تھینک یو مسٹر مرزا محمد اسلم بیگ .. محمد اسلم خان کھچی

حامد میر فوج کو دھمکیاں دینے کے بعد مکافات عمل کا شکار ہوئے. میڈیا بلیک کے آؤٹ کے بعد مسلسل فوج دشمنی اور غداری پہ مائل نظر آتے ہیں. انہوں نے جنرل مرزا محمد اسلم بیگ صاحب کی کتاب کے حوالے سے ایک کالم لکھا ھے جس میں وہ ایوب خان سے لیکر مشرف صاحب تک کے جنرلز کی کردار کشی کرتے نظر آتے ہیں.
اس کتاب کا حوالہ دے کر اپنے والد وارث میر کو سقوط ڈھاکہ کے معاملے میں بیگناہ ثابت کرنے کی کوشش کر رھے ہیں جبکہ تاریخ گواہ ھے کہ اپنے والد وارث میر سے لیکر حامد میر تک کا ملک دشمنی اور غداری تک کا سفر انہوں نے غیرملکی طاقتوں اور غیرملکی ایجنڈے کے بل بوتے پر کیا ھے.
جنرل مرزا محمد اسلم بیگ صاحب کی سوانح عمری جو کرنل اشفاق حسین صاحب نے لکھی ھے. حامد میر کے حساب سے ایک Controversial Book ھے. کرنل اشفاق حسین صاحب کے خلاف آرمی رولز کے تحت کاروائی ہوتی ھے یا نہیں. یہ فیصلہ بڑی طاقتیں کریں گے لیکن اس کتاب میں حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا گیا ھے.
مسٹر حامد میر نے سب سے پہلے اس کتاب کے حوالہ جات دیکر اپنے والد وارث میر کو محب وطن ثابت کرنے کی کوشش کی ھے جبکہ تاریخ یہ ثابت کرتی ھے کہ انہوں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بھرپور کردار ادا کیا. ان کے آرٹیکلز سے بنگلہ دیشی عوام میں مغربی پاکستان کے خلاف نفرت پھیلائی گئی اور انہیں یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ حکومت سازی مشرقی پاکستان کا حق ھے جو مغربی پاکستان ہڑپ کرنا چاہتا ھے. اس کتاب کی آڑ لیکر وہ وارث میر کو معصوم اور محب وطن ثابت کرنے کی کوشش کر رھے ہیں.

ایوب خان سے لیکر جنرل مشرف تک سب کو رگیدا گیا ھے.
بقول حامد میر جنرل ضیاءالحق مرحوم کا پلین کریش بھی معمول کا حادثہ تھا جبکہ ساری دنیا جانتی ھے کہ وہ حادثہ نہیں تھا. ایک پلاننگ کے تحت جنرل ضیاءالحق صاحب اور تمام سینئر فوجی قیادت کو شہید کیا گیا.
طیارہ حادثہ کے حقائق اور شواہد کو بری طرح مسخ کیا گیا.
ایک آرمی چیف جو President of Pakistan بھی ہو. اس کے سیکیورٹی S O P’s کو کیسے Violate کیا جا سکتا ھے ؟ اور یہی Violation عام پبلک کے شکوک و شبہات میں اضافہ کرتی ھے.
جب جنرل ضیاءالحق مرحوم بہاولپور پہنچے تو ان کے طیارے C 1 30 کو مرمت کے بہانے بہاولپور ایئرپورٹ پہ روک لیا گیا جبکہ طیارے کو وہاں رکنے یا روکے جانے کی اجازت ہی نہیں تھی. رولز کے مطابق طیارے نے واپس چکلالہ ایئر بیس پہ لینڈ کرنا تھا.
جب طیارہ واپس اسلام آباد نہ پہنچا تو بیگم شفیقہ ضیاء صاحبہ کو پریشانی لاحق ہوئی تو انہوں نے ضیا الحق صاحب سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی بات نہیں کرائی گئی. طیارے میں آموں کی پیٹیاں لوڈ کی گئیں اور طیارہ اڑان بھرنے کے چند ہی منٹ بعد بستی لال کمال پہ حادثے کا شکار ہو گیا. چند منٹ بہت ہوتے ہیں. طیارے سے کسی قسم کا کوئی میسیج موصول نہیں ہوا. May Day, May Day کی کوئی کال موصول نہیں ہوئی جبکہ طیارہ کریش میں جتنی بھی ایمرجنسی ہو, کوئی نہ کوئی ہیلپنگ میسج ضرور ملتا ھے. لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا. یہ الگ بات ھے کہ تحقیقات ہوئیں اور انہیں منظر عام پر نہیں لایا گیا. اعجاز الحق صاحب کئی ٹی وی شوز میں برملا اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ مرحوم جنرل ضیاءالحق صاحب کو ایک سازش کے تحت شہید کیا گیا.
طیارہ کریش ہوتے ہی جنرل مرزا محمد اسلم بیگ صاحب اسلام آباد چلے گئے اور صدر غلام اسحاق خان مرحوم کو اقتدار سنبھالنے کا کہا جبکہ وہ بہاولپور رک کر بھی یہ کام سر انجام دے سکتے تھے. اگر وہ بہاولپور رک جاتے تو آور موقع واردات اور بہاولپور ایئرپورٹ کی انویسٹیگیشن کی نگرانی کرتے تو شاید اس سانحہ عظیم کا کوئی سرا ہاتھ لگ جاتا.
ضیاء الحق صاحب کی شہادت کے بعد اقتدار صدر غلام اسحاق صاحب سے محترمہ بینظیر صاحبہ کو منتقل ہوا اور جنرل مرزا محمد اسلم بیگ صاحب آرمی چیف بن گئے.
بقول حامد میر, کرنل اشفاق حسین صاحب نے تمام سیاستدانوں کو کلین چٹ دے دی ھے. بھٹو کی پھانسی کو غلط قرار دیا ھے . بینظیر صاحبہ کو ایٹمی پروگرام کی روح رواں قرار دیا ھے. میاں نواز شریف صاحب کے حکومت سے نکالے جانے کو ایک سازش قرار دیا ھے.

یہ قوم کے ساتھ کیسا مذاق ھے کہ پانامہ لیکس سے دنیا کے 8 سربراہان مملکت اپنی حکومت سے ہاتھ دھو بیٹھے .کئی جیل چلے گئے لیکن حامد میر صاحب اسے سازش قرار دے رھے ہیں.
حامد میر کے کالم کو اگر Conclude کریں تو یہ نتیجہ نکلتا ھے کہ بھٹو صاحب, بینظیر صاحبہ اور میاں نواز شریف صاحب بے گناہ تھے. ان کے ساتھ زیادتی کی گئی جبکہ نواز شریف صاحب پہ الزام ھے کہ انہوں نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ سے گٹھ جوڑ کر کے بینظیر صاحبہ, تین ملٹری چیفس, چیف جسٹس سپریم کورٹ, صدر غلام اسحاق خان, صدر فاروق احمد لغاری, محمد خان جونیجو کو اقتدار سے نکال باہر کیا.
حامد میر کے بیان کیئے گئے حقائق کو جانتے ہوئے اب عوام بھی یہ امید کرتی ھے کہ اگر نواز شریف صاحب ان تمام معاملات میں بیگناہ ہیں تو اسٹیبلشمنٹ کو اور تمام سیاسی پارٹیوں کو سچائی پہ مبنی حقائق عوام کے سامنے لانے چاہئیں.
اگر نواز شریف صاحب واقعی بے گناہ ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ پاکستان کے نجات دہندہ ہیں.

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ھے کہ تمام سیاستدان یا آرمی آفیسرز ریٹائرمنٹ کے بعد ہی حقائق سامنے کیوں لاتے ہیں پہلے جنرل شاہد عزیز صاحب نے ذاتی خواہشات اور پسند ناپسند پہ ” یہ خاموشی کہاں تک ” نامی Controversial Book لکھی اور اب جنرل مرزا محمد اسلم بیگ صاحب کی کتاب کا چرچا ھے. حامد میر جیسے ملک دشمن حقائق کو مسخ کر کے اپنی مرضی کے Results نکال کے عوام کو گمراہ کر رھے ہیں.
اسٹیبلشمنٹ اور ملٹری قیادت کو نوٹس لیتے ہوئے حامد میر جیسے کردار کے خلاف حقائق کو توڑ موڑ کر بیان کرنے پہ کاروائی کرنے کی ضرورت ھے ورنہ کل کو کوئی بھی اٹھے گا اور فوج کے خلاف ہذیان بکنا شروع کر دے گا.
اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو

اپنا تبصرہ بھیجیں