فالتو کھانا.. جاوید چوہدری

ہم سارا دن کولن شہر میں گھومتے رہے، شام کے وقت ریستوران میں پہنچ گئے، وہ ایک ترکش ریستوران تھا اور مسلمانوں کے ریستورانوں کی طرح وہاں ہر قسم کی خوراک کی فراوانی تھی، دروازے کے باہر شوارمے کی گرل تھی، گرل پر بیف، مٹن اور چکن کی پھرکیاں گھوم رہی تھیں، مین ڈور کے اندر شیشے کا طویل کائونٹر تھا، کائونٹر میں درجنوں ڈشز پڑی تھیں، آپ جس ڈش کی طرف اشارہ کرتے تھے، باوردی شیف وہ ڈش اٹھا کر کچن کی طرف روانہ ہو جاتا تھا، فوڈ کائونٹر سے آگے سالاد، فروٹس اور سویٹ ڈشز کے کائونٹرز تھے۔
ان کائونٹرز پر بھی خوراک کا انبار لگا تھا، ریستوران میں گہما گہمی تھی، آپ کو تاحد نظر لوگ ہی لوگ نظر آتے تھے، میں اور میرا میزبان دونوں شہر میں اجنبی تھے، ہم بائی کار جرمنی ڈسکور کر رہے تھے، ہم برلن سے کولن پہنچے، شہر دیکھا اور حلال خوراک کی تلاش میں اس ریستوران میں آ گئے، کھانا آیا، ہم نے کھانا شروع کر دیا، ہم پنجابی نفسیاتی طور پر “روٹی نہ مک جائے” سینڈروم کا شکار ہیں، ہم مہمانوں کے لیے کھانا بنوائیں یا منگوائیں، ہم شادی بیاہ کے لیے کھانا پکوائیں یا سوئم یا چالیسویں کا بندوبست کریں، ہم خود کھانا کھانے بیٹھیں یا ہم کسی دعوت پر جائیں ہم ہمیشہ کھانا زیادہ رکھیں گے۔
ہماری اس نفسیاتی بیماری کی وجہ شریکا اور طعنے ہیں، پنجاب میں پچاس سال پہلے تک “کھانا کم پڑ جانا” خوفناک طعنہ ہوتا تھا، پنجاب کی کسی شادی، سوئم یا دعوت میں کھانا کم پڑ جاتا تھا تو پورا شہر اس خاندان کو ملامت کرتا تھا، لوگ اس واقعے کو خاندان کی “چھیڑ، بنا لیتے تھے، یہ نام لے کر دوسروں کو بتاتے تھے فلاں کی شادی یا چالیسویں پر کھانا “تھڑ” گیا تھا یا فلاں کا مہمان رات بھر بھوکا رہا، ان طعنوں، اس چھیڑ نے ہماری نفسیات میں کھانے کا خوف پیدا کر دیا چنانچہ ہم کسی کے لیے کھانے کا بندوبست کرتے ہیں یا اپنی پلیٹ بھرتے ہیں تو ہم اتنہا کر دیتے ہیں، کھانے کے بعد “کھانا کیسا تھا” یہ ہمارا پہلا فقرہ ہوتا ہے۔
مہمان بھی کھل کر جھوٹی تعریف کرتے ہیں، ہم شادی بیاہ اور ختم درود کے بعد بھی فخر سے بتاتے ہیں ” ہمارے گھر ہزار لوگ آئے لیکن پانچ دیگیں پھر بھی بچ گئیں”۔ یہ بچی ہوئی پانچ دیگیں ہمارے لیے اعزاز کی حیثیت رکھتی ہیں، یہ ہماری نفسیات ہے، ہم نے اس نفسیات کے تحت کولن میں بھی اپنی ضرورت سے زائد کھانا منگوا لیا، ہماری میز بھر گئی، ہم دونوں کم کھانے والے لوگ ہیں چنانچہ ہم بہت جلد سیر ہو گئے، ہم نے بل منگوایا، ادائیگی کی اور اٹھ کھڑے ہوئے، ہم جوں ہی دروازے کے پاس پہنچے، ایک جرمن بابا اٹھا، ہمارا ہاتھ پکڑا اور زور زور سے چلانے لگا، وہ جرمن زبان میں کچھ کہتا تھا۔
ہماری میز کی طرف اشارہ کرتا تھا اور اونچی اونچی آواز میں چلاتا تھا، ریستوران میں موجود لوگ ہماری طرف متوجہ ہو گئے اور وہ بھی بابا کی آواز میں آواز ملانے لگے، ہم دونوں پریشان ہو گئے، ہم اپنا جرم سمجھنے کی کوشش کرتے لیکن ہمیں اپنا جرم سمجھ نہیں آرہا تھا، ریستوران کے منیجر کو ہماری حالت پر رحم آ گیا، وہ بھاگ کر ہمارے پاس آیا اور ہمیں ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بتایا ” کولن میں خوراک کے ضیاع پر مہم چل رہی ہے۔
ہماری یونیورسٹی کے طالب علموں نے ریسرچ کی دنیا میں روزانہ ہزاروں لوگ بھوک سے مر جاتے ہیں اور لاکھوں لوگ بھوکے سوتے ہیں لیکن کولن شہر میں روزانہ پانچ سو ٹن خوراک ضایع کر دی جاتی ہے، یہ ریسرچ شہر میں “خوراک بچائو” مہم کی بنیاد بن گئی، لوگ ریستوران میں اب صرف اتنا آرڈر دیتے ہیں جتنا یہ کھا سکتے ہیں، شہر میں اضافی خوراک آرڈر کرنا گناہ ہو چکا ہے۔
لوگ میزوں پر کھانا چھوڑ دینے وا لوں کا راستہ روک کرکھڑے ہو جاتے ہیں ” ہم یہ سن کر شرمندہ ہو گئے، میں نے منیجر سے پوچھا “ہم اپنے جرم کا ازالہ کیسے کر سکتے ہیں ” منیجر نے بتایا ” آپ ریستوران میں موجود لوگوں سے معافی مانگیں، آئندہ احتیاط کا وعدہ کریں، یہ خوراک پیک کرائیں اور گلی میں موجود کسی ہوم لیس کو پیش کردیں ” ہم دونوں نے فوراً ہاتھ جوڑے، ذرا سا جھکے، باباجی اور ریستوران میں موجود لوگوں سے معافی مانگی، اپنا بچا ہوا کھانا اپنے ہاتھ سے پیک کیا، ریستوران میں موجود لوگوں کو سلام کیا اور باہر آ گئے۔
یہ جرمنی کا دس سال پرانا واقعہ تھا، جرمن حکومت نے بعد ازاں خوراک ضایع کرنے کے خلاف باقاعدہ قانون بنا دیا، ریستوران میں موجود کوئی بھی شخص، کسی بھی وقت شکایت کر سکتا ہے اور پولیس کھانا ضایع کرنے کے جرم میں اس شخص کو گرفتار کرلے گی، جرمنی کی دیکھا دیکھی فرانس نے بھی 22 مئی 2015ء کو یہ قانون پاس کر دیا، فرانس کے نئے قانون کے مطابق سپر مارکیٹوں اور بڑے ریستورانوں میں کھانا ضایع کرنا جرم بن گیا، یہ بل سوشلسٹ جماعت کے رکن گیولامے گیروٹ نے پیش کیا، گیروٹ کا کہنا تھا، فرانس میں روزانہ ٹنوں کے حساب سے خوراک کچرے میں پھینکی جاتی ہے، یہ ظلم ہے اور اس ظلم کے خلاف قانون بننا چاہیے۔
فرانس کی پارلیمنٹ نے گیروٹ کا بل متفقہ طور پرمنظور کر لیا، فرانس میں اب تمام سپر مارکیٹس، کھانے پینے کی دکانیں اور گروسری اسٹورز اپنی غیر فروخت شدہ اشیاء فلاحی اداروں کو دینے کے پابند ہوں گے، بل کے تحت 4305 مربع فٹ کے حامل تمام اسٹورز جولائی 2016ء سے پہلے فلاحی اداروں سے معاہدے کریں گے بصورت دیگر یہ 75 ہزار یورو تک جرمانہ ادا کریں گے۔
فلاحی ادارے یہ خوراک ضرورت مندوں تک پہنچائیں گے۔ یورپ کے دیگر ممالک بھی ایسی قانون سازی کر رہے ہیں، یہ ممالک خوراک، پانی اور لباس کے ضیاع کو جرم بناتے جا رہے ہیں، قانون سازی کا یہ سلسلہ اگر اسی طرح چلتا رہا تو یورپ میں بہت جلد ایسا وقت آ جائے گا جب خوراک، پانی اور کپڑے ضایع کرنے والے لوگ جیل میں ہوں گے اور یورپ کے لوگ صرف ضرورت کے مطابق خوراک، پانی اور لباس خریدیں گے، یہ مثبت اقدامات ہیں، یہ انسانوں کو انسانیت کی طرف لے جا رہے ہیں، یہ انسان کو انسان کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔
ہم بھی ان رویوں سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں، یہ درست ہے ہماری حکومت، ہمارا سسٹم بہت کمزور ہے، یہ اس نوعیت کے قانون بنا سکے گی اور نہ ہی ان پر عمل کرا سکے گی مگر ہمارا معاشرہ، ہمارے لوگ بہت کچھ کر سکتے ہیں، ہم انفرادی سطح پر خوراک اور پانی دونوں بچا سکتے ہیں، ہم روزانہ ریستورانوں میں منوں کے حساب سے خوراک ضایع ہوتے دیکھتے ہیں، ہم کم از کم یہ خوراک ضرور بچا سکتے ہیں، میرے چند دوستوں نے دس برس قبل کھانا ضایع نہ کریں کلب بنایا، ہم نے فیصلہ کیا ہم جب بھی ریستوران میں کھانا کھائیں گے، ہم فالتو کھانا پیک کرائیں گے اور ہم یہ کھانا پارکنگ لاٹ میں موجود ڈرائیوروں، گلی کے چوکیداروں یا پھر چوکوں اور سڑکوں پر موجود بھکاریوں کو پیش کریں گے۔
ہم لوگ آج تک اس اصول پر کاربند ہیں، میں ایک بار پرویز رشید کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا، میں نے آخر میں کھانا پیک کرایا اور پرویز رشید صاحب کو بتایا، میں جس دن لیٹ گھر جاتا ہوں میری گلی کے چوکیدار کو اس دن یقین ہوتا ہے میں اس کے لیے کھانالے آئوں گا”۔
پرویز رشید نے فوراً وعدہ کیا ” وہ بھی اپنی گلی کے چوکیداروں کا اسی طرح خیال رکھیں گے” میں نے ایک دن فائیو اسٹور ہوٹل میں کھانا پیک کرایا اور ویٹر سے درخواست کی، پارکنگ لاٹ میں میرے مہمان (یہ بھی وزیر تھے) کا ڈرائیور موجود ہے، آپ یہ کھانا اسے دے آئیں، وزیر صاحب نے فرمایا ” میں اس کے کھانے کا خاص خیال رکھتا ہوں، یہ کھانا کھا چکا ہے”۔
میں نے عرض کیا ” لیکن آج یہ فائیو اسٹار ہوٹل کاوہ کھانا کھائے گاجو آپ اور میں نے کھایا، وزیر صاحب بھی مسکرا کر ہمارے کلب میں شامل ہو گئے، ہمارے کلب کے ایک ممبر تحفے میں ملنے والی مٹھائیاں، کیک اور پھل ہمیشہ دفتر کے چپڑاسیوں، سویپرز اور چوکیداروں میں تقسیم کر دیتے ہیں، یہ لوگ یہ ٹوکرے اپنے اپنے گھر لے جاتے ہیں، ہمارے ایک ممبر کے تمام ملازمین غیر ملکی برانڈ کے کپڑے پہنتے ہیں، یہ کپڑے کہاں سے آتے ہیں؟ میرا دوست برانڈڈ کپڑوں کا رسیا ہے، یہ دھڑا دھڑ کپڑے خریدتا ہے، یہ چھ مہینے یہ کپڑے پہنتا ہے اور یہ قیمتی کپڑے بعد ازاں اس کے ملازمین استعمال کرتے ہیں، لاہور میں میرے ایک دوست نے اپنے تمام ملازمین کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی، یہ بچے اعلیٰ اسکولوں میں پڑھے، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کی اور یہ اب اپنے قدموں پر کھڑے ہیں۔
ہمارے ایک ممبر جب بھی کھانے یا پینے کی چیز لیتے ہیں تو یہ دو لیتے ہیں، ایک اپنے لیے اور دوسری سڑکوں کے بھکاری بچوں کے لیے۔ میں نے اس سے ایک دن پوچھا ” تم بھکاری بچوں کو بھیک کے بجائے کھانے کی چیز کیوں دیتے ہو”۔ اس کا جواب تھا “یہ بچے سارا دن بھوکے پیاسے رہتے ہیں، لوگ ان کی آنکھوں کی بھوک پڑھ کر پیسے دیتے ہیں لیکن یہ پیسے ان بچوں کے ٹھیکیدار لے جاتے ہیں، میں ان بچوں کی بھوک کا بندوبست کرتا ہوں “اور ہمارے ایک بزرگ دوست زندگی بھر تین نیکیاں کرتے رہے، یہ سردیوں میں دس رضائیاں بنواتے ہیں، یہ رضائیاں ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیتے ہیں، یہ گرمیوں میں چھ ٹیبل فین خریدتے ہیں اور یہ فین کچی بستیوں میں ان گھروں میں دے آتے ہیں جن میں پنکھا نہیں اور یہ ہفتے میں دو دن چاولوں کے پیکٹ بنواتے ہیں، پیکٹ گاڑی میں رکھتے ہیں اور راستے میں بانٹتے چلے جاتے ہیں، ان کا دعویٰ ہے “یہ تین نیکیاں میری بخشش کے لیے کافی ہیں”۔
یہ ہم عام لوگ ہیں، یہ ہمارے کلب اور کلب کے ممبروں کی چند عادتیں ہیں، ریستورانوں کے مالک خاص لوگ ہوتے ہیں، یہ خاص لوگ اگر مہربانی فرمائیں، یہ شہروں کے غریب علاقوں کے سروے کرائیں، یہ محتاج گھرانوں کی فہرست بنائیں اور یہ گاہکوں کا بچا ہوا کھانا صاف کر کے روزانہ ان گھرانوں کو پہنچا دیں تو یہ نیکی بھی ہو گی اور انقلاب بھی۔
یہ ریستورانوں کے مالکان گاہکوں کو بھی اس نیکی میں شریک کر سکتے ہیں، یہ بروشر بنوائیں اور یہ بروشر مینیو کے ساتھ گاہکوں کو دے دیں، بروشر میں گاہکوں کوبتایا جائے “آپ کا بچا ہوا کھانا کتنے لوگ کھائیں گے” یہ بروشر بھی ایک نیا پاکستان تخلیق کرے گا، ایک ایسا پاکستان جس میں لوگ لوگوں کی خوراک کا بندوبست کریں گے، جس میں کوئی فالتو کھانا، فالتو نہیں ہوگا اور جس میں کوئی بھوکا، بھوکا نہیں سوئے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں