یونیورسٹی آف اوکاڑہ۔۔۔ کچھ ادھوری خواہشیں۔۔ عابد لاشاری



جہاں میری قبر میں میرے ساتھ بہت سی خواہشیں اتاری جائیں گی وہاں یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں پڑھنے کا خواب بھی ریزہ ریزہ کر کے میرے پہلو میں دفنایا جائے گا۔۔
انسانی خواہشیں لامحدود ہیں اور انسانی زندگی بالکل مختصر اور محدود ہے یہ خواہشات اور دل کی حسرتیں مرتے دم تک ساتھ رہتیں ہیں۔ کبھی ساتھ نہیں چھوڑتیں۔ باوفا ہوتی ہیں۔ اور اکثر اوقات قبر میں ساتھ اتاری جاتی ہیں۔ لاحاصل کی خواہش کرنا ایک فطری عمل ہے ، حاصل کی خواہش کون کرے گا بھلا؟؟

میری بہت دلی خواہش تھی کہ اپنی ذندگی کا کچھ حصہ اس یونیورسٹی میں گزارتا اور یہاں پڑھتا لیکن شائد قدرت کو یہ منظور نہیں تھا،،،، میرے بہت سے دوست یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں زیر تعلیم ہیں اور بہت سے یہاں سے ڈگریاں لے جاچکے ہیں۔ مجھے کبھی اس یونیورسٹی کے اندر داخل ہونے کا اتفاق نہیں ہوا لیکن ایک عجیب قسم کی انسیت ہے جو مجھے اس کی طرف کھنچتی ہے۔ ہزاروں دفعہ اس یونیورسٹی کے دروازے سے گزرا اور ہر دفعہ لمبی سانس لے کر سامنے سے گزر گیا۔
جب ہم میٹرک میں تھے تو ہمارے سننے میں آیا کہ اوکاڑہ میں کوئی یونیورسٹی بنی ہے اور اس کا نام ایجوکیشن یونیورسٹی ہے تب سے ہی میرے دل میں یہ خواہش جاگی کہ یہاں سے ضرور تعلیم حاصل کریں گے۔ اس وقت سوچ یہی تھی کہ میرے آبائی ضلع کی یونیورسٹی ہے اور یہاں پڑھنا باعث شرف ہوگا۔ جب میں نے سنا ایجوکیشن یونیورسٹی کا نام بدل کر وفاؤں کے شہر اوکاڑہ کے نام پر یونیورسٹی آف اوکاڑہ رکھ دیا گیا ہے تب یہ خواہش ہزاروں گنا اور بھی بڑھ گئی۔ لیکن قسمت نے ساتھ نہیں دیا اور میٹرک کے بعد کسی یونیورسٹی یا کالج میں داخلہ کا موقع ہاتھ نہیں آیا۔ لیکن تعلیم کا سلسلہ چھوڑنا میرے لیے ایسے ہی تھا جیسے اپنی روح کو جسم سے جدا کرنا۔ بحالت مجبوری ایف اے، بی اے اور پھر ایم اے پرائیویٹ طالب علم کے طور پر کرنا پڑا۔۔ لیکن اس سب کے باوجود یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں پڑھنے کی خواہش فوت نہ ہوسکی۔ اور شائد پوری نہ ہوئی تو میرے فوت ہونے سے پہلے کبھی فوت نہیں ہوسکتی۔ میرے لیے یہ یونیورسٹی جذبوں کی یونیورسٹی ہے۔ ایسے جذبات جن کو مجھ جیسا ناکام قلم کار شائد کبھی نہ لکھ سکے، ایسے جذبات جن کو ہم بند زبان کبھی نہ بیان کرسکیں۔۔ یا شائد ایسے جذبات جو تحریر و بیان سے بالاتر ہوں۔ یا شائد ایسے جذبات جو بس دلوں میں محسوس کیے جاسکیں۔

یہ بات سچ ہے کہ ہر شخص کو اپنے آبائی ضلع یا گاؤں سے شدید محبت ہوتی ہے، لیکن اگر آپ کے آبائی علاقہ میں ایک ایسا تعلیمی ادارہ ہو جو علم کی شمعیں روشن کررہا ہو اور آپ کے علاقہ کے لیے روشن مستقبل کی نوید ہو تو آپ کے دل میں اس ادارہ میں پڑھنے اور اسے دیکھنے کی خواہش ضرور جاگتی ہے۔ اگر اس سب کے باوجود آپ کے دل میں ادارے کی محبت نہیں جاگتی تو یقین مانیں آپ اپنے ضمیر کو بہت عرصہ پہلے ہی ذندہ دفنا چکے ہیں۔
یقیناً یونیورسٹی آف اوکاڑہ ایک شاندار ادارہ ہے اور جو اپنی مثال آپ ہے۔ اب تو یہاں سے تعلیم یافتہ لڑکوں کی تعداد بہت ذیادہ ہوچکی ہے۔ میرے اردگرد بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اس یونیورسٹی سے پڑھ چکے ہیں۔ یقین مانیں ان کی گفتار اور لہجوں سے ایک پروفیشنل بندے کی جھلک نظر آتی ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے یہ بیرون ملک سے تعلیم یافتہ ہیں۔
میں جب ان لوگوں سے ملتا ہوں تو مجھے ایک عجیب سی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ یونیورسٹی آف اوکاڑہ کی خوشبو۔۔۔ مجھے ان سے مل کے بہت خوشی ہوتی ہے، اور پھر بعد میں افسردگی۔ جب بھی کسی اوکاڑہ یونیورسٹی کے طالب علم سے ملتا ہوں تو بہت سی پرانی خواہشیں جاگ اٹھتی ہیں۔۔ ہر بار پلان بناتا ہوں کہ یار سب کچھ چھوڑ دوں اور اس عظیم یونیورسٹی کا طالب علم بن جاؤں مگر ہر بار حالات الٹے ہی ہوجاتے ہیں۔۔ لیکن مرنے سے پہلے میں یہاں سے کوئی ڈگری ضرور حاصل کروں گا۔ یار موت مجھے اتنی تو مہلت ضرور دے گی۔ میں اس خواہش کو اپنے ساتھ قبر میں نہیں لے جانا چاہتا۔ میں کئی چہروں سے ملنے کی خواہش قبر میں ساتھ لے جا سکتا ہوں۔ میں سی ایس ایس کی خواہش قبر میں لے جاسکتا ہوں۔ میں ہر خواہش کو اس خواہش پہ قربان کر سکتا ہوں۔ مگر یہ خواہش پوری کیے بنا مرنا نہیں چاہتا۔ میں گمنام مر جاؤں گا۔۔ مگر یونیورسٹی آف اوکاڑہ سے پڑھے بنا نہیں مرنا چاہتا
میرے لیے یہ یونیورسٹی ایک احساس ہے۔ ایک ایسا احساس جس کی خوشبو میں ہمہ وقت محسوس کرتا ہوں۔
میں جب ایم اے کے پیپرز دینے اوکاڑہ جاتا تھا تو یونیورسٹی کے دروازے سے گزرتے ہوئے مجھے اپنا ایم اے فضول لگتا تھا، بالکل فضول، اوکاڑہ میں رہتے ہوئے ایم اے کی ڈگری کسی اور یونیورسٹی سے ہو تو میرے لیے تقریباً فضول ہی ہے (آپ کا اس بات سے اتفاق ضروری نہیں)۔
کیا فائدہ، ؟؟۔ کیا فائدہ اگر وفاؤں کے شہر اوکاڑہ میں رہتے ہوئے اوکاڑہ سے ہی وفا نہ کرسکا؟؟؟۔

کالم نگار عابد لاشاری، تحصیل رینالہ ضلع اوکاڑہ۔
03024942874

اپنا تبصرہ بھیجیں