“پاکستان میں مہنگائی کے باعث خانہ جنگی کا خادشہ”

تحریر:بلاول ساجدی

ان ممالک کا شمار ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہیں۔ جن کی معیشت بھی اچھی ہو۔ جب سے پاکستان آزاد ہوا ہے تب سے اسے صرف اور صرف لوٹا جا رہا ہے۔ اور ہر نئی حکومت مہنگائی کا ذمہ دار پرانی حکومت کو ٹھہراتی ہے_
اس وقت پاکستان کی معیشت تباہ حال معیشت بن چکی ہے۔ مہنگائی آسمان کو چھو گئی ہے۔ اگر لوگوں کی آمدنی 20،000 روپے ہے تو اخراجات 40،000 روپے ہیں۔ اس وقت غریب تو غریب امیر بھی پریشان ہو گئے ہیں۔ زرداری اور نواز شریف کی حکومت کو ناکام بنانے کے لیے خان صاحب کنٹینر پر کھڑے ہو کر بڑے جوش و خروش سے کہتے تھے کہ اگر ملک میں مہنگائی بڑھ جائے تو سمجھو کہ وزیر اعظم چور ہے۔ تو اب مہنگائی اتنی زیادہ ہے ، اس کا کیا مطلب ہے؟ اگر نواز کی حکومت میں ڈالر کو مصنوعی طور پر کنٹرول کیا جاتا تھا تو عوام پر مہنگائی کا پہاڑ نہیں گرا ہوا تھا۔ ان کے دور میں کرپشن تھی لیکن مہنگائی نہیں تھی۔ اگر خان کی حکومت میں کرپشن رک گئی ہے تو پھر مہنگائی کیوں بڑھ گئی ہے۔ جس ملک میں مہنگائی زیادہ ہو تو اس ملک کی معیشت تباہ ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں
اس وقت یہی صورتحال ہے۔
اگر مہنگائی کا یہی حال رہا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کے تمام سرکاری ادارے بھک چکے ہونگے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاک فوج اپنی مثال آپ ہے۔ پاک فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ دنیا پاک فوج کے نام سے خوفزدہ ہے۔ دنیا پاکستان کی ایٹمی طاقتوں سے خوفزدہ ہے۔ لیکن جب معیشت گرتی ہے تو یہ ایٹمی طاقتیں بیکار ہوجاتی ہیں۔
پاکستان کا دشمن بہت چالاک ہے ، وہ پہلے پاکستان کی معیشت کو تباہ کر رہا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جب معیشت تباہ ہوئی تو ملک میں خانہ جنگی پھیل جائے گئی اور حکومت فوج کو خانہ جنگی روکنے پر مجبور کرے گی۔ پھر دشمن کے خریدے گئے بے ایمان لوگ عام لوگوں کے دلوں میں فوج کے لیے نفرت پیدا کریں گی تاکہ عوام فوج سے نفرت کریں۔
خان صاحب اور پاک فوج اور تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور پاکستان کی معیشت اور پاکستان کو بچانے کے لیے ایک پیج پر آکر کام کریں۔مہنگائی کا مکمل خاتمہ کرکے پاکستان کی معیشت کو مضبوط کریں۔ اور پاکستان کی دشمنوں کو شکست دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں