ ریڈ لائن کراچی کےلیے 12.3 بلین روپے قرض دیا گیا ہے۔ فرانس کا موجودہ قدم پاکستان کےلیے کافی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ پاکستان کو اس وقت سرمایہ کاری چاہئے اور فرانس ایک بڑا پارٹنر ہے جس نے متعدد شعبوں میںسرمایہ کاری کر رہا ہے .

ریاست کو آج فیصلہ کرنا ہو گا کہ اس قسم کے بلوائیوں کو مستقبل میں کسی قسم کی چھوٹ دی گئی تو پاکستان کا ستیاناس ہو جائے گا۔ گستاخی والے معاملے پہ عمران خان کی سٹریٹجی بہترین ہے جس سے کئی جگہ فوائد حاصل ہوئے ہیں ۔یہاں تک کہ ہالینڈ میں مقابلے بھی منسوخ ہوئے ہیں۔ ہمیں نبوی مشن کے مطابق اپنے آپ کو معاشی طور پہ مضبوط کرنا ہے ۔ جس ملک سے بھی فایدہ ہوتا ہے اس سے حاصل کیا جائے ۔ گستاخی وغیرہ کی صورت میں سفارتی محاذ پہ جنگ جاری رکھی جائے ۔ عمران خان اقوام متحدہ کے ذریعے پوری دنیا پہ ایک ایسا قانون لاگو کرنا چاہتے ہیں تا کہ کسی ملک میں کوئی گستاخی کی جرات نہ کر سکے ۔ لہذا نبوی تعلیمات کی روشنی میں آگے بڑھیں اور ان بلوائیوں کو کبھی بھی ریاست پہ حاوی مت ہونے دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں