وقت۔۔۔ عابد لاشاری

وقت کتنی تیزی سے گزر گیا مجھے پتا ہی نہیں چلا، کب بچپن میں تھے کب جوان ہوئے، اور اب تو ڈھلتے سورج کی مانند بقیہ سفر شروع ہوچکا۔
کب کالا پور میں پرائمری سکول میں پڑھتے تھے، پھر بارہ جیڈی پھر مپالکہ، ایسے لگتا ہے جیسے کل کی بات ہے، جب تک میٹرک نہیں ہوئی تھی تو لگتا تھا کہ میٹرک ہوجائے گی تو پھر ذندگی آسان ہے۔ لیکن میٹرک تو ڈیگ میں ایک چاول کی مانند ثابت ہوئی۔ بے وقعت،
پھر ایف اے ، بی اے، ایم اے بھی نہ جانے کب ہوگیا پتا ہی نہیں چلا۔ اس دوران وہی بورنگ روٹین۔ آٹھ سے پانچ تک آفس۔ بقیہ سارا دن بیماروں کی طرح بستر پہ پڑے رہنا، وقت ہاتھ سے ریت کی طرح نکل رہا ہے اور ہم کچھ نہیں کر پارہے ابھی تک منزل کا تعین نہیں کیا جا سکا، اب کل ایک جاننے والا مشورہ دے رہا تھا کہ ایم فل کر لو تو زندگی میں اس کا بہت فائدہ ہوگا، یقین مانیے اب میں اس پڑھائی سے تنگ آگیا ہوں۔
اگر یہی ذندگی ہے اور اس تعلیم کو حاصل کرنے سے یہی کچھ ملنا تھا تو مجھ سے غلطی سرزد ہوئی، مجھے اس چکر میں پڑنا ہی نہیں تھا، ہر طرف میرٹ کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ پی پی ایس سی ، این ٹی ایس تک ادارے بک گئے۔ میں تو پہلے ہی کہتا ہوں کہ یہاں ہر چیز بکتی ہے، ہر وہ چیز ہر اس جگہ بک سکتی ہے جہاں اس کے خریدار موجود ہوتے ہیں اور پاکستانی معاشرے میں میرٹ کے خریدار بخوبی پائے جاتے ہیں ہاں یہ الگ بات کہ ہم میں اکثر مڈل کلاسیے اس کو خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ہمارے معاشرے میں تعلیم یافتہ بھی پریشان ہے اور ان پڑھ بھی،
وقت کسی کے لیے نہیں رکتا، نہ حسن کے لیے نہ دولت کے لیے نہ جوانی کے لیے نہ طاقت کے لیے۔
وقت کی رفتار چلتی رہتی ہے۔ وقت کے ساتھ حسن مانند پڑ جاتا ہے وقت دولت والوں کو فقیر کردیتا ہے وقت کے ساتھ جوانی بڑھاپے میں بدل جاتی ہے اور وقت کے ساتھ طاقت ختم ہوجاتی ہے۔۔۔۔
کبھی کبھی مجھے وقت بہت بے وقعت لگتا ہے، پتا نہیں بے چارہ کب سے چل رہا ہے اور کب تک چلتا رہے گا، کبھی کبھی وال کلاک کو دیکھوں تو مجھے اس پہ ترس آتا ہے، پتا نہیں کب سے اس کی سوئیاں پینڈولم میں گھوم رہی ہیں اور کب تک گھومتی رہیں گی، فضول، ایوں ای،
لیکن اس سب فضولیات کے باوجود وقت انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے، انساں کے پاس سے گزر جاتا ہے اور انسان کو پتا بھی نہیں چلتا، اور یہی اس کا سب سے بڑا ظلم ہے۔
کب کتنا وقت گزر گیا پتا ہی نہیں چلا، زندگی کا ایک حصہ ہم نے ذندگی سنوارنے کے لیے گنوا دیا، زندگی پھر بھی نہ سنوری، اور ابھی بھی لاحاصل کوشش جاری ہے، جس کام کو بھی شروع کریں ایک بے یقینی کی کیفیت ساتھ ہوتی، پی ایم اس ہو یا سی ایس ایس، شروع کرنے پہلے ہی لگتا ہے کہ وہاں خریدار بھی ہوں گے،

عابد ناز لاشاری

اپنا تبصرہ بھیجیں