سوسن کی ڈائری.. زارا مظہر

صبح کے دس بجے تھے سورج ابھی سے آ گ برسا رہا تھا۔ متوقع اطلاعی گھنٹی کی مخصوص آ واز پر سوسن جلدی سے جگ لیکر باہر نکلی۔ یہ وقت قریبی گاؤں سے گوالے کے دودھ لانے کا ہوتا تھا۔ کچن کے متعدد کام نمٹاتی سوسن نے چھان کر دودھ پتیلی میں ڈالا اور ابلنے کے لیئے رکھ دیا۔ دودھ ابل گیا تو حسبِ معمول پتیلی کو ایک اسٹیل کے بڑے باؤل میں رکھ کر سائیڈ پر ہلکی سی ٹونٹی کھول دی تاکہ دودھ جلدی ٹھنڈا ہو جائے اور وہ اسے اٹھا کر فریج میں رکھ دے۔
اس دوران وہ کچن کا سارا کام سمیٹ لیتی اور ٹھنڈا دودھ اٹھا کر فریج میں رکھ دیتی۔ اگلے پورے چوبیس گھنٹوں میں یہی دودھ استعمال ہونا ہوتا تھا۔ سوسن کا بڑا بچہ آ ج کل چھٹیوں پہ گھر آ یا ہوا تھا۔ اس کے کان بے حد حساس ہیں گھر کے اندر آ خری باتھ روم میں بھی اگر کبھی غلطی سے کوئی ٹونٹی ڈھیلی رہ جائے یا کسی ٹونٹی سے قطرہ قطرہ مسلسل پانی ٹپکے تو اس کی نیند میں خلل پڑ جاتا ہے۔ نیا نیا بڑا اور سمجھدار ہو رہا ہے
اس وقت کامن روم میں لیپ ٹاپ کھولے کانوں پر ہیڈ فون چڑھائے، آ نکھیں موندھے، ٹانگیں ہلاتا ہوا شاید Taylor swift یا camilla cabello کا نیا البم سن رہا تھا۔ ابھی تین منٹ بھی نہیں گزرے تھے کہ اس نے آ کر کھلی ٹیپ بند کر دی۔ سوسن کی استفسارانہ نگاہی کے جواب میں آ نے والے برسوں میں پانی کے بھیانک بحران پر ایک طویل لیکچر جھاڑا۔ نئے ڈیم نہ بنا سکنے پر سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کی نااہلیت پر روشنی ڈالی اور پانی کو آ نے والی نسلوں کے لئیے بچانے کی تاکید کی۔
سوسن خاموشی سے سنتی رہی۔ دودھ کا ٹیمپریچر کچھ ہی کم ہوا تھا۔ وہ سارے کام سمیٹ کر باہر نکل آئی اگلے دو تین گھنٹوں تک دودھ گرم ہی رہا۔ دودھ چونکہ گرم ہی تھا اس لیئے باہر ہی رہ گیا۔ سوسن اگلے دو گھنٹے باغیچے میں مصروف ہو گئی۔ واپس اندر آ ئی تو مٹی اور پسینے سے برا حال تھا سیدھا واش روم میں جا گھسی۔ فریش ہونے کے بعد دودھ فریج میں رکھ دیا۔ شام کی چائے بناتے وقت دودھ خراب ہو چکا تھا۔
شاید گوالے رات کا بچا ہوا دودھ بھی ڈرم میں انڈیل دیتے ہیں سوسن نے غصے سے سوچا۔ اسے سخت سُست سننے کو ملا۔ رات کو چہل قدمی کے دوران صبح ناشتے میں استعمال کے لیئے قریبی کھوکھے سے ٹیٹرا پیک لانا پڑا۔ اگلے روز دودھ والے کے آ نے تک سوسن پورا کچن سمیٹ چکی تھی۔ دودھ ابال کر وہ باؤل میں رکھنے ہی والی تھی کہ کامن روم میں فروکش بیٹے پر نظر پڑ گئی سو اس نے دودھ چولہے پر ہی رہنے دیا اور پنکھا بھی چلتا رہنے دیا خود اپنے معمول کے مطابق پھول پتوں سے باتیں کرنے کے لیئے لان کی طرف آ گئی۔
جہاں کورین گراس کا خوب صورت فرش بچھا ہوا تھا۔ غائرانہ جائزے سے بیچ بیچ میں چند ایک مقامات پر جنگلی گھاس کی ننھی پتیاں سر اٹھا رہی تھیں کافی لیچڑ گھاس تھی اگر ابھی نا نکالی جاتی تو اندر ہی اندر گزوں لمبائی تک جڑیں پھیلا لیتی وہ کھرپا لیئے نرمی سے گھاس نکالنے لگی۔ اس کھیل میں گھنٹوں صرف ہو گئے۔ نہا دھو کر سوسن کچن میں لنچ کی تیاری کے لئے آ ئی تو پنکھا بند تھا اور دودھ شدید گرم۔
استفسار پر پتہ چلا اس کی بیٹی نے کچن کا پنکھا بند کر دیا تھا کہ بجلی کا بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ بجلی بچانی چاہیے یہ پنکھا بند ہونے سے کسی طالب علم کا لیپ ٹاپ چل جائے گا۔ کسی مریض کو آ پریشن تھیٹر میں آکسیجن کی ضرورت ہو گی یہ تو فضول ہی چل رہا تھا۔ مام خیال رکھا کیجیئے اس کی بیٹی اپنی گلہری نما چھوٹی سی پونی ہلاتے ببل کا پٹاخہ بناتے ایک لاپرواہ ذمہ داری سے بولی۔ سوسن نے قدرے بد مزگی اور کوفت سے اس کا لیکچر سنا۔
شام کو چائے پہ دودھ پھر خراب تھا۔ سوسن کو آ ج کل سے بھی زیادہ سخت سننی پڑی کہ مہمان خانے میں اس کا شوہر اپنے تین عدد کولیگز کے ساتھ کسی آ فیشلی الجھن کی سلجھن میں مصروف تھا۔ سوسن نے جلدی سے قریبی کھوکھے سے فون پر ٹیٹرا پیک کی ڈیلیوری منگوالی۔ رات کو پھر صبح کے استعمال کے لیئے کھوکھے سے دودھ لانا پڑا۔ اگلے روز سوسن نے دودھ اٹھا کر کامن روم میں رکھی شیشے کی ٹاپ والی کافی ٹیبل پر جالی سے ڈھک کر رکھ دیا جہاں اس کا بیٹا پنکھا اور لیپ ٹاپ کھولے بیٹھا اپنے کسی پراجیکٹ میں مصروف تھا۔
آ ج سوسن کا کچھ پودوں کی مزید قلمیں بنانے کا ارادہ تھا تاکہ برسات کے موسم تک قلمیں تیار ہو جائیں۔ اس کی دوستوں کی فرمائش تھی۔ ائیر لئیرنگ کے ذریعےلیمن کے پودے سے ایک دو مزید پودے بنانے کا تجربہ کرنا تھا۔ انگور اور رنگون کریپر کی بیلیں باندھنی تھیں اور بہار کے پھولوں کے کچھ سوکھے اور باسی پودے ہٹانے تھے۔ لیمن گراس اور فرن کے پودے بے ترتیب ہو رہے تھے انہیں تراش کر ترتیب دینے کا خیال تھا سوسن نے بازو اڑس لیئے ایک لمبا سانس لیا اور جُت گئی۔
ابھی کچھ ہی کام ہوا تھا کہ کامن روم سے ایک دم شور اٹھا۔ دونوں بیٹے آ پس میں شوخیاں کرتے کرتے الجھ پڑے تھے وہ دست و گریباں تو نہیں ہوتے تھے۔ البتہ صوفوں کے کشنز اور بال پؤائنٹس کی شامت آ ئی ہوئی تھی۔ اسی ہاتھا پائی میں پتیلی الٹ گئی اور دودھ کی لکیر بہتی ہوئی داخلی دروازے سے پورچ کی طرف رستہ بنانے لگی۔ کام کی زیادتی دیکھ کر سوسن کو تپ چڑھ گئی۔ آ ج مسلسل تیسرا روز تھا کہ ٹیٹرا پیک دودھ آ تا۔
وہ دودھ کے زیاں اور شوہر کی ممکنہ ناراضگی کے خیال سے روہانسی ہو گئی ہے۔ کیوں کہ اس کا شوہر ڈبے کے دودھ کی چائے پسند نہیں کرتا۔ سوسن کافی پریشان ہے۔ سوچ رہی ہے گرمی کی چھٹیاں ہونے والی ہیں بچے گھر پر ہی رہیں گے اگر ہر روز یا اکثر ایسا ہوتا رہے تو کچن کے بجٹ پہ اچھا خاصا اثر پڑے گا۔ وہ پوچھ رہی ہے پانی بچائے، بجلی بچائے، دودھ بچائے، آ نے والی نسلوں کو یا موجودہ نسل کو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں