یونیورسٹی آف اوکاڑہ۔۔۔ کچھ ادھوری خواہشیں۔۔ عابد لاشاری

جہاں میری قبر میں میرے ساتھ بہت سی خواہشیں اتاری جائیں گی وہاں یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں پڑھنے کا خواب بھی ریزہ ریزہ کر کے میرے پہلو میں دفنایا جائے گا۔۔ انسانی خواہشیں لامحدود ہیں اور انسانی زندگی بالکل مختصر مزید پڑھیں

توہین مذہب کا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ محمد ناصر صدیقیمذہبی عبادت گاہیں ہمیشہ سے مقدس رہی ہیں ۔ دنیا کے ہر معاشرے میں تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کی حرمت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ انسانی تاریخ میں جب بھی کسی فاتح نے کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ کا تقدس پامال کیا ، دنیا کے ہر مورخ نے اس عمل کی بھیانک تصویر ہی قاری تک پہنچائی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذہبی عبادت گاہیں اور دیگر مقدسات ، انسانی جذبات کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں ۔ ان کا تقدس پامال ہونے سے انسان کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی مذہب نے دوسرے مذہب کی مقدسات کا تقدس پامال کرنے کی اجازت نہیں دی ۔ تاہم جہلم میں 6 مارچ 2021 کو اپنی نوعیت کا ایک عجیب واقعہ پیش آیا جس نے ہزاروں انسانوں کے جذبات کو بری طرح مجروح کیا ۔ یہاں کسی ایک مذہب کے ماننے والوں نے دوسرے مذہب کے ماننے والوں کے خلاف کاروائی نہیں کی بلکہ یہ ایک ہی مذہب کے ماننے والے دو دھڑے تھے ۔ اس واقعے سے قبل تاریخ کے ایک سرسری جائزہ سے معاملے کو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ 1874 میں مشنری کی جانب سے شولوم سنٹر جہلم کی پراپرٹی کو خریدا گیا ۔ برصغیر میں اس طرح کی دیگر بہت سی پراپرٹیز خریدی گئی تھی جہاں یہ عیسائی طبقہ اپنی مذہبی رسومات ادا کرتا تھا۔ اس کے بعد UCNI یعنی یونائیٹڈ چرچ آف نادرن انڈیا کے پلیٹ فارم پہ ان سب کو یکجا کیا۔ 1932 کے اندر لاہور چرچ کونسل رجسٹر کروائی جاتی ہے جس کا اپنا میمورنڈم ہوتا ہے اس کے اندر اپنی مشاورتی کونسل جس کے پاس فتوی دینے کا اختیار ہوتا ہے ، وجود میں آئی جو اب تک جاری ہے۔ اس کونسل کی ذمہ داری تھی کہ وہ ان تمام پراپرٹیز کی دیکھ بھال کرے اور پیدا ہونے والے مسائل کا حل نکالے۔ تاہم 1971 میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ۔ اس دوران حکومت نے دیگر پراپرٹیز کے ساتھ لاہور چرچ کونسل کے زیر انتظام تمام پراپرٹیز کو بھی قومیا لیا ۔ جس کے خلاف عدالت میں کیس ہوا ۔ چھے سال بعد لاہور چرچ کونسل نے یہ کیس جیت لیا اور یہ سب پراپرٹیز دوبارہ اس کے زہر انتظام آ گئیں ۔ اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ نے بغاوت کی جس کو PCUSA کا نام دیا گیا ۔ 1983 میں اس گروہ نے UNIC کے بجائے اپنی ملکیت کا دعوی کیا۔ ان لوگوں نے دستاویزات تیار کروائیں اور تب سے یہ ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ شولوم سنٹر جہلم کو اہم سماجی حیثیت حاصل ہے۔ 1874 میں باقی پراپرٹیز کی طرح بورڈ آف فارن مشنری نے اسے خریدا تو سب سب سے پہلے اسے ہسپتال کی شکل دی گئی ۔ اس کے بعد اس کے خرچے پورے کرنے کے لیے ایک کانفرنس ہال بنایا گیا۔ تاہم نائن الیون کے واقعے کے بعد یاں باہر سے کانفرنسز آنا بند ہو گئیں ۔ اس کے بعد شولوم سینٹر کے پاس فنڈنگ انتہائی کم رہ گئے۔ جس کے بعد باہمی مشاورت سے طے پایا کہ اسے ہر قسم کی تقریبات کے لیے کھول دیا جائے ۔ اس کے بعد یہاں سیاسی جلسے ، مذہبی تقریبات جیسے مسلمانوں کی جانب سے محرم اور عید میلاد النبی کی تقریبات اور شادی اور موت کی رسومات ادا ہونے لگیں ۔ کیونکہ یہ مسلمانوں کی اکثریت ہے لہذا ان کی تقریبات شروع ہونے سے مالی مسائل بالکل ختم ہو گئے۔ اب 1892 سے تمام چرچ UCNI کے زیر انتظام ہیں ۔ اس کی سینٹ ، مشاورتی کونسل ہے جبکہ لاہور چرچ کونسل پراپرٹیز کے معاملات دیکھتا ہے لیکن PCUSA اس پہ اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے جبکہ اس کا وجود ہی شولوم سنٹر کی خریداری کے سات سال بعد کا ہے ۔ ان دونوں گروہوں میں بنیادی فرق یہ ہےکہ PCUSA ہم جنس پرستی کا قائل ہے اور ایسی پراپرٹیز میں ہم جنس پرست جوڑوں کی شادی کی اجازت دیتا ہے جبکہ UCNI ایسے عمل کے سخت خلاف ہے کیونکہ ان کی مذہبی کتابوں کے مطابق یہ شرعا ممنوع ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور چرچ کونسل اس گروہ کے خلاف ہے۔ یہ گروہ پاکستان کا نہیں ہے اور نہ ہی یہاں آفیشلی رجسٹرڈ ہے ۔ اس کے باوجود پیسے اور طاقت کے زور پر ایسی پراپرٹیز کو ہتھیا لیتا ہے۔ ہم جنس پرستی کی قائل تنظیموں اور این جی اوز ان کی فنڈنگ کرتے ہیں ۔ کسی بھی الہامی کتاب میں ہم جنس پرستی کی اجازت نہیں۔ بائبل مقدس کے اندر سات مقامات پر ہم جنس پرستی کی مذمت کی گئی ہے۔ چھے مارچ ان لوگوں نے اسی طرح شولوم سنٹر پہ حملہ کیا اور قبضہ کر لیا۔ شولوم سنٹر کے مالکان کا دعویٰ ہے کہ ان لوگوں نے وہاں موجود مذہبی مقدسات کی توہین کی۔ بائیبل کے نشانات اور روح القدس کی بشارت کی توہین کی گئی اور مقدس نشانات کے پوسٹر پھاڑ کر پھینکے گئے جس سے وہاں موجود عیسائی ابادی نے احتجاج کیا۔ ان کے جذبات سخت مجروح ہوئے ہیں۔ اسلام آباد() یونائیٹڈ چرچ آف پاکستان کے سینئر ایڈوائزر سید غلام اکبر جعفری نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ حکومت کلیسیائی املاک پر بااثر مافیاء کے ناجائز اور زبردستی قبضے کو ختم کرائے اور صلیب، روح القدس کی علامت، بائبل مقدس کے عکس، تصاویراور ناموں کی بے حرمتی میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں، نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یونائیٹڈ چرچ آف پاکستان کے سینئر ایڈوائزر سید غلام اکبر جعفری کا کہنا تھا کہ مکروہ عقائد کا ایک گروہ جس کا سرغنہ جوزف رابرٹ نامی شخص ہے نے پاکستان اور کشمیر میں موجود کلیسیائی املاک پر زبردستی ناجائز طور پر قبضے کرنے شروع کر رکھے ہیں، یہ املاک متحدہ کلیسیاء پاکستان کو متحدہ کلیسیاء ہند سے ورثے میں ملی تھیں جن کو مذکورہ گروہ فرضی اور جعلی دستاویزات بنا کر زبردست قبضہ کر لیتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اس گروہ نے گذشتہ ماہ چھ مارچ کو ایک فراڈ اور جعلی ڈگری کی بنیاد پر سیشن کورٹ جہلم حکم امتناعی کے باوجود پولیس اور استاف کی ملی بھگت سے اسلحہ کے زور پر چرچ پر قبضہ کر لیا ہے، جبکہ اس دوران زونل ایڈوائزر آفس اور ایڈمنسٹریٹر کی رہائش گاہوں سے سامان لوٹنے کے ساتھ ساتھ متحدہ کلیسیاء پاکستان پر چھی ہوئی مقدس صلیب، روح القدس کی علامت، بائبل مقدس کے عکس، تصاویر اور ناموں کو پھاڑنے اور انکی بے حرمتی کی گئی ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقدس اشیاء کی بے حرمتی کرنے پر واقعہ میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے اور قبضہ گروپ سے ہماری مذہبی جائیدادیں واپس دلوائی جائیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔ قارئین عیسائی بھی پاکستان کا سرمایہ ہیں ۔۔یہاں موجود ہر شہری چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب ، فرقے ، رنگ یا نسل سے ہو ، پاکستان کےلیے اہم ہے ۔ حکومت پاکستان کو اس سنجیدہ مسئلے پہ خود ایکشن لینا چاہیے اور کے آئی ٹی بنانی چاہیے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں اس پورے معاملے پر ہئرنگ ہونی چاہیے ۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ سارے معاملے کی جانچ کرے ۔ چھوٹے چھوٹے شہروں میں اٹھنے والے یہ سنجیدہ اور احساس مذہبی مسائل آگے چل کر پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے سکے ہیں جس سے فرقہ ورانہ اختلاف کے باعث فسادات چھڑ سکتے ہیں۔ جب ایک تنظیم حکومت پاکستان کے زیر انتظام رجسٹر ہے تو پھر حکومت کی ذمہ داری ہے ہے کہ وہ اس کا تحفظ یقینی بنائے ۔ تمام مذہبی مقامات کا تحفظ یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے ۔ اگر پاکستانی حکومت نے بروقت اس کا تدارک نہ کیا تو یہ مسئلہ انٹرنیشنل میڈیا تک چلا جائے گا اور پاکستان میں اقلیتوں کے عدم تحفظ کے نام پر پاکستان کی بدنامی ہو گی ۔ مذہب ایک احساس معاملہ ہے ۔ لوگوں کے جذبات سے سے زیادہ مذہب کے نام پر مجروح ہوتے ہیں۔ لہذا اس مسئلے کو سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے ۔

مذہبی عبادت گاہیں ہمیشہ سے مقدس رہی ہیں ۔ دنیا کے ہر معاشرے میں تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کی حرمت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ انسانی تاریخ میں جب بھی کسی فاتح نے کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ مزید پڑھیں

“جب میں ناکام ہوجاتی ہوں تو میں کیا کرتی ہوں” انوشہ بلوچ

جیسا کہ مائیکل اردن نے کہا“میں ناکامی کو قبول کرسکتا ہوں ، ہر کوئی کسی چیز میں ناکام ہوجاتا ہے۔ لیکن میں کوشش کرنا قبول نہیں کرسکتا ہوں۔”تو ہاں میں اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرتی ہوں لیکن میں یہ جھوٹ مزید پڑھیں

ہمارا مضحکہ خیز مائنڈ سیٹ اور بیمار رویّے .. حسن نثار

میں کئی سینئر بیوروکریٹس سے مختلف لفظوں میں ایک ہی بات کئی بار سن چکا ہوں، ذرا غور فرمایئے…. ’’بس جی ریٹائرمنٹ میں ….. ..سال رہ گئے ہیں، اس کے بعد ہمیں کس نے پوچھنا ہے‘‘۔قارئین! یہ جملہ نہیں ہمارا مزید پڑھیں

ایک اور سانحہ ماڈل ٹاؤن ۔۔۔۔ تحریر محمد ناصر صدیقی

2010 میں ڈاکٹر طاہر القادری کے طالبان کے خلاف بیان کے بعد سے عدالت سے منظوری لیکر طاہرالقادری کی رہائش گاہ اور منہاج القرآن انٹرنیشنل کے مرکزی سیکرٹریٹ کے باہرموجودرکاوٹیں لگائیں گئیں۔ چار سال بعد 2014 میں جب طاہر القادری مزید پڑھیں