(کارجہاں) .ایک دلیر اور جری افسر . میاں غفار

ڈاکٹر رضوان مرحوم بہت دلیر پولیس آفیسر تھے۔ میرا ان سے تعلق ایک لڑائی کے بعد اس وقت بنا جب وہ جھنگ میں ڈی پی او تھے اور انہیں کسی اعلیٰ ترین شخص کی طرف سے حکم دیا گیا تھا کہ فلاں شخص کو پولیس مقابلے میں مار دیا جائے۔ میں ان دنوں ایک ٹی وی چینل سے وابستہ تھا۔ میں نے ڈاکٹر رضوان کو صورتحال سے آگاہ کیا کہ بندہ سو فیصد بے گناہ اور بہت معزز فیملی کا ہے۔ پھر اس وقت کے آر پی او فیصل آباد رائے طاہر کو حقائق بتائے اور آر پی او ساہیوال امجد سلیمی کے علاوہ آر پی او سرگودھا میاں جاوید اسلام کو بھی اس معاملے سے آگاہ کیا۔ حقیقت معلوم ہونے اور تینوں آر پی او حضرات سے بات کرنے کے بعد ڈاکٹر رضوان نے دو ٹوک الفاظ میں حکم دینے والے کو آگاہ کردیا کہ وہ کسی بے گناہ کو نہیں مار سکتے اور پھر انہوں نے اُسی رات مذکورہ شخص کو رہا کر دیا۔ اللّٰہ کی شان ہے کہ وہ آج بھی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ہنس خوش زندگی گزار رہا ہے جبکہ اُس کی زندگی کی واپسی کا سبب بننے والے والا از خود اللّٰہ کے حضور پیش ہو گیا۔
ڈاکٹر رضوان بہت دلیر تھے اور کمال کی جرأت کا مظاہرہ کر جاتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ وہ ڈی پی او سرگودھا تعینات تھے جہاں سابق ایم پی اے اور ندیم افضل چن کے بھائی کے سسر اسلم مڈھیانہ جن کے مظالم کی داستانیں اتنی زیادہ ہیں کہ پیرانہ سالی میں بھی لوگ ان سے خوف کھاتے ہیں۔ سرگودھا کے علاقے مڈھ رانجھا میں ان کے خلاف سنگین نوعیت کے کئی مقدمات درج تھے انہوں نے کسی بات پر ناراض ہو کر بھرے بازار میں اپنے آدمیوں سے ایک انتہائی معزز ٹیچر نفیس خان کی ٹانگیں تڑوا دی تھیں جو ٹوٹی ہوئی ٹانگوں کے ساتھ انصاف لینے آئی جی آفس لاہور اور پھر میڈیا ہاؤسز پہنچ گئے۔ ڈاکٹر رضوان نے سخت دباؤ کے باوجود اسلم مڈھیانہ کے خلاف نہ صرف مقدمہ درج کیا بلکہ انہیں گرفتار بھی کر لیا۔ مجھے یاد ہے کہ سابق گورنر پنجاب ملک غلام مصطفی کھر اسلم مڈھیانہ کی گرفتاری بارے سن کر لاہور سے مڈ رانجھا گئے اور اسلم مڈھیانہ سے تھانے کے اندر جا کر ملاقات کی۔
سخت دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود ڈاکٹر رضوان نے اپنی نگرانی میں تفتیش جاری رکھی اور اسلم مڈھیانہ کے خلاف 17 صفحات پر مشتمل چالان اور رپورٹ مرتب کر لی، ساتھ ہی اسلم مڈھیانہ کا بیان بھی قلمبند کر لیا مگر اس بیان پر دستخط کرنے سے اسلم مڈھیانہ انکاری تھے۔ تھانے میں اُن کے حواریوں کا میلہ لگا رہتا تھا اور اسلم مڈھیانہ بلاخوف و خطر تھانے میں ریمانڈ کے دن پورے کر رہے تھے۔ ہر روز شام کو میرا اور ڈاکٹر رضوان کا اس کیس کے حوالے سے معلومات کا تبادلہ ہوتا۔ ڈاکٹر رضوان نے مجھے بتایا کہ ہمارا چالان مکمل ہے مگر جو بیان قلمبند کیا ہے اس پر اسلم مڈھیانہ دستخط نہیں کر رہا اور آئی جی پنجاب کے حکم پر دو ڈی آئی جی حضرات اگلے روز اس کیس کی انکوائری کے لیے سرگودھا آ رہے ہیں۔ اسلم مڈھیانہ ملزم ثابت ہو چکا ہے اور مجھے خدشہ ہے کہ میری ساری محنت پر پانی پھر جائے گا۔
میں نے ڈاکٹر رضوان سے کہا، پتا کرائیں کہ اسلم مڈھیانہ سگریٹ نوش کرتے ہیں۔ انہوں نے ایس ایچ او تھانہ مڈھ رانجھا سے پوچھ کر بتایا کہ وہ بہت زیادہ سموکنگ کرتے ہیں اور سگریٹ کے ساتھ سگریٹ سلگاتے ہیں۔ میں نے کہا، مبارک ہو ، آپ کا کام ہو گیا۔ ڈاکٹر رضوان حیرت سے کہنے لگے، وہ کیسے؟ میں نے کہا کہ اسلم مڈھیانہ کو پراٹھے اور کڑاہی گوشت زیادہ دیسی گھی ڈال کر کھلائیں اور اوپر سے لسی پلائیں مگر بعد میں سگریٹ نہ پینے دیں۔ انہوں نے ایس ایچ او کو ہدایات دیں اور ایس ایچ او نے اسی طرح کیا۔ سرگودھا میں ہمارے نمائندے چودھری اکرم عامر بھی لوپ میں تھے۔ اسلم مڈھیانہ نے خوب سیر ہو کر گھی والے تندوری پراٹھے اور گوشت کھانے کے بعد تھانے کے صحن میں بیٹھ کے جب سگریٹ طلب کی تو انہیں بتایا گیا کہ سگریٹ نہیں مل سکتا۔ پھر میرے مشورے پر انہیں حوالات میں بھی بند نہ کیا گیا کہ کہیں وہ اپھارے میں نقصان نہ کر لیں۔ تین گھنٹے میں اسلم مڈھیانہ قابل رحم حالت میں پہنچ چکے تھے، گالیاں دے رہے تھے کہ کیاچاہتے ہو میں مر رہا ہوں مجھے سگریٹ پینے دو۔ ڈاکٹر رضوان ساری کمنٹری سن کر ہنس رہے تھے اور مجھے بھی آگاہ کر رہے تھے۔ایس ایچ او نے ملزم سے کہا ہم نے آپ کو ہاتھ تک نہیں لگایا پھر ان کے اطراف میں پولیس ملازمین کرسیاں رکھ کر بیٹھے رہے۔ اس دوران ایک ملازم نے سگریٹ سلگایا تو اسلم مڈھیانہ نے ایس ایچ او سے کہا، تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ ایس ایچ او نے کہا کہ اس بیان پر انگوٹھے لگا کردستخط کر دیں۔ اسلم مڈھیانہ نے فوری طور پر رپورٹ اور بیان کے ایک ایک صفحے پر دستخط کر کے انگوٹھے ثبت کیے اور پھر سکون سے مسلسل سگریٹ کے کش لگائے۔ اگلی صبح جب لاہور سے دو ڈی آئی جی حضرات تفتیش کے لیے سرگودھا پہنچے تو ڈاکٹر رضوان نے اُن کے سامنے رپورٹ اور اسلم مڈھیانہ کے اقبال جرم کی تفصیلات رکھ کر بتایا کہ چالان تو مکمل ہو چکا ہے۔ دونوں ڈی آئی جی بے بسی کے عالم میں رپورٹ کی کاپی لے کر واپس لاہور روانہ ہو گئے۔

یہ تھے ڈاکٹر رضوان مرحوم۔ وہ اس حد تک دلیر تھے کہ اُن کے سامنے ملزم صرف ملزم ہوتا تھا۔ ایف آئی اے میں پوسٹنگ کے دوران بھی انہوں نے اہم اور حساس ترین مقدمات کی تفتیش میں سخت دباؤ کے باوجود سچائی کا کھوج لگا لیا کر اپنا کام مکمل کر لیا تھا کہ چھٹی پر روانہ کر دیے گئے۔ وہ خوف میں مبتلا ہونے والے نہ تھے ۔ واقفانِ حال کے مطابق وہ چند سال قبل کسی موذی مرض کا شکار بھی ہوئے مگر قوت ارادی سے مرض کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئے۔ مجھے ان کی موت میں سازش تلاش نہیں کرنا، بس یہ کہنا ہے کہ وہ دلیر تھے، باہر جانے پر پابندی یا اس قسم کے ہتھکنڈے اور دھمکیاں انہیں مرعوب نہیں کر سکتی تھیں البتہ بعض اوقات اولاد کی محبت بھی انسان کو کمزور کر دیتی ہے۔ وہ اللّٰہ سے اتنی ہی مہلت لے کر آئے تھے جو پوری ہوئی اور انتہائی مضبوط دل کا آدمی دل ہی کے ہاتھوں ہار گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں