اب وہ کسی کا فون بھی نہیں سنتا .. محمد اسلم خان کھچی ایڈووکیٹ

عمران خان پوری قوت کے ساتھ واپس آ رھا ھے اور بغیر کسی بیساکھی سے طاقتور حکومت بنائے گا .
پرسوں عمران خان نے جیسے ہی دھرنا ختم کیا تو پورے پاکستان میں افواہیں پھیل گئیں کہ کوئی ڈیل ہوئی ھے. کچھ نے تو یہاں تک بھی کہ دیا کہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کی سمری بطور ضمانت صدر کے پاس رکھ دی ھے. میں نے اسی وقت پوسٹ کی کہ کوئی ڈیل نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی ایسی سمری صدر کے پاس پہنچی ھے لیکن میڈیا اس وقت یو ٹیوبرز کی زد میں ھے. لوگ سنسنی پھیلاتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ وائرل ہوں.
لانگ مارچ کی اصل کہانی کچھ اس طرح ھے کہ ملتان جلسہ میں ” وچولے ” کی طرف سے عمران خان سے دو دن کا وقت لیا گیا . عمران خان نے وقت تو دے دیا لیکن اعتبار بلکل نہیں کیا . وہ ملتان سے سیدھے پشاور چلے گئے. اگر وہ اسلام آباد جاتے تو انہیں گرفتار کر لیا جاتا. خدشات درست ثابت ہوئے. اسی رات ہی بنی گالہ پہ ریڈ کیا گیا جبکہ پتہ تھا کہ عمران خان پشاور میں ہیں . اس کے باوجود بھی ریڈ کر کے عمران خان کو میسیج دیا گیا کہ اسلام آباد مت آئیں.
عمران خان ان تین سالوں میں اتنے دھوکے کھا چکے ہیں… خاص طور پہ آخری تین ماہ میں انہیں اتنا بڑا دھوکہ دیا گیا کہ وہ حکومت سے ہاتھ دھو بیٹھے. عمران خان کو ہر پل یقین دلایا گیا کہ حکومت کہیں نہیں جا رھی اور وہ مطمعن رھے. اس وقت ماتھا ٹھنکا جب ایم کیو ایم نے حکومت چھوڑنے کا اعلان کر دیا. تب عمران خان کو پتہ چلا کہ وہ ٹریپ میں آ گئے ہیں اور انہیں بڑی خوبصورتی سے ٹریپ کر کے ہاتھ پاؤں باندھ کے شکاری کے سامنے پھینک دیا گیا ھے.
عمران خان اگر کسی پہ اعتبار نہ کرتے تو یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی… حکومت صرف پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی وجہ سے گئی ورنہ اپوزیشن یا امریکہ میں اتنا دم نہیں تھا کہ حکومت چلی جائے. عمران خان اگر صرف ایم کیو ایم کو ھی قابو کر لیتے تو اس وقت حکومتی حالات کچھ اور ہوتے…. عمران خان کو آخری تین دنوں میں یقین ہوا کہ ان کے ساتھ بڑا دھوکہ ہوا ھے.کوئی اور ہوتا تو اسی وقت حکومت چھوڑ کے گھر چلا جاتا لیکن عمران خان نے سب کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ کیا اور بڑی خوبصورتی کے ساتھ چھپی تمام قوتوں کو ایکسپوز کر کے گھر چلے گئے.
عمران خان کو اس وقت اسٹیبلشمنٹ پہ بلکل اعتبار نہیں. وہ کسی کے جھانسے میں نہیں آ رھے. اسٹیبلشمنٹ میں چاھے عدلیہ ہو, بیوروکریسی ہو, یا ملکی سلامتی کی فورسز ہوں… وہ کسی پہ اعتبار نہیں کر رھے. وہ صرف رزلٹ مانگ رھے ہیں . لانگ مارچ کے دوران بھی انہیں لبھانے کی بہت کوشش کی گئی. بہت فون آئے لیکن اب وہ کسی کا فون بھی نہیں سنتے
لانگ مارچ کیلئے پریس کانفرنس کے دوران ھی انہیں
” وچولے ” کا فون آیا کہ ابھی رک جائیں ورنہ یہ آپ کو ٹریپ کریں گے.
فون کی ٹائمنگ پہ آپ اندازہ لگائیے کہ سب کیمرے آن ہوں. عمران خان پریس کانفرنس کرنے والے ہوں اور پھر اچانک عمران خان ایک فون کال پہ لانگ مارچ کی کال نہ دے تو آپ خود سوچیئے کہ عمران خان کا کیا امیج رہ جاتا… دراصل وہ بھی عمران خان کیلئے ایک ٹریپ تھا جس سے عمران خان بچ گئے.
عمران خان کو یہ یقین تو تھا کہ موجودہ حکومت پکڑ دھکڑ کرے گی رکاوٹیں پیدا کرے گی لیکن یہ یقین بلکل نہیں تھا کہ حکومت بدترین ریاستی تشدد کرے گی.معصوم بچوں اور عورتوں پہ بھی بدترین تشدد کیا جائے گا.
دوسری طرف موجودہ حکومت نے بڑی چالاکی سے گیم پلان کیا. پورے پاکستان میں بدترین حکومتی جبر و تشدد کیا گیا. لاٹھی چارج… شیلنگ… فائرنگ… گاڑیوں کی توڑ پھوڑ…. اور یہ سب باقائدہ منصوبے کے تحت الیکٹرانک میڈیا پہ دکھایا گیا تاکہ لوگوں میں اشتعال پیدا ہو… عمران خان غصہ میں آکے کوئی غلطی کرے…. پوری رات ڈی چوک پہ شیلنگ کی گئی.
دوسری طرف عمران خان کے راستے پہ رکاوٹوں کے پہاڑ کھڑے کیئے گئے..جیسے ہی عمران نے رکاوٹیں عبور کیں تو حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے . عمران خان تمام رکاوٹوں کو عبور کرتا ہوا بالآخر اسلام آباد پہنچ گیا.
آپ ذرا غور کیجئے کہ عمران خان کا قافلہ رات دو بجے اسلام آباد پہنچ سکتا تھا لیکن عمران خان نے بدترین حکومتی تشدد کو دیکھتے ہوئے قافلے کی رفتار سست رکھی کیونکہ وہ نہیں چاھتے تھے کہ رات کی تاریکی میں اپنے کارکنوں کو موت کے منہ میں دے دیں… دوسری طرف موجودہ حکومت نے چالاکی سے تمام فورسز ہٹاتے ہوئے فوج کو Depute کر دیا . حکومت کا خیال تھا کہ جتنا ظلم ہم کر چکے ہیں. لوگ اشتعال میں ہیں اور عمران خان کے ڈی چوک پہنچتے ہی تصادم ہو جائے گا. منصوبہ بہت شاندار تھا لوگ بھی شدید غصے میں تھے. بس چنگاری بڑھکنے کی دیر تھی کہ سب کچھ تباہ ہو جاتا لیکن اس وقت پی ٹی آئی کی قیادت نے بہترین فیصلہ کرتے ہوئے ملک کو ایک بڑے تصادم سے بچا لیا.
میں نے سابقہ کئی کالمز میں لکھا کہ رجیم چینج آپریشن کی غلطی تو سبھی کر بیٹھے ہیں لیکن اب سب پچھتا رھے ہیں اور دلچسپ بات یہ ھے کہ اس وقت سبھی ایک دوسرے کو دھوکہ بھی دے رھے ہیں. ن لیگ اتحادی جماعتوں کو دھوکہ دے رھی ھے… اتحادی ن لیگ کو دھوکہ دے رھے ہیں. زرداری صاحب ق لیگ سے اتحاد بنانے کے چکر میں ہیں… ن لیگ اسٹیبلشمنٹ کو بھی آنکھیں دکھا رھی ھے. مقتدر حلقے شہباز شریف کو کراس کر کے مریم صاحبہ کے ساتھ پینگیں بڑھا رھے ہیں جسکی وجہ سے شہباز شریف صاحب بھی پریشان نظر آتے ہیں اور مریم صاحبہ خوش نظر آتی ہیں. پنجاب میں حمزہ شہباز کی حکومت نہیں بننے دی جا رھی.سبھی ایک دوسرے کو دھوکہ دے رھے ہیں.
کوئی عجب ھی کھیل ھے. کھیل تو سبھی رھے ہیں لیکن رزلٹ کا کسی کو پتہ نہیں.
کسی کو کچھ سمجھ میں نہیں آ رھا کہ اس بند گلی سے کیسے نکلا جائے . رجیم چینج آپریشن سے تمام ریاستی پلرز اپنی قدرو قیمت کھو چکے ہیں. بھلے لوگ ڈر کے مارے بات نہ کریں لیکن لوگوں میں عدلیہ سمیت تمام اداروں کے خلاف شدید غصہ پایا جاتا ھے. لوگ دل برداشتہ ہیں, مایوس ہیں.
عدلیہ کو بھی اپنی حیثیت کا پتہ چل گیا ھے کہ مافیا کیسے کام کرتا ھے. ایک طرف سپریم کورٹ اپنے آرڈرز جاری کر رھی تھی تو دوسری طرف حکومت عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑا رھی تھی . چیف جسٹس صاحبان کو بھی اندازہ ہو گیا ھے کہ جن پہ احسان کیا اب انہی کی وجہ سے وقار کھو بیٹھے ہیں.

عمران خان نے لانگ مارچ ختم کر کے لاکھوں کارکنوں کو ظلم و بربریت سے بچایا اور ساتھ ہی ساتھ فوج کے ساتھ تصادم سے بچایا. عمران خان کے ساتھ خیبر پختون خواہ کے نوجوان تھے جو پہلے ہی ریاستی طاقتوں کے خلاف اکثر غم و غصہ کا شکار رھتے ہیں. اگر تصادم ہو جاتا تو یہ پھر صرف اسلام آباد میں نہیں رھنا تھا بلکہ یہ پورے پاکستان میں پھیل جاتا. لانگ مارچ کا کیا ھے.وہ دوبارہ شروع ہو جائے گا عمران خان تو پہلے ہی ایسی ایکٹیویٹیز کا ماسٹر ھے. میں سمجھتا ہوں لانگ مارچ کی واپسی عمران خان کا بہترین فیصلہ تھا .بہترین لیڈر وھی ہوتا ھے جو اپنے چاھنے والوں کو مشکلات میں نہ ڈالے . چوبیس گھنٹے کے سفر کے بعد اگر شدید گرمی میں لانگ مارچ ختم نہ کیا جاتا تو سینکڑوں لوگ پیاس سے بھی مر سکتے تھے کیونکہ شرکاء کیلئے حکومت کے پاس کوئی پانی کھانا نہیں تھا . صرف شیلنگ اور فائرنگ تھی جبکہ عمران خان کی حکومت کے دوران تمام لانگ مارچوں میں حکومت کی طرف سے بہترین انتظامات کیئے گئے جسکی گواہی تمام میڈیا چینلز دے چکے ہیں.
موجودہ حکومت معاشی فیصلے نہیں کر پا رھی تھی تو انہیں Assurance دی گئی ھے کہ ہم آپ کی پشت پہ کھڑے ہیں آپ معاشی فیصلے کریں. عمران خان آپ کا کچھ نہیں بگاڑ پائے گا اور انہوں نے ایسا کر کے بھی دکھایا یہی وجہ ھے کہ لانگ مارچ کے فوری بعد گورنمنٹ نے دھڑلے سے لوگوں پہ پٹرول بم گرا کے مہنگائی کی نئی لہر کی بنیاد رکھ دی.
بہت سے دوستوں کے دلوں میں یہ سوال اٹھے گا کہ اگر عمران خان رھتا تو اسے بھی تو قیمت بڑھانا پڑھتی…
یہ بلکل غلط ھے. اگر عمران خان رھتا تو شاید قیمت کم تو ہو جاتی. بڑھنی بلکل نہیں تھی. سابقہ حکومت نے 8 ماہ پہلے ہی آئی ایم ایف کو خیر باد کہ دیا تھا . آئی ایم ایف کو خیر باد کہنے کے بعد سابقہ حکومت نے پٹرول کی قیمت فکس کی اور بجلی کی قیمت کم کر دی. اس کا صاف اور سیدھا سادہ مطلب یہ تھا کہ اب ہم مذید آئی ایم ایف کے ساتھ نہیں چلیں گے لیکن اس دلدل سے نکلنے کیلئے کچھ اقدامات تو کرنے تھے. اس لیئے عمران خان نے روس جانے کا فیصلہ کیا جو امریکہ سمیت عمران مخالف طاقتوں کو برا لگا اور عمران خان پاکستان کی بہتری کے چکر میں حکومت سے ہاتھ دھو بیٹھے. عمران خان تو چلے گئے لیکن موجودہ حکومت و اسٹیبلشمنٹ کو بلکل اندازہ نہیں تھا کہ پاکستان اس معاشی دلدل سے کیسے نکلے گا ؟ سب یہی سمجھتے تھے کہ ن لیگ کے پاس بہترین معاشی ٹیم ھے. بڑے کاریگر لوگ ہیں ملک کو سنبھال لیں گے لیکن صوبہ اور وفاق چلانے میں بہت فرق ھے. صوبہ پیسے لیکر صرف خرچ کرتا ھے جب کہ وفاق کو پیسے اکھٹے کرنا ہوتے ہیں…. یہی پہ Miscalculation ہو گئی . اچانک ہی حکومت فلاپ ہو گئی. سب دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے. ایک غلط فیصلے نے ملک کو 50 سال پیچھے دھکیل دیا… اب وہی آئی ایم ایف ھے اور وہی ہم ہیں…
حکومت کو گھر بھیجنے والے بھی پریشان ہیں اور حکومت لانے والے بھی پریشان ہیں کہ اتنی بڑی Miscalculation کیسے ہو گئی ؟
چھوٹی سی انا نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا.
اس وقت ملک اسٹیبل نہیں ھے. حکومت Stable نہیں ھے. کسی بھی وقت ہم ڈیفالٹ کی طرف جا سکتے ہیں . 80 کروڑ ڈالر کی معمولی سی رقم سے معیشت نہیں سنبھلنے والی. سبھی جانتے ہیں کہ معیشت دن بدن گرتی چلی جائے گی. یہ جتنی بھی کوشش کر لیں… جتنے مرضی داؤ آزما لیں. یہ معیشت کو نہیں سنبھال پائیں گے… کبھی کبھی ہم اپنی چھوٹی سی انا کی تسکین کیلئے بندہ مار دیتے ہیں اور پھر ساری عمر جیل میں سڑتے گزار دیتے ہیں. اس بار پاکستان کے ساتھ ایسا ہی کچھ ہوا ھے. اگر خدانخواستہ پاکستان کی معاشی حالت نہ سنبھلی تو 2022 اور 2022 کے کرداروں کو تاریخ بدترین سال کے طور پہ یاد رکھے گی
لوگ سمجھتے ہیں کہ عمران خان ہار مان چکا ھے. ایسا بلکل نہیں ھے. وہ کوئی ڈیل نہیں کر رھا.
اگر کوئی ڈیل ہوتی یا ہار مانتا تو وہ اس وقت بنی گالا میں ہوتا لیکن وہ خیبر پختون خواہ میں بیٹھا ھے. دوبارہ اپنی قوت کو مجتمع کر رھا ھے. لانگ مارچ کے بارے میں کیئے گئے فیصلوں میں کمی کوتاھی پہ نظر ڈال رھا ھے . اس بار وہ نئے انداز سے لانگ مارچ کرے گا. میری اطلاعات کے مطابق اگر پنجاب میں حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ برقرار رھتے ہیں جن کا وزیر اعلیٰ رھنے کا چانس نہ ہونے کے برابر ھے لیکن پھر بھی اگر وہ وزیر اعلیٰ رھتے ہیں تو اس صورت میں پنجاب کو بھی لانگ مارچ میں شامل نہیں کیا جائے گا . پہلے پورے پاکستان کو جام کیا جائے گا اور صرف خیبر پختون خواہ, گلگت بلتستان اور کشمیر کے لوگوں کو اسلام آباد بلایا جائے گا.
لیکن شاید لانگ مارچ کی نوبت ہی نہ آئے. حکومت اپنے ہی بوجھ تلے دب کے گر جائے گی. بدترین معاشی حالت سے ملک میں کبھی استحکام نہیں آ سکتا. یہ بات طے ھے کہ موجودہ حکومت چند ہفتوں کی مہمان ھے. اگر عمران خان کو لانگ مارچ کرنا پڑتا ھے تو لانگ مارچ کے دوران ہی حکومت تحلیل ہو جائے گی
یہ بھی ممکن ھے کہ بجٹ کے بعد حکومت تحلیل کر دی جائے کیونکہ اتنے بڑے فیصلوں کا بوجھ اٹھانا ن لیگ کے بس کی بات نہیں. وہ پہلے ہی اتنا کھو چکی ھے. مذید سکت نہیں.
ساری پارٹیاں الیکشن کی تیاری کر رھی ہیں. زرداری صاحب نے بڑا شاندار Come Back کیا ھے اور زرداری صاحب کی پوری کوشش ھے کہ اگلا الیکشن وہ ق لیگ کے ساتھ اتحاد میں لڑیں . اگر چوہدری برادران راضی ہو جاتے ہیں تو وہ ن لیگ سے اپنے سارے پرانے حساب چکتا کر لیں گے.
میرے پاس کوئی خبر نہیں لیکن موجودہ ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے لگتا ھے کہ جون میں ہی اس حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا. آپ نظر رکھیے گا کہ اگر اوورسیز کے ووٹوں کا معاملہ سپریم کورٹ دبا لیتی ھے تو یوں سمجھئے کہ اگلی حکومت ن لیگ کو دینے کی پوری کوشش کی جائے گی اور اس کیلئے وعدے بھی کیئے گئے ہیں . اس صورت میں عمران خان کو الیکشن میں بڑی خطرناک جنگ لڑنی پڑے گی تب جا کر جیت ممکن ہو گی لیکن اگر سپریم کورٹ موجودہ قانون سازی کو Reverse کر دیتی ھے تو پھر سمجھیئے ن لیگ کے ساتھ بھی ہاتھ ہو گیا ھے. اس صورت میں عمران خان بھاری اکثریت سے دوبارہ حکومت میں آئے گا
ایک بات طے ھے کہ اکتوبر 2022 میں ہی الیکشن ہوں گے. عمران خان ھی اس ملک کا پرائم منسٹر بنے گا. اس بار پی ٹی آئی کے بارے میں تمام اندازے غلط ثابت ہوئے. پی ٹی آئی برگر کلاس سے ترقی کر کے طاقتور جماعت کے روپ میں ابھر کے سامنے آئی ھے جو کسی بھی فسطائی طاقت کا مقابلہ کر سکتی ھے. مر کھا بھی سکتی ھے اور مار بھی سکتی ھے. پولیس نے اگر پی ٹی آئی ورکر کو دھویا ھے تو پی ٹی آئی ورکرز نے بھی گھسیٹ گھسیٹ کے مارا ھے. عمران خان موجودہ ریاستی اقدامات کے خلاف تمام محاذ جیت چکا ھے. وہ عالمی لیڈر کے روپ میں ابھر کے سامنے آیا ھے. 84 فیصد عوام عمران خان کو ہی پرائم منسٹر دیکھنا چاھتی ھے. موجودہ حکومت اس بار جتنے بھی ریاستی ہتھکنڈے استعمال کر لے. عمران خان کو حکومت میں آنے سے کوئی نہیں روک سکتا. میری اطلاع کے مطابق سب نے ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں کہ یہ ہم سے نہیں رکتا اور ریاست کبھی کسی تحریک کو نہیں روک سکتی وقتی طور پہ صرف بند باندھا جا سکتا ھے. گورنمنٹ کی غلطیوں سے عمران خان دن بدن نجات دہندہ کے روپ میں ابھر کے سامنے آ رھا ھے. الیکشن میں اتنے لوگ ووٹ ڈالنے کیلئے نکلیں گے کہ جنکا غلام گردشوں میں رھنے والی طاقتیں اندازہ بھی نہیں کر سکتیں.
لوگ ڈرے ہوئے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو اقتدار میں نہیں آنے دے گی تو انہیں بتا دوں کہ کوئی بھی طاقت عوامی نفرت کا شکار بن کے پاپولر نہیں رہ سکتی. اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ اس کے ساتھ کھڑی ہوتی ھے جس کے جیتنے کا چانس ہو…

اپنا تبصرہ بھیجیں