اکیسویں صدی کا سب سے خطرناک ہتھیار الگورتھم..سلیم زمان خان

ووال نوح ہراری (انگریزی: Yuval Noah Harari) یا یووال نوحاہراری کی پیدائش 24 فروری 1976 کو ہوئی۔ وہ ایک مشہور اسرائیلی مورخ اور یروشلم یونیورسٹی کے عبرانی یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ میں پروفیسر ہے۔ وہ مشہور سائنس بیسٹ سیلرز کتابوں کے مصنف ہیں۔ یہ مرد مصنف ہم جنس پرست ہے۔ اور اس نے 2002 میں ٹورانٹو میں اپنے خاوند سے شادی کی۔ پیدائشی یہودی ہونے کے ناطے تمام تعلیم اسرائیلی اداروں میں حاصل کرنے اور اسرائیلی یونیورسٹی میں ہی درس وتدریس کرنے کے باوجود یہ خود کو یہودی نہیں کہلاواتا، اور ہندو دھرم کی ایک شاخ “وپاسنا” کی ریاضت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس میں روحانیت کے روشنی اس ریاضت سے آئی ہے،جبکہ تینوں الہامی مذاہب کے خوب لتے لیتا ہے۔۔ اسرائیلی اور امریکہ شہریت کا حامل ہے۔ اور انسان اور انسانی تاریخ پر کمال دسترس رکھتا ہے۔
ہراری کی ذاتی زندگی کا اس کے علم یا فلسفے سے بظاہر کوئی تعلق نہیں دکھتا اور نا ہی ہمیں کسی بھی شخص کی ذاتی زندگی سے سروکار ہے مگر سلیبریٹی بیست سیلرز کی زندگی دراصل عوامی ہوتی ہے۔ اور ہراری کو اپنی طرز زندگی پر فخر ہے ، میرےاس مضمون کا تقاضہ ہے کہ میں اس کی ذاتی زندگی سے کچھ پردہ سرکا دوں۔ ورنہ میں صرف مضمون تک محدود رہتا۔۔۔

یہ اپنی 2018 کی معرکتہ الآرا اور بیسٹ سیلر کتاب
21lessons for the 21st century..
یا “اکیسویں صدی کے 21 سبق” میں بار بار ایک لفظ ” الگوریتھم” algorithm کی تکرار کرتا ہے جس کے مطابق اور اسے اکیسویں صدی کے خدا کے طور پر پیش کرتا ہے۔۔
مثلا وہ لکھتا ہے کہ

” یہ بات بھی یقینی ہے کی آئندہ چند دہائیوں میں ٹیکنالوجیکل انقلابات برپا ہوں گے،اور بنی نوع انسان کے لئے اب تک کی بڑی آزمائشیں لائین گے۔ اب انسانوں میں وہی کہانی چل سکے گی جو انفو ٹیک infotech یا بائیو تیک biotech کا مقابلہ کرنے کی اہل ہو گی۔اگر لبرل ازم،قوم پرستی ،اسلام یا کوئی بھی نیا عقیدہ یا نظریہ 2050 کی نئی دنیا تشکیل دینا چاہے گا تو اس کے لئے ضروری ہوگا کہ مصنوعی ذہانت ، Artificial intelligence ،بگ ڈیٹا ایلگورتھم اور بائیو انجنئیرنگ کی سمجھ بوجھ حاصل کرے”

اسی طرح ایک اور جگہ پروفیسر ہرارے یہ لکھتا ہہے کہ
” کیاآپ ایک ایسی حکومت کا تصور کر سکتے ہیں،جو ٹیکس اصطلاحات اور بجٹ کی منظوری کیلئے مودبانہ انداز میں “الگورتھم ” کے اگے اس کی منظوری کی منتظر ہو؟ ”

انسانی جذبات کے مقابل جب پروفیسر ہرارے بائیو کیمسٹری الگورتھم کو کھڑا کر کے عقلیت کی دلیل دیتا ہے تو لکھتا ہے کہ۔
” اگر جذبات اور روئیے محضبائیو کیمسٹری الگورتھم کا نتیجہ ہیں تو پھر انہیں سمجھنے میں کمپیوٹر کیوں انسانوں سے پیچھے رہ سکتے ہیں۔یہ مصنوعی ذہانت والے کمپیوٹر انسانوں کے چہرے اور آواز کے ردعمل سے اندازہ لگا لیں گے کہ سامنے والا کیسی شخصیت کا مالک ہے۔”

اور ایک جگہ پروفیسر ہرارے اپنے مادی جذبات کی رو میں اس قدر بہک گئے کہ الگورتھم کو جدید عقائدکے معاشرے میں خدا کا درجہ دے بیٹھا۔۔
“اگرچہ یہ ممکن ہے کہ اکیسویں صدی میں انسان خدائی خاصیتوں کی سطح پر اپ گریڈ ہو جائیں گے” اور اس کی وجہ مصنف یہ بتاتا ہے کہ ایک اشرافیہ کا گروہ دنیا میں تمام ڈیٹا اور مارکیٹ مصنوعی ذہانت یعنی artificial intelligence اور اس کو چلانے والے الگورتھم کی مدد سے اس پر دسترس حاصل کر کے لامحدود اختیارات کا مالک ہو جائے گا۔۔
اس کتاب کو پڑھتے ہوئے قاری کی توجہ جس بات پر بار بار مرتکز کی جا رہی ہے وہ ہے الگورتھم ،الگورتھم الگورتھم ۔۔ اخر یہ الگورتھم کیا بلا ہے جو ہم سے ہمارا مستقبل چھینے جا رہی / رہا ہے۔۔ کیونکہ ابھی اس کی جنس کا اندازہ نہیں ہو سکا ۔
جب نیٹ پر تلاش کیا تو نتائج جان کر خوشی بھی ہوئی اور دکھ بھی۔۔

*الگورتھم یا Algorithm دراصل کیا ہے۔۔*
آج کل الگورتھم کی اصطلاع زبانِ عام ہے اگرچہ کئی مرتبہ ہمیں یہ پوری طرح معلوم ہی نہیں ہوتا کہ الگورتھم کرتا کیا ہے۔ الگورتھم ہر جگہ ہیں جو ہمیں A کے مقام سے B تک جانے میں مدد دیتے ہیں، انٹرنیٹ کی سرچز اور ہمارے لیے چیزیں خریدنے، دیکھنے اور شیئر کرنے میں تجاویز دیتے ہیں اور اس کے علاوہ بہت سے مسئلوں کو سادہ طریقے سے حل کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔

الگورتھم دراصل ہدایات کا ایک مجموعہ ہے۔ تعریف واقعی اتنی آسان ہے۔ الگورتھم اتنا آسان ہوسکتا ہے جتنا اس طرح ہدایات دیں: مثلا

گلی سے نیچے جاؤ۔
پہلے دائیں لو۔
بائیں طرف دوسرا مکان تلاش کریں۔
دروازے پر دستک دو.
اور سامان کی فراہمی کر دو.
اگرچہ الگورتھم کی تعریف بہت آسان ہے ، لیکن اس کا اصل معنی اور یہ ہماری زندگیوں کو کس طرح متاثر کرتا ہے یہ کافی پیچیدہ ہوسکتا ہے۔

الگورتھم کی ایک مثال۔
الگورتھم کی ایک عمومی مثال جسے ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں استعمال کرتے ہیں وہ ایک نسخہ ہے۔ ہدایات کا یہ مجموعہ ہمیں وہ سب جزو فراہم کرتا ہے جن کی ہمیں ضرورت ہوگی اور ان اجزاء کے ساتھ کیا کرنا ہے اس کی ہدایت دی۔ مثلا ایک چٹ پٹی کھانے کی ریسپی۔۔ جس کی ہدایات پر عمل کر کے اور مطلوبہ اشیاء کی مقررہ تعداد فراہم کر کے آپ بھی ویسا ہی مزیدار کھانا تیار کر سکتے ہیں جیسا کہ ہدایات میں درج ہے۔۔ لیکن ان ہدایات میں سے کسی ایک ہدایت کو مس کر دینے سے نتائج درست نہیں آ ئے گے۔۔ سادہ زبان میں آپ اسے کمپیوٹر پروگرامنگ کی درجہ بہ درجہ ہدایات کہہ لیں یا کیمسٹری بیالوجی کے ایک تجربہ میں استعمال ہونے والے اجزاء کا صحیح استعمال۔۔
الگورتھم کا سادہ ترین استعمال اسلام کے عبادات کی شکل میں ہے۔ جیسے فجر کی 4 رکعت نماز ہے پہلے دوسنت اور پھر دو فرض ۔۔ لیکن اس سے قبل طہارت کا اہتمام فرض ہے اس کے بغیر نماز نہیں ہو گی اور جب آپ طہارت کریں پھر آپ زیادہ عبادت کی غرض سے اگر 3 رکعت سنت اور 3 ہی فرائض ادا کریں تو بھی نماز نہی ہو گی۔۔ اسی طرح صرف نہا لینے سے یا منہ دھونے سے وہ طہارت قائم نہی ہو گی جو نماز کے لئے مطلوبہ ہے۔ لہذا ہر عمل کو شروع سے آخر تک اس طرح ادا کرنا جیسے اس کا حکم ہوا ہے ،اسے ترتیب کو layman’s زبان میں الگورتھم کہا جاتا ہے۔۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ الگورتھم سمجھانے میں اسلام اور نماز کی مثال کا کیا تعلق تو آپ کو یہ جان کر حیرت اور خوشی ہو گی کہ الگورتھم کا بانی ایک مسلمان سائنسدان تھا۔۔ جی ہاں مسلمان۔۔۔۔

*محمد ابن الموسی الخوارزمی۔۔۔*

سرسری طور پر دیکھنے یا سننے سے لگتا ہے کہ لفظ الگورتھم کوئی جدید اصطلاح ہے لیکن اصل میں یہ لفظ لگ بھگ 900 سال پرانا ہے۔ یہ لفظ فارسی ریاضی دان محمد ابن موسیٰ الخوارزمی کے نام سے نکلا ہے۔
الخوارزمی سنہ 780 میں ازبکستان میں پیدا ہوئے تھے اور ان کے نام سے اشارہ ملتا ہے کہ ان کا تعلق خوارزم کے علاقے “خیوا” سے تھا۔ وہ عباسی خلیفہ المامون کے لیے کام کرتے تھے۔ خلیفہ مامون جو خود یونانی کتب کے عربی میں تراجم کروانے کے شیدائی اور تاریخ میں سائنسی علوم میں تحقیق اور ان کی اہمیت سمجھنے والی بڑی شخصیات میں سے ایک تھے۔ الخوارزمی ہاؤس آف وزڈم یا بیت الحکمہ میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ یہ 9 ویں صدی میں بغداد میں دانشوروں کا مسکن ہوا کرتا تھا۔ انھوں نے ریاضی، علم فلکیات، جغرافیہ اور کارٹوگرافی یا نقشہ نگاری کی ترقی میں بہت نمایاں کردار ادا کیا۔ انھوں نے کئی مشہور کتابیں لکھیں جیسا کہ ’کنسرنگ دی ہندو آرٹ آف ریکننگ‘ یا ’کتاب الحساب الہندی‘۔ اعشاری نظام پر لکھی گئی وہ پہلی کتاب تھی جس کا لاطینی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔ اس کا آغاز لاطینی زبان میں لکھے گئے ان الفاظ سے ہوتا ہے ’الخوارزمی نے کہا کہ۔۔۔‘
اس کتاب میں حساب سے متعلق مختلف ہدایات بتائی گئی ہیں اور یہیں سے لفظ *ایلگورتھم* کی اصطلاح وجود میں آئی جو دراصل الخوارزمی کو لاطینی میں بولنے کا طریقہ ہے۔ دراصل یہ زمانہ یورپ میں تہمات اور جہالت کا دور کہلاتا ہے ۔اس دور میں مسلمان سائنسدانوں کے کارناموں کو مافوق الفطرت کام سمجھا جاتا تھا اور اس سے قبل سامنے آنے والے الخوارزمی کے کام کے ترجمے کو یورپ میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا، یہی وجہ ہے کہ خوارزمی کے کام کو ’خطرناک‘ یا ’جادو‘ گردانا گیا تھا۔
اس کتاب کی تحریر کے 300 سال بعد یہ کتاب دوبارہ ڈھونڈی گئی اور اس کا لاطینی میں ترجمہ کیا گیا۔ اس کتاب نے مغرب کو ہندو عربی اعداد سے روشناس کرایا اور بالآخر اس نے ناقابلِ برداشت رومن اعداد کو تبدیل کر دیا۔
اعشاریہ اور ہندو عربی نمبروں کے نظام کو خوارزمی نے اپنی کتاب میں دنیا میں آج کل استعمال کیے جانے والے نمبروں کی بنیاد بتایا ہے۔ یہ نظام یہاں تک پیش گوئی کر سکتا ہے کہ ہم نے کیسے ووٹ دینا ہے اور کس طرح پیار میں مبتلا ہونا ہے
الخوارزمی لاطینی میں لکھا گیا تو اسے *”الگورتھمی”* لکھا گیا۔ اور یہاں سے الگورتھم کا لفظ ریاضی میں استعمال ہونا شروع ہوا۔ ان کی کتابوں نے مغرب میں علمِ ریاضی میں انقلاب برپا کر دیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ کس طرح پیچیدہ مسئلوں کو سادہ حصوں میں توڑ کر ان مسئلوں کو حل کیا جا سکتا ہے۔
قرونِ وسطیٰ میں الگورزمس کا مطلب اعشاریہ کے نمبروں کا نظام تھا۔ 13 ویں صدی تک وہ انگریزی زبان میں استعمال کیا جانے لگا اور اسے چوسر جیسے مصنفوں نے بھی استعمال کیا۔ لیکن 19 ویں صدی کے اواخر میں الگورتھم کو مسئلے کے حل کے لیے قدم بہ قدم اصولوں کا ایک جامع طریقہ بتایا جانے لگا۔
20 ویں صدی کے اوائل میں برطانوی سائنسدان اور کمپیوٹر کے ماہر ایلن ٹیورنگ نے تحقیق کی کہ کس طرح تھیوری کے مطابق کوئی مشین الگورتھم کی ہدایات پر عمل درآمد کرتی ہے اور پیچیدہ ریاضی کے مسئلوں کو حل کرتی ہے۔ یہ کمپیوٹر کے زمانے کا آغاز تھا دوسری جنگِ عظیم کے دوران انھوں نے ایک مشین ایجاد کی جس کا نام انھوں نے ’بومب‘ رکھا۔ یہ مشین الگورتھم کے استعمال سے ’انیگما کوڈ‘ کھولنے کی کوشش کرتی تھی۔۔ آج جو پیچیدہ الگورتھم کمپیوٹرز میں یا DNA کی میوٹیشن میں استعمال ہو رہا ہے اس کا سہرا حقیقی طور پر مغرب کو جاتا ہے۔۔ لیکن آج بھی اہل مغرب الخوارزمی کے مشکور نظر آتے ہیں جس نے یورپ اور تمام دنیا کے لئے کائناتی زبان ریاضی کو ایک نئی اور قابل فہم جدت عطا کی۔۔

1984میں جیمز کیمرون نے ایک بلاک بسٹر فلم “The Terminator” بنائی جس وجہ شہرت انسان اور مشینوں کی جنگ دکھائی گئی۔ یہ غالبا پہلی کامیاب فلم تھی جس نے یہ موضوع اٹھایا کہ مستقبل میں مشینیں یا روبوٹ انسانوں پر حکومت کریں گے۔۔ ان سے مقابلے کے لئے کم وبیش عام انسان نہی بلکہ سائیبورگ انسانوں کی ضرورت پڑے گئ۔( انسان اور مشینی پُرزوں پر مشتمل اس مخلوق کو اصطلاحاً ’’سائی بورگ‘‘ ہی کہا جاتا ہے۔) یا عام اصطلاح میں آپ اسے سپر ہیومن یا Hybrids انسان کہہ سکتے ہیں۔۔ یہ جنیٹک انجنئرنگ اور biotechnology کا شاہکار ہوں گے۔۔ اسی طرف موصوف پروفیسر ہرارے اپنے قارئین کو لانا چاہتا ہے۔۔ تاکہ جس عالمی ایجنڈا پر یہودی لابی کام کر رہی ہے ۔۔ مستقبل میں ہم جیسے لوگوں کو ان کے کام اصلاح معاشرہ لگیں جبکہ یہ دجالی فتنہ کی ابتدا ہے۔۔ جس میں ایک ایسے انسان کا ظہور ہونے جارہا ہے جو الگورتھم اور Artificial intelligence کو قابو کر کے باقی ماندہ انسانوں سے من مانی خواہشات کی تکمیل کر سکے گا۔۔ پروفیسر ہرارے جس الگورتھم مستقبل سے انسانوں کو ڈرا رہا ہے اس کے شروع ہوئے 30 سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔۔ سمارٹ فون،نیٹ،اور سوشل میڈیا پر ہم اپنا انحصار بڑھاتے جا رہے ہیں ہماری شخصی آزادی اب چند مخصوص اداروں کے ہاتھ میں ہے۔۔ وہ جب چاہیں ہمیں خرید سکتے ہیں ان کے پاس ہمارے رازوں کی ایک مکمل فائل seve ہے۔ جس میں ہماری دنیا رات کی کرتوت سے لے کر بنک اور خون کا گروپ تک سب معلوم ہے۔ صرف فیس بک پر اس وقت 2 ارب لوگ فعال ہیں۔۔ فرعون اپنے زمانے میں شائد 5 لاکھ لوگوں پر خدائی کا دعوئ کرتا تھا ۔۔

میں نے مضمون کے شروع میں پروفیسر ہرارے کی ذاتی زندگی پر چند باتیں کیوں کیں ۔۔۔؟

چاہے Artificial intelligence ہو یا بائیو کیمسٹری الگورتھم ۔اس کے بنانے والے کی ذہنی صلاحیت، اخلاق اور عادات اس بات کا فیصلہ کریں گی کہ اس کی پراڈکٹ کے مقاصد کیا ہیں۔ اگر وہ کشمیری مسلمان بنا رہا ہے تو وہ اپنے الگورتھم میں ایسی ہدایات درج کرے گا جس سے کشمیر کی خاطر مرنے والے شخص کو ہیرو اور شہید وطن کہا جائے گا اور سرچ پر وہ ایسے لوگ آپ کی اسکرین پر نمودار کر دے گا۔۔ لیکن یہی ہدایات اور ڈیٹا ڈال کر جب بھارتی انجنیر سافت وئیر بنائے گا تو دہشت گرد کی خواص و عادات پر ایسے لوگ اسکرین پر ظاہر ہوں گے جو کشمیر میں مجاہد جبکہ بھارت میں دہشتگرد ہوں گے۔ اسی طرح ایمان والا مسلمان الگورتھم کی نظر میں کچھ اور اور یہودی یا عیسائی الگورتھم میں کچھ اور ہو گا ۔۔ ہمارا مومن ان کا کافر ان کا کافر ہمارا مومن۔۔۔
اسی طرح ISIاور Rawکے ملک دشمن مختلف ہوں گے۔۔

قران نے نبی مکرم کے لئے ارشاد فرمایا کہ *{وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ: اور بیشک آپ یقینا عظیم اَخلاق پر ہیں}*
نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ “لوگو! اللہ رب العزت نے مجھے رسول بناکر بھیجا ہے۔ میری بعثت اور میری رسالت اور میری نبوت کے مقاصد میں سے ایک بہت بڑا مقصد تمام انسانوں کے لئے اعلیٰ اخلاق، اعلیٰ رویوں، اعلیٰ اطوار اور اعلیٰ عادات کا ظہور ہے اور باری تعالیٰ نے جو بھی ایک اعلیٰ خلق ہے وہ مجھے عطا کردیا ہے اب تک اور رہتی دنیا تک جو بھی ایک اعلیٰ خلق کسی انسان میں ہوسکتا ہے حتی کہ باری تعالیٰ نے مختلف انبیاء علیہم السلام کو جو اخلاق کریمانہ عطا کئے ہیں۔ وہ سارے کے سارے میری ذات میں جمع کردیئے ہیں، ہر خلق رفیع کو باری تعالیٰ نے میری ذات میں مجتمع کردیا ہے۔
انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق.
’’میں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں‘‘۔

اب تاقیامت چاہے مشینی دنیا ہو روبوٹ ہوں یا الگورتھم اگر اس کے بنانے والے حسن اخلاق میں خاتم النبیین سے متاثر ہیں تو یقین جانیں یہ سب الگورتھم اور مصنوعی ذہانت انسان کی باندی رہیں گے اور اگر اس کے بنانے والے اور اس ترقی کا پرچار کرنے والی کسی اخلاقی پستی ، روحانی منافقت یا زہنی فلور کا شکار ہیں تو یقین جانیں یہ دنیا اپنے وجود میں جہنم بن جائے گی ایسی دجالی جہنم جس کے متعلق ہمارے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدیوں پہلے آگاہ کر دیا تھا کہ۔۔
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ایسے فتنوں کے آنے سے پہلے ، نیک اعمال کرنے میں جلدی کر لو ، جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے ، آدمی صبح کے وقت مومن ہو گا تو شام کے وقت کافر جبکہ شام کے وقت مومن ہو گا تو صبح کے وقت کافر وہ دنیا کے مال و متاع کے عوض اپنا دین بیچ دے گا ۔‘‘ مسلم ۔
قران مجید کی آخری سورہ الناس کی آخری 3 آیات کا ترجمہ ہے کہ
ترجمہ: بار بار وسوسہ ڈالنے بار بار پسپا ہونے والے کے شر سے۔ (4) جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ (5) خواہ وہ جِنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے۔ (6)
تو یہ بات یاد رکھیں کہ جنات کے علاوہ ایسے انسان بھی ہیں جو انسانوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں اور انہیں مایوس کرتے ہیں۔۔
بس ایک بات یاد رکھیئے گا۔۔
“خدا کی ذات سے مایوس صرف ابلیس ہے”
مومن خود بھی امید ہے اور اس کائنات کے لئے روشنی ہے شرط یہ ہے کہ۔۔۔

*کی محمداﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں​*
*یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں*

سلیم زمان خان
اپریل 2021

اپنا تبصرہ بھیجیں