ماحول کو اپنے مطابق کیسے بنائیں.. زارا مظہر

صغیر چچا ہمہ دم خوش رہتے ہیں غالباً ان کی صحت اور طویل عمری کا یہی راز ہے۔ دوہزار دس میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئے تھے تب سے ہر وقت سفر میں رہتے ہیں۔ نہ بلڈ پریشر کبھی ہائی ہوا نہ لو، نہ دل کی دھڑکن بڑھی نہ گھٹی۔ جسم کی مشینری ٹھیک ٹھاک اور نارمل سی چلتی رہتی ہے نہ شریانیں سکڑتی، سمٹتی ہیں۔ ہر مسٔلے کا ایک مستند حل ان کی جیب میں رہتا ہے۔
ضرورت پڑنے پہ بڑی فراخ دلی سے جیب تھپتھپا کے نکال لیتے ہیں۔ سرگودھا میں رہائش پذیر ہیں لیکن تمام سیلانی بندے ہیں تمام سال ٹوور پہ رہتے ہیں، ملک میں بسنے والے ہر امیر و غریب اور دور و قریب کے رشتہ دار کو ملنے ان کے شہر جاتے ہیں۔ اتنی اپنائیت سے ملتے ہیں کہ ہر ملنے والے کو لگتا ہے یہ ہمارے سگے چچا ہیں۔
کبھی گلہ ہی نہیں کرتے کہ فلاں تم نہیں ملنے آتے یا تم نہیں ملنے آتے یا تم نے کونسا ملنے آنا ہے؟ جس سے ملنے کو جی چاہا اپنا شولڈر بیگ لیا اور ملنے جا پہنچے۔ ہر کسی سے یوں ملتے ہیں کہ گھر والوں کو بالکل تکلیف نہ ہو، آنے سے پہلے سے اطلاع نہیں کرتے کہ گھر والے تکلّفات کا جھنجھٹ پالیں۔ گھر کی بہو بیٹیاں اگر کچھ خاص اہتمام کرنے بھی لگیں تو ہاتھ پکڑ کے بٹھا دیتے ہیں بس دستر خوان پہ جو موجود ہو اسی پہ صبر شکر کر کے گھر والوں کی فراخئ رزق کے لیے ہاتھ بلند کر دیتے ہیں۔
کیا زیست ان کے لئے اتنی ہی آسان ہے یا آسان بنا دی گئی ہے؟ نہیں بلکہ اختیاری آسان بنا لی گئی ہے۔ ان کے بیگ میں ان کی ضرورت کا ہر سامان موجود ہوتا ہے۔ دو تین مائع لگے اور دھوبی سے پریس شدہ سفید کڑک کرتے چئرمین لٹھے کی شلواریں، دو چار دھلی ہوئی بنیانیں، ناڑے پانی، نماز کی ٹوپی، گھر کی چپل، چھو ٹے بڑے رومال، پرفیوم وغیرہ سب موجود ہوتا ہے۔ خود ہی نکالتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں۔ بہو بیٹیوں کو تکلیف نہیں دیتے۔
عموماً ریٹائرمنٹ کے بعد مرد حضرات گھر والوں کا جینا دوبھر کر دیتے ہیں لیکن صغیر چچا نے بڑی اچھی روایت ڈالی ہے کہ سیر سپاٹوں پہ رہتے ہیں جن قرابت داروں سے نوکری کی بندش میں نہیں مل سکتے تھے اب وقت نکال رہے ہیں۔ جہاں مہمان ہوں کبھی ہاتھ پہ ہاتھ دھر کے نہیں بیٹھے، ان کے وہ کام کر دیتے ہیں جو کئی مہینوں سے رکے ہوئے تھے۔
مثلاً چپکے سے ٹپکٹی ٹونٹی کا گلا کس دیا، دروازے کے کیچر بدل دیے، گملوں میں پانی ڈال دیا، صبح لان میں چہل قدمی کرتے جنگلی گھاس اکھیڑ ڈالی، کسی بے ترتیب شاخ کو تراش دیا، بوگن ویلیا کی گری ہوئی بیل باندھ دی اور کسی کو چپکے سے سودا لا دیا یہ سب ہمیں کیوں نظر نہیں آتا؟ اس لئے کہ ہمیں وقت کو کارآمد بنانا نہیں آتا۔
ایسے ہی زندگی میں کچھ لوگ ملتے ہیں جو محفلِ جان لگتے ہیں، یوں توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں جیسے میرِ محفل یہی تو ہیں بچوں کے ساتھ بچے، بڑوں کے ساتھ بڑے۔ ٹریفک جام میں پھنس گئے تو بنا جھنجھلائے پیکج کروایا اور عزیزوں کو کال ملا لی، وقت بھی اچھا گزر گیا سب کی خبر گیری بھی ہوگئی۔ معلوم ہو گیا کہ خاندان میں فلاں کو ہارٹ اٹیک آیا ہے، فلاں کے بچے کی شادی طے پاگئی ہے۔

فلاں کو جاب مل گئی، فلاں آج کل مشکلوں میں ہے، جان کاری مل گئی پاں پاں کرکے ماحول کو آلودہ نہیں کیا نہ ہی جھنجھلا کے اپنے اعضائے دریں کو نقصان سے دوچار کیا، زندگی کے دن بڑھ گئے ناں۔ ٹریفک جام کی کلفت زحمت سے رحمت میں بدل گئی۔ ایسے ہی جب ہم کچن میں کھڑے ہیں تو ایک طرف ہنڈیا چڑھائی، دوسری طرف آٹا بھگو دیا اور سبزی بنالی۔
چمچہ چلاتے آٹے کو مُکیاں مار کے فریج کے حوالے کیا اور ساتھ ہی سنک پہ جو برتن رکھے تھے ان کو ہاتھ مار لیا۔ لیجیے کوئی سبزی موجود ہے تو کاٹ پیٹ کے جھٹ پٹ اچار ڈال، گھنٹہ بھر میں کچن سیٹ اور کھانا تیار ہے۔ کچھ خریدنے بازار گئے تھے، گوہر مقصود چوتھی گلی میں ملے گا پہلی، دوسری اور تیسری گلی سے گزرتے کان اور آنکھیں کھلی رکھئے، کہیں بھاؤ تاؤ ہو رہا ہے تو کانوں میں ڈالتے رہیۓ ریٹ سے آگاہی رہتی ہے۔
چلتے چلتے مستقبل میں خریدی جانے والی دو چار اشیاء کی قیمت بھی معلوم کرلی جب لینی ہوں گی تو یہ ہوم ورک کام آئے گا۔ خالہ شریفاں ہماری والدہ کی پڑوسن تھیں جب بھی بازار جاتیں آتے جاتے سنار سے آج کا بھاؤ معلوم کر لیتیں اس طرح آنے والے دنوں میں اشیائے صرف کی قیمتوں پہ ان کی نظر رہتی۔ یہ معلومات مستقبل قریب کے کئی طرح کے فیصلے کرنے میں ان کے کام آتی۔ ان کا بجٹ ہمیشہ قابو میں رہتا کبھی مہنگائی کا رونا نہیں رویا۔
لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ ماحول میں ڈھل جانے والوں کا وقت ضائع نہیں ہوتا بلکہ وہ چوبیس میں سے اڑتالیس نکال لیتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں