ایک اور موت.. عاصم ارشاد

کامران فیصل نیب راولپنڈی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر تعینات تھے۔ وہ بدنام زمانہ رینٹل پاور کیس کی تحقیقاتی ٹیم کا حصہ تھے۔ دو ہزار آٹھ اور نو میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملک میں بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے کرائے پر رینٹل پاور پلانٹس حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اس وقت وفاقی وزیر بجلی اور پانی تھے اور یہ سارا منصوبہ ان کی زیر نگرانی تیار ہوا۔
اسی وقت میڈیا اور دیگر حلقوں کی جانب سے رینٹل پاور پلانٹس کے منصوبے پر اعتراضات اٹھنے شروع ہو گئے تھے۔ آٹھ نومبر دو ہزار نو میں روزنامہ دی نیشن میں وفاقی وزیر ہاؤسنگ مخدوم فیصل حیات کا بیان شائع ہوا جس میں انہوں نے ان منصوبوں میں اربوں روپے کی کرپشن کا الزام لگایا اور سپریم کورٹ سے اس کا نوٹس لینے کی درخواست کی۔
نیپرا نے تیس نومبر دو ہزار دس میں رینٹل پاور منصوبوں میں شامل نوڈیرو اور گدو منصوبوں پر سخت اعتراضات اٹھائے اور ان منصوبوں میں دس اعشاریہ ایک پانچ ملین ڈالر کی ادائیگیوں کو خلافِ قانون قرار دیا۔ حکومت نے اس معاملے پر جائزہ لینے کے لئے ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے رجوع کیا۔ جنوری دو ہزار دس میں ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے سارے معاملے کا جائزہ لے کر ایک رپورٹ جاری کی۔
ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے اپنی رپورٹ میں رینٹل پاور منصوبے میں بنیادی خامیوں، قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کے ساتھ واضح طور پر اس منصوبے کو ناقابل عمل اور پاکستان کے مفاد کے خلاف قرار دیا تھا۔ اٹھارہ مئی دو ہزار دس میں آڈیٹر جنرل پاکستان نے بھی اپنی رپورٹ میں رینٹل پاور کیس منصوبے میں سنگین بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی اور اعتراض کیا کہ کیوں وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف نے منصوبے شروع ہوئے بغیر ہی ایک اعشاریہ سات ارب روپے ان کمپنیوں کو ادا کر دیئے؟
تین دسمبر دو ہزار دس کو سپریم کورٹ نے رینٹل پاور منصوبوں میں کرپشن کا از خود نوٹس لیا۔ مارچ دو ہزار بارہ میں سپریم کورٹ نے رینٹل پاور منصوبوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے، تمام معاہدے منسوخ کر تے ہوئے نیب کو راجہ پرویز اشرف سمیت تمام ذمہ دار افراد کے خلاف کاروائی کرنے کا حکم دیا۔ جون دو ہزار بارہ میں راجہ پرویز اشرف وزیراعظم بنا دیئے گئے تو نیب نے ان کے خلاف تمام کاروائی روک دی۔
ستمبر دو ہزار بارہ میں سپریم کورٹ نے نیب حکام کو وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف کاروائی نہ کرنے پر نوٹس جاری کئے۔ نومبر دو ہزار بارہ میں نیب حکام نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ کامران فیصل اور اصغر خان پر مشتمل نیب کی تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ مکمل کر کے پراسیکیوٹر جنرل کے حوالے کر دی ہے۔ اس رپورٹ میں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور دیگر پندرہ افراد کو رینٹل پاور منصوبوں میں اربوں روپے کی کرپشن کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔
چیئرمین نیب فصیح بخاری نے اس رپورٹ میں راجہ پرویز اشرف کو کرپشن کا ذمہ دار قرار دینے پر کامران فیصل اور اصغر خان کو اس کیس کی تحقیقات سے علیحدہ کر دیا۔ بارہ جنوری دو ہزار تیرہ میں سپریم کورٹ نے نیب کو اصغر خان اور کامران فیصل کو دوبارہ اس کیس کی تحقیقات پر بحال کرنے کا حکم دیا۔
پندرہ جنوری دو ہزار تیرہ میں سپریم کورٹ نے نیب کے تحقیقاتی آفیسرز کامران فیصل اور اصغر خان کی رپورٹ پر راجہ پرویز اشرف سمیت دیگر پندرہ ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ اسی روز نیب کے چیئرمین فصیح بخاری اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان ملاقات ہوئی۔ سترہ جنوری کو سپریم کورٹ کے سامنے چیئرمین نیب فصیح بخاری نے اپنے ہی ادارے کی تحقیقاتی رپورٹ کو غلط قرار دے دیا اور وزیراعظم کو گرفتار کرنے سے انکار کر دیا۔
اگلے روز اٹھارہ جنوری کی صبح کامران فیصل اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ میں مردہ پائے گئے اس موت کو خودکشی بتایا گیا کہ کامران فیصل نے خودکشی کر لی تھی لیکن آج تک اس موت کی تحقیقات سامنے نہیں آئی کہ کامران فیصل کے کمرے سے لیپ ٹاپ اور ضروری دستاویزات غائب کیسے ہوئے؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت تین سے چار منٹ میں کیوں واقع ہوئی؟ آج تک اس کی تحقیقات نہیں ہوئی اور نہ ہی علم ہو سکا کہ کامران فیصل کو کیا ہوا تھا؟
دو دن قبل ڈاکٹر رضوان وفات پا گئے، سابق ڈائریکٹر ایف آئی اے انتہائی قابل اور ہونہار آفیسر ڈاکٹر رضوان نے شہباز شریف فیملی کی منی لانڈرنگ کیس میں تفتیش کی تھی اور بڑی اہم چیزیں سامنے لائے تھے جب شہباز شریف حکومت آئی تو چھٹی پر چلے گئے کہ شاید دل اور دماغ پر جو دباؤ تھا کم ہو جائے لیکن نہیں ہوا اور دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے۔
میں سمجھ سکتا ہوں کہ جب کوئی ایماندار آفیسر کسی طاقتور کی تفتیش کرتا ہے اور جرم ثابت ہو جاتا ہے تو اس آفیسر کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے؟ برگیڈیئر اسد درانی نے 2019ء میں خودکشی سے پہلے ایک خط لکھا تھا جس میں نیب پر گلے شکوے کیے تھے کہ مجھ سے پوچھ گچھ کرنے والے افسران نااہل ہیں، میرا نام 2017ء سے ای سی ایل میں ڈالا ہوا ہے مجھ پر ایک جرم بھی ثابت نہیں ہوا اور میں نہیں چاہتا کہ مجھے جھوٹی ہتھکڑی لگا کر میڈیا کے سامنے لایا جائے، میں ایسی ذلت سے موت کو ترجیح دیتا ہوں۔
اسد درانی کی موت کے صرف چند ہی سالوں بعد انہیں ہر کیس سے باعزت بری کر دیا گیا تھا لیکن کیا وہ واپس آئے، کامران فیصل واپس آئے یا ڈاکٹر رضوان؟ کوئی نہیں کرنے کے بعد کوئی واپس نہیں آتا لیکن کیسز اور چالان بنتے جاتے ہیں راجہ رینٹل کے نام سے مشہور راجہ پرویز اشرف وزیراعظم بھی بنے اور آج قومی اسمبلی کے اسپیکر بھی، شہباز شریف بھی ضمانت پر رہا ہیں لیکن ملک کے وزیراعظم ہیں ایسے ملک پر صرف اللہ ہی رحم فرما سکتے ہیں۔

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

اپنا تبصرہ بھیجیں