ہم سب پاکستان کے مجرم ہیں. محمد اسلم خان کھچی ایڈووکیٹ

میں نے بہت سے دوستوں کے اصرار پر سیاست پہ لکھنا چھوڑ دیا تھا. دوست روحانیت پہ مبنی آرٹیکل پڑھنا چاھتے ہیں. دوست سمجھتے ہیں کہ میری روحانیت کےٹاپک پہ گرفت کافی مضبوط ھے . مجھے خود بھی روحانیت پہ لکھنا بہت بھاتا ھے کیونکہ کچھ خاص لمحوں میں لکھے گئے چند الفاظوں کا مجموعہ کبھی کبھی مجھے بھی حیران کر دیتا ھے کہ ایسے الفاظ کہاں سے آئے…

لیکن آج میں بہت تکلیف میں ہوں. میری سمجھ میں کچھ نہیں آرھا کہ میرے پاک وطن کو دو ماہ میں ھی
” لیر و لیر ” کر دیا گیا ھے . تقسیم ہند کے وقت کتنے لاکھ لوگ در بدر ہوئے.. کتنی ماؤں نے اپنے زندہ معصوم بچے بہتی نہروں میں پھینک دیئے. میں نے چشم دید گواہوں کہ منہ سے ایسی خوفناک و ہولناک داستانیں سنی ہیں کہ روح کانپ اٹھتی ھے.. عزتیں لٹیں, معصوم بچیاں تار تار کر کے تہہ و تیغ کر دی گئیں, نسلیں تبدیل ہوئی, مسلمان بچیوں کے پیٹ میں ہندوؤں سکھوں کے بچے پنپنے لگے لیکن رسول اللہ ﷺ کے عاشقوں نے ہار نہ مانی اور قدرت کے پراسرا راز کی تخلیق ” لا الہ الا اللہ ” کے نام پہ وجود میں آنے والی عرض پاک ” پاکستان ” قائم ہو گئی .ریاست پاکستان کی تشکیل رسول اللہ ﷺ کے احکامات کی تعمیل بھی تھی. بڑے بڑے ولی اللہ صاحبان سے سنا ھے کہ رسول اللہ ﷺ قائد اعظم محمد علی جناح کو اپنی کچہری میں پیارسے
” میرے سپاھی ” کے نام سے پکارا کرتے تھے
یہ ” میرے سپاہی ” کے لقب کا ہی اثر تھا کہ انہوں نے جان لیوا مرض ٹی بی چھپائے رکھی ورنہ کون اس طرح قربان ہوتا ھے. اقتدار و طاقت کے لالچ میں بلاآخر انہیں بھی شہید کر دیا گیا. یہ پاکستان کی بربادی کی پہلی اینٹ تھی.

آج پاکستان کے حالات دیکھ کر بے ساختہ میرے آنسو بہہ نکلے. حیران ہوں کہ کسی ایک انسان کی انا اتنی بڑی بھی ہو سکتی ھے کہ وہ پاک سر زمین میں بسنے والے 22 کروڑ لوگوں کی زندگیاں جہنم بنا دے… یہ وطن تو رب تعالیٰ نے عطا ھے . اس جنت نظیر بستی کو چند لوگوں نے جہنم بنا دیا ھے.

عمران خان نے 2018 میں ملک سنبھالا تو اس وقت ملک کی حالت بڑی وگرگوں تھی. حالات اتنے سنگین تھے کہ الیکشن سے پہلے مفتاح اسماعیل نے ایک میٹنگ میں جنرل باجوہ صاحب سے کہا تھا کہ سر دعا کریں کہ اگلا الیکشن ن لیگ نہ جیتے کیونکہ ہم نے اکانومی کا بیڑہ اتنا غرق کر دیا ھے کہ آئندہ حکومت تین سال تک سمجھ ہی نہیں پائے گی کہ معیشت کے ساتھ ہوا کیا ھے ؟ میٹنگ میں موجود تمام افراد مسکراتے رھے. یہ بات اینکر عمران ریاض صاحب بھی اپنے ایک وی لاگ میں بتا چکے ہیں.

عمران خان نے حکومت سنبھالی اور اسد عمر کو وزیر خزانہ مقرر کر دیا. اسد عمر نے بہت محنت کی. وہ IMF کے پاس نہیں جانا چاھتے تھے شاید وہ کامیاب ہو بھی جاتے لیکن سازشیں زور پکڑنے لگیں. ترین صاحب کسی کے اشارے پہ حرکت میں آئے اور اسد عمر کو اسٹیبلشمنٹ, ترین گروپ اور پرنسپل سیکریٹری کے دباؤ پہ وزارت کے منصب سے ہٹا دیا گیا. ترین صاحب مکافات عمل کا شکار ہوئے اور اب سیاست میں ان کا نام و نشان تک مٹ چکا ھے.

اسد عمر کے بعد عمران خان اور اسکی ٹیم نے دن رات محنت سے ملک کو ترقی کے ٹریک پہ چلایا اور ملک دو ہی سالوں میں تنزلی سے ترقی کی جانب گامزن ہو گیا.
عمران خان نے کورونا سے بھی جنگ لڑی اور اپنے ملک کے بچوں کو بھی بچایا. منفی اعشاریے مثبت میں تبدیل ہوتے گئے. معیشت پروان چڑھنے لگی. جی ڈی پی گروتھ 5.97 تک پہنچ گئی لیکن پھر کہیں عمران خان سے صاحب بہادر کی شان میں گستاخی ہو گئی اور آنا فانا سب کچھ ملیامیٹ کر دیا گیا.

آج ملک کی یہ حالت ھے کہ بچہ بچہ بھوک پیاس سے بلک رھا ھے. مجھے آج دلی تکلیف پہنچی ھے کہ پٹرول و ڈیزل کی بے تحاشہ قیمتیں بڑھنے کے بعد ملکی حالات اتنے سنگین ہو جائیں گے کہ جان بچانے کے لالے پڑ جائیں گے.
ہم ہر بات کو مذاق میں ٹال دینے کے عادی ہیں فیول پرائسس میں اتنا بڑا اضافہ کوئی مذاق کی بات نہیں.. اس کے اثرات اتنے سنگیں ہوں گے کہ جس کا آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے. غریب تو بیچارہ موت کے قریب ھے لیکن اب بڑے پیٹ والوں کی باری آ گئی ھے. 22 کروڑ آبادی میں صرف چند لاکھ لوگ ہی ہوں گے جو متاثر نہیں ہوں گے باقی تمام عوام شدید متاثر ہو گی

مجھے زیادہ پریشانی اس بات کی ھے کہ آئندہ سال کیا ہو گا… ہم گندم چاول سبزیاں کہاں سے لائیں گے. ہمارے ملک میں نہری پانی کی شدید کمی ھے. کسان ٹیوب ویل سے پانی حاصل کرتا ھے. مہنگی بجلی یا مہنگے ڈیزل سے کیا اگائے گا. 40 سال کے بعد کسان بیچارے نے سکھ کا سانس لیا تھا. ہر سیزن کی بمپر کراپ ہوئی اور وہ بیچارہ کچھ خوشحال ہوا لیکن اب کیا ہو گا. وہ اتنا مہنگا ڈیزل کیسے خریدے گا. ڈیزل کی قیمت کا بڑھنا ڈائریکٹلی ملکی معیشت پہ اثر انداز ہوتا ھے. زندگی کا ہر پہیہ ڈیزل پہ انحصار کرتا ھے. بجلی, ٹرانسپورٹ, پانی, ٹیوب ویل, کنسٹرکشن غرض یہ کہ زندگی ہی ڈیزل پہ انحصار کرنے لگی ھے. پٹرول کی قیمت بڑھ جائے تو لوگ مینیج کر لیتے ہیں لیکن ڈیزل کی قیمت میں بے پناہ اور اچانک اتنا بڑا اضافہ ملک کی جڑیں ہلا کے رکھ دیتا ھے.

عمران خان نے کورونا کے دوران بہت بڑا رسک لیکر کنسٹرکشن انڈسٹری کو ریلیف دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ملک اپنے پاؤں پہ کھڑا ہو گیا کیونکہ کنسٹرکشن انڈسٹری ہی وہ واحد انڈسٹری ھے جو کسی بھی ملک کی ترقی کا زینہ ثابت ہوتی ھے. آپ کو شاید اندازہ نہیں. .کنسٹریکشن انڈسٹری کے ساتھ 100 سیکٹرز جڑے ہیں اور کروڑوں لوگوں کو روزگار ملتا ھے. میرا اپنا تعلق چونکہ اسی انڈسٹری سے ھے. میں نے بہت کوشش کی کام کو جاری رکھ پاؤں لیکن آج کے ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد یہ ممکن ہی نہیں کہ میں پراجیکٹ جاری رکھ سکوں. اب آپ خود اندازہ لگائیے کہ کتنے خاندان اجڑیں گے… کتنے لوگ بیروزگار ہوں گے… کتنے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوں. کتنے بچے بھوک سے بلکیں گے. آپ یقین مانیئے آجکل لوگ ذرا ذرا سی بات پہ رو پڑتے ہیں. یہ صرف میرا حال نہیں ھے بلکہ پورے پاکستان کا حال ھے.
یہاں پہ آپ کو چھوٹا سا واقعہ سناتا ہوں. ہمارے سیکٹر میں جمعہ کی چھٹی ہوتی ھے. لوگ جمعرات کو پیسے لیتے ہیں اور گھر چلے جاتے ہیں. ہم 5 سے 7 تاریخ تک تنخواہ بجھوا دیتے ہیں. پچھلے جمعہ مبارک 10 جون کو کہیں جا رھا تھا کہ راستے میں موجود کیمپ آفس کا کھلا گیٹ دیکھ کے اندر چلا گیا. ایک سیکیورٹی گارڈ اور ایک ٹریکٹر ڈرائیور موجود تھا. ٹریکٹر ڈرائیور پہ مجھے حیرانی ہوئی کہ یہ گھر کیوں نہیں گیا. میں نے پوچھا تو جھجکتے جھجکتے بتاتے ہوئے رو پڑا کہ خان صاحب گھر آنے جانے کا 1200 کرایہ لگتا ھے. کسی کے ہاتھ پیسے بھیج دیئے ہیں. اب اگلے ماہ ہی جاؤں گا.
میرا دل کٹ کے رہ گیا.
یا خدا… اچانک کتنے مجبور, بے بس ہو گئے ہیں ہم.. دن رات جانوروں کی طرح کام کر کے ہم اپنے بچوں کو دیکھنے تک بھی نہیں جا سکتے.. فاصلہ بھی کچھ زیادہ لمبا نہیں ھے لیکن ہم اتنے بے کس ہیں کہ بچے ہماری شکل تک نہیں دیکھ پاتے. ماں کبھی دس روپے کی چینی پانی میں گھول کے بچوں کو پلا دیتی ھے تو کبھی مرچوں کی چٹنی بنا دیتی ھے…
کل ایک ویڈیو نظر سے گزری تو کانپ اٹھا.. ایک باپ 5 بچوں کو سامنے بٹھا کے ایک ایک چمچ جتنی چینی بچوں کے ہاتھ پہ رکھتا ھے. روٹی کی چنگیروں میں کچھ ٹکڑے پڑے ہیں. دو بچوں کو شاید زیادہ بھوک لگتی ھے. وہ روٹی پہلے ختم کر لیتے ہیں تو مجبور باپ ان کی انرجی بحال کرنے کیلئے ایک ایک چمچ چینی دیتا ھے. جیسے ہی وہ لمحات سامنے آتے ہیں تو لرز اٹھتا ہوں کہ بروز قیامت ان میں سے کوئی بچہ مجھے ہی نہ پہچان لے… کہ یہی ھے وہ ظالم انسان… جسے نے ہمارے حصے کا رزق کھایا تھا.

اچھا خاصا ملک ترقی کر رھا تھا. ہر آدمی خوش تھا. بے گھروں کو گھر مل رھے تھے. بیروزگاروں کو روزگار مل رھا تھا. مزدور کو مزدوری مل رھی تھی. پاکستان کی تاریخ میں عمر رسیدہ بچیوں کی ریکارڈ شادیاں ہوئی کیونکہ کسان نے بہت عرصے بعد کچھ رقم دیکھی تھی. کنسٹریکشن کے ساتھ آٹو موبائل انڈسٹری کی شاندار ترقی دیکھی گئی. موٹربائکس کی تاریخی ریکارڈ سیل ہوئی. لاکھوں کی تعداد میں چھوٹی بڑی گاڑیاں سڑکوں پہ نظر آئیں کہ اچانک سب کچھ زمین بوس ہو گیا.

وزیر خزانہ ترین صاحب ہمیشہ پاکستان کی فلاح کیلئے کام کرتے رھے ہیں. ذاتی طور پہ جانتا ہوں. بہت نیک اور ایماندار انسان ہیں. اپنے شعبے میں ماہر ترین تصور کیے جاتے ہیں. ہر پارٹی میں وزیر خزانہ رہ چکے ہیں. کسی کو ان سے کوئی عناد نہیں…
تین ہفتے پہلے ان سے ملاقات ہوئی تو کافی غمزدہ تھے. میں نے کہ دیا سر… آپ کو تو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے. آپ تو ہر پارٹی میں رھے ہیں
اچانک ان کے چہرے کے تاثرات بدلے اور گھور کے میری طرف دیکھا.
مسٹر اسلم… میں نے زندگی میں عمران خان جیسا درد مند, Committed, Deadly Honest انسان نہیں دیکھا. وہ کہنے لگے کہ کبھی کبھی میں خود ہی حیران ہو جایا کرتا تھا جب وہ سطح غربت سے نچلے درجے پہ رھنے والوں کی تکلیفوں پہ بریفنگ دیتے تھے.

ترین صاحب فرمانے لگے کہ عمران خان نے ٹارگیٹ مقرر کر رکھا تھا کہ ہم اس سال میں زرمبادلہ کے ذخائر 30 ارب ڈالر تک لے جائیں گے اور اگلے سال 50 ارب ڈالر کا ٹارگیٹ مقرر کر رکھا تھا… عمران خان صاحب کی بڑی خواہش تھی کہ اگر ہم 50 ارب ڈالر کا ٹارگیٹ Achieve کر لیتے ہیں تو ہم IMF کے چنگل سے نکل جائیں گے. اس بات پہ عمران خان بہت خوش بھی تھے اور Confident بھی.

میں نے پوچھا…. سر کیا ممکن تھا ؟

بلکل ممکن تھا برخوردار…

تمام ممالک ہم پہ بے پناہ اعتماد کرنے لگے تھے. اگر وہ صرف ہماری دو ادائیگیوں میں ہی مدد کر دیتے تو ہم ہر صورت میں یہ ٹارگیٹ Achieve کر جاتے. 22.5 ارب ڈالر تک تو ہم پہنچ چکے تھے. ٹیکسٹائل سیکٹر تیس سال کے بعد عروج کی طرف جا رھا تھا. سعودی عرب, قطر, یو اے ای, چائنہ, رشیا, ملائیشیا, ترکی, ایران سمیت سب اسلامی ممالک یہی چاھتے تھے کہ کسی طرح پاکستان اس چنگل سے نکل جائے کیونکہ واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے ان کی بقا پاکستان کی سلامتی پہ منحصر ھے . وہ مدد اس لیئے بھی کرنے کو تیار تھے کیونکہ 5 دہائیوں بعد پاکستان کو ایماندار حکمران ملا تھا اور تمام لوگ اس پہ بے پناہ اعتماد کرتے تھے.
یہ سب کہتے ہوئے وہ بہت آزردہ تھے

میں نے پوچھا کہ اگر عمران خان کی حکومت آ جاتی ھے تو پھر آپ کیسا دیکھتے ہیں. کیا یہ ٹارگیٹ Achieveکر لیں گے.
کہنے لگے مشکل ھے لیکن ناممکن نہیں… مضبوط حکومت ہونے کی صورت میں اپریل 2022 کے لیول تک آنے میں ہمیں دو سال لگیں گے. بگڑے تعلقات بحال کرنے پڑیں گے. اعتماد بحال ہو گا. انڈسٹری چلے گی. ایکسپورٹ بڑھیں گی تو تبھی ڈالر نیچے آ ئے گا لیکن موجودہ حالات میں وہ پاکستان کے مستقبل سے مایوس تھے.

میں نے چھبتا ہوا سوال کیا… سر اگر آپ اتنے مخلص ہیں تو آپ ان کے ساتھ کام کر لیں کیونکہ آپ تو پاکستان کیلئے کام کرتے ہیں.

انہوں نے عجیب سا جواب دیا…
مسٹر اسلم. پہلی بات تو یہ ھے کہ میں موجودہ سسٹم میں Uncomfortable رھوں گا کیونکہ میں عمران خان جیسے انسان کے ساتھ کام کر چکا ہوں اور دوسری بات یہ ھے کہ یہ لوگ مجھے کام کرنے ہی نہیں دیں گے اور مجھے ناکام کریں گے اور کہیں گے کہ
….دیکھیں جی …. ہم نے تو وزارت خزانہ پی ٹی آئی کے حوالے کر دی تھی. انہوں نے پہلے ھی ملک کو اتنا تباہ کیا ھے کہ اب خود ان سے نہیں سنبھلا جا رھا.دراصل وہ کوئی آفر نہیں تھی بلکہ ایک ٹریپ تھا

ان کی یہ بات میرے دل کو لگی کہ واقعی انہوں نے انکار کر کے درست فیصلہ کیا ھے.

رجیم چینج آپریشن کا کون ذمہ دار ھے اب اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں کیونکہ جو ہونا تھا وہ ہو چکا. ملک تباہ ہو چکا ھے. ( میرے منہ میں خاک ) لیکن یہ سچ ھے اور ہمیں اس حقیقت کو قبول کرنا پڑے گا . میں سمجھتا ہوں کہ اس ملک کی تباہی میں ہم سب شریک ہیں. عمران خان نے لانگ مارچ کی کال دی. ہم باہر ہی نہیں نکلے. وہ بیچارہ اکیلا 67 سال کا آدمی لڑتا رھا. انسو گیس کے شیل کھاتا رھا. وہ ہماری جنگ لڑتا رھا لیکن ہم سوشل میڈیا پہ بیٹھ کے نعرے لگاتے رھے. تماشہ دیکھتے رھے اور کسی معجزے کے انتظار میں رھے. بالآخر وہ 25 گھنٹے کی سخت مشقت , اذیت جھیلتا ہوا واپس چلا گیا. اگر ہم اسی دن صرف اظہار یک جہتی کیلئے ہی باہر نکل آتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے .. میں نے ہمیشہ لکھا کہ کوئی ڈیل نہیں ہوئی لیکن یو ٹیوبرز بضد رھے کہ ڈیل ہو گئی ھے. یہ ہو جائے گا. وہ ہو جائے گا. کچھ نہیں ہوا

عمران خان اپنے ہی دم پر تمام طاقتوں سے جنگ لڑ رھا ھے اور انشا ء اللہ اگر اس کی زندگی نے وفا کی تو وہ جلد ہی کامیابیاں سمیٹے گا.

ملک کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے آج یہ کہا جا سکتا ھے کہ ملک اب عمران خان کے علاوہ کوئی نہیں سنبھال سکتا.
ایسا نہیں ھے کہ عمران خان کوئی مافوق الفطرت انسان ھے
چشم زدن میں سب ٹھیک کر دے گا
لیکن مجھے یقین ھے کہ اب بھی وقت ھے. عمران خان کی قیادت میں ملک سنبھل جائے گا کیونکہ پوری قوم عمران خان پہ اعتماد کرنے لگی ھے. ایک نفسیاتی اعتقاد ھے لوگوں کا
لوگ اسے اپنا مسیحا ماننے لگے ہیں کہ یہی ان کے درد کا مداوا کر سکتا ھے. لوگ روکھی سوکھی کھا لیں گے اور اچھے وقت کا انتظار کریں گے. محنت کریں گے. عمران خان کی قیادت میں مایوس نہیں ہوں گے.عمران خان کی قیادت میں لوگ امید کا دامن پکڑے صبر کر لیں گے ورنہ اگر یہی حالات رھے تو پھر ملک خون ریزی کی طرف جا رھا ھے. لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رھا ھے. بھوک سارے رشتے مٹا دیتی ھے. انسانیت اور بھوک کا آپس میں دور دور تک کوئی رشتہ نہیں. بجائے اس کے کہ ہم اس سنگین وقت کا شکار ہوں. بہتر یہی ھے کہ غلطی کا ازالہ کر دیا جائے تو ہم بہت بڑے بحران سے بچ سکتے ہیں.
یہ میری اپنی لاجک ھے. آپ کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں.
میری نظر میں ان کڑے حالات میں عمران خان ملک اور قوم کو بچا سکتا ھے اور یہ وقت کی اہم ضرورت ھے. اس معاشی و بدمعاشی بحران سے نکلنے کا واحد حل الیکشن ہیں. اس وقت کوئی کچھ بھی کر لے. دنیا جہاں کے ماہرین بلا لے. ملک نہیں سنبھلے گا بلکہ ہر گزرتا لمحہ بھاری پڑے گا جو کہ مسلسل پڑ رھا ھے. ہر آنے والا دن ملک کو مذید گہرائیوں میں دھکیل رھا ھے.
یہ ملک اب اس وقت سنبھلے گا جب قوم کسی پہ اعتماد کرتے ہوئے محنت کرے گی اور اس وقت عمران خان ھی وہ واحد شخصیت ھے جس پہ قوم اعتماد کر سکتی ھے .
اللہ رب العزت میرے ملک پاکستان کی حفاظت فرمائے.
اسے شئر ضرور کر دیجئے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں