مرنا تو پھر سب کو ھے.. حامد میر

بہت سال پہلے اداکار شاہد کے ساتھ پہلی ملاقات باغ جناح لاہور میں ہوئی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب نواز شریف پہلی مرتبہ وزیراعظم بن چکے تھے اور کبھی کبھی شام کو باغ جناح کے جم خانہ گراؤنڈ میں کرکٹ کھیلنے آیا کرتے تھے۔
ہم بھی شام کو منو بھائی، عباس اطہر، جواد نظیر، شاہد شیخ، نعیم طاہر شیخ اور اداکار شاہد کے ساتھ باغِ جناح میں واک کیا کرتے تھے۔ وزیراعظم صاحب کی آمد کے باعث باغ جناح میں حفاظتی انتظامات بڑھا دیے جاتے اور ہمارے واکنگ ٹریک پر بھی رائفل بردار پولیس والے کھڑے نظر آتے تو سب نواز شریف کی حکومت پر سرکاری وسائل کے ناجائز استعمال کو جواز بنا کر شدید تنقید کرتے۔
اداکار شاہد بہت کم بولتے تھے۔ وہ ہماری باتیں غور سے سنتے رہتے اور ہنستے مسکراتے رہتے۔ کوئی دن ایسا بھی ہوتا، جب ہمارے بزرگ واک پر نہ آتے اور ہم شاہد صاحب سے ان کے ماضی کی باتیں پوچھنے کی کوشش کرتے لیکن وہ خوبصورتی سے ٹال دیتے۔ عباس اطہر مجھے اکثر کہتے کہ شاہد کے پاس پاکستان کی سیاست کے کچھ اہم راز ہیں۔ کوشش کر کے یہ راز سامنے لے آؤ۔ سن 1994ء میں یہ ناچیز لاہور سے اسلام آباد آ گیا اور باغ جناح میں واک کرنے والے گروپ سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
کچھ برسوں کے بعد ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ یہ نوجوان پی ٹی وی پر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ایک شو کرتا تھا۔ نوجوان بڑا سمارٹ اور ذہین تھا لیکن مشرف کے ساتھ پروگرام کرنے کی وجہ سے میں نے اسے نظرانداز کر دیا۔ یہ نوجوان خلافِ توقع میرے ساتھ بڑی خوش اخلاقی سے پیش آ رہا تھا اور کہنے لگا کہ میرے والد صاحب کہتے ہیں کہ اگر صحافت سیکھنی ہے تو حامد میر سے سیکھو۔
میں نے پوچھا کہ آپ کے والد کا نام؟ اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اداکار شاہد میرے والد ہیں۔ یہ سنتے ہی میں نے کامران کو گلے سے لگا لیا اور پھر اس کے ساتھ ایک محبت بھرا رشتہ قائم ہو گیا۔ اپنے زمانے کے ایک سُپراسٹار فلم ایکٹر کا بیٹا ہونے کے باوجود کامران شاہد نے میڈیا اسٹار بننے کے لیے بہت محنت کی ہے۔ حال ہی میں اپنے والد شاہد کے ساتھ کامران شاہد کے ایک انٹرویو کو بڑی شہرت حاصل ہوئی ہے، جس میں بیٹے نے ایک گھاگ صحافی بن کر اپنے باپ سے پاکستان کی تاریخ کے کچھ ایسے راز اگلوا لیے، جن کا نئی نسل تک پہنچنا بہت ضروری تھا۔
اداکار شاہد نے بتایا کہ 1978ء میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین سے ایک رات انہوں نے ملاقات کی۔ مولوی صاحب ان کے دور پار کے رشتہ دار تھے اور شاہد سے ان کی خاصی بے تکلفی تھی۔ شاہد کو پتا چلا کہ مولوی مشتاق حسین نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ فیصلہ سنانے سے ایک رات قبل شاہد صاحب ان کے گھر پہنچے اور ہاتھ باندھ کر گزارش کی کہ سر آپ ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت نہ دیں، عمر قید کر دیں۔
یہ سن کر مولوی صاحب ناراض ہو گئے اور شاہد کو اپنے گھر سے نکل جانے کا حکم دیا۔ شاہد اٹھ کھڑے ہوئے اور جاتے جاتے کہا، ” سر! مرنا توپھر سب کو ہے۔‘‘
پھر جب ایک دن مولوی مشتاق حسین کا جنازہ جا رہا تھا تو شاہد بھی اس میں شریک تھے اور شاہد نے بتایا کہ اس جنازے پر شہد کی مکھیوں نے حملہ کر دیا اور جسٹس نسیم حسن شاہ سمیت ان سب ججوں کو مکھیوں نے کاٹا، جنہوں نے بھٹو کو سزائے موت دی تھی۔ شاہد نے یہ کہانی ایک ایسے وقت میں سنائی ہے، جب عدلیہ کی آزادی کے سوال پر وکلاء برادری میں بہت سے اہم سوالات زیرِبحث ہیں۔ ایک نوجوان صحافی نے مجھ سے پوچھا کہ کیا شاہد سے یہ سوال نہیں پوچھا جانا چاہیے تھا کہ آپ نے ایک جج کے فیصلے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کیوں کی؟ میرا جواب یہ تھا کہ جسٹس مولوی مشتاق حسین کا ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تعصب ڈھکا چھپا نہیں تھا۔
بھٹو نے سینیارٹی نظرانداز کرتے ہوئے انہیں چیف جسٹس نہیں بنایا تھا لہذا مولوی مشتاق حسین نے بھٹو کے خلاف فیصلہ سنانے میں انصاف کے سب تقاضوں کو پامال کیا۔ مولوی مشتاق حسین نے جو کیا وہی کچھ سپریم کورٹ کے ججوں نے بھی کیا۔ جسٹس نسیم حسن شاہ نے بھی اعتراف کیا کہ بھٹو کے ساتھ ناانصافی ہوئی لیکن یہاں ہمیں ان ججوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے، جنہوں نے تمام تر دباؤ کے باوجود فوجی جرنیلوں کی مرضی و منشا کے مطابق فیصلے لکھنے سے انکار کیا۔
انہی میں سے ایک بہادر جج چوہدری غلام حسین بھی تھے۔ وہ انسدادِ دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت کے سربراہ تھے۔ ان کی عدالت میں بھی ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف لاہور ریلوے اسٹیشن میں بم دھماکا کرانے کا مقدمہ زیرسماعت تھا۔ چوہدری صاحب نے اپنی کتاب ”جج، جرنیل اور جنتا‘‘ میں انکشاف کیا ہے کہ ایک دن لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین نے مجھے بلایا اور کہا کہ بھٹو کے خلاف فیصلہ سنا دو تو تمہیں ہائی کورٹ کا جج بنا دوں گا۔ چوہدری صاحب نے انکار کر دیا لہذا وہ ہائی کورٹ کے جج نہ بن سکے اور پھر مولوی مشتاق حسین کو نواب محمد احمد خان قتل کیس میں بھٹو کو پھانسی کی سزا سنانا پڑی۔
چوہدری غلام حسین کی کتاب پڑھ کر پتا چلتا ہے کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا جج بننے کے لیے کبھی کبھی کچھ منصفوں کو انصاف کی بجائے ناانصافی بھی کرنا پڑتی ہے۔ لیکن ناانصافی کرنے والوں کا انجام وہی ہوتا ہے، جو مولوی مشتاق حسین کا ہوا۔ اداکار شاہد نے کامران شاہد کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے ساتھ اپنے پرانے تعلقات کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ کالج کے زمانے میں ثاقب نثار ”ہمارے محبت نامے لڑکیوں تک پہنچایا کرتے تھے۔‘‘
ثاقب نثار کا ذکر، جس انداز میں کیا گیا، وہ کسی سابق چیف جسٹس کے شایانِ شان نہیں تھا لیکن شاید سابق چیف جسٹس نے اپنے اعمال سے خود ہی اپنی عزت کے لیے خطرات پیدا کیے۔ شاہد کے تاریخی انٹرویو کا سب سے یادگار اور سبق آموز جملہ یہی تھا، ”مرنا تو پھر سب کو ہے۔‘‘
جن طاقت ور لوگوں کو آج اپنا مرنا یاد نہیں، وہ اداکار شاہد کا اپنے بیٹے کامران شاہد کو دیا گیا انٹرویو صرف ایک مرتبہ ضرور دیکھ لیں۔ انہیں صاف نظر آ جائے گا کہ جب وہ اقتدار و اختیار کے مالک نہ ہوں گے تو تاریخ انہیں کیسے یاد کرے گی؟

اپنا تبصرہ بھیجیں